نواز شریف کی رہائی۔۔ انصاف یا ڈیل ۔۔ نوراللہ

مریم نواز اور ن لیگ کے متوالوں کی دعائیں قبول ہوئیں اور نواز شریف کی ضمانت منظور ہو ہی گئی-

 

عدالت اور سیاست کے افق پر چھایا ایک طوفان بظاہر تھمنے کو ہے اور نوازشریف کی رہائ ایک طرف تو ن لیگ کے لئے اطمینان کا سبب ہے لیکن دوسری طرف “ڈیل یا ڈھیل” کا الزام بھی شدومد کے ساتھ سامنے آرہا ہے اگرچہ اس میں میں بڑا کردار حکومتی شخصیات کا ہے جو اس حکومت کی تشکیل کے فوری بعد سے میاں برادران سمیت اپوزیشن کے زیر عتاب رہنماؤں کو ڈیل یا ڈھیل نہ دینے کے نعرے بلند کئے ہوئے ہیں- ضرورت اس امر کی تھی کہ حکومتی عہدیدار احتساب کے عمل کی غیر جانبداری ثابت کرنے کے لئے عدالتوں اور دیگر متعلقہ اداروں کو خود مختاری سے کام کرنے دیتے لیکن ان کی مسلسل بیان بازی نے احتساب کے عمل کو مشکوک بنا دیا-

نوازشریف کے خلاف جتنے بھی کیسز بنائے گئے ان پر عدالت میں ہونے والی کاروائی کا مشاہدہ کر ے والے جانتے تھے کہ یہ کیسز انتہائ کمزور ہیں اور اعلی عدالتوں میں جب شواہد اور حقائق کی جانچ ہوگی تو نواز شریف کو ریلیف ملنے کے امکانات زیادہ ہیں-

سزا کی معطلی کی درخواست تو سپریم کورٹ میں زیرالتوا تھی ہی کہ میاں نواز شریف کی طرف سے طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست بھی دائر کردی- آئینی ماہرین کا خیال تھا کہ طبی بنیادوں پر ضمانت جلد ہی مل جائے گی- اس دوران نوازشریف کی صحت بھی مسلسل زیربحث رہی – میاں نواز شریف کو پہلے سروسز ہسپتال اور بعد ازاں جناح ہسپتال لاہور منتقل کیا گیا لیکن اسی دوران ان کی ضمانت کی ایک درخواست مسترد ہونے پر نوازشریف اپنی مرضی سے علاج جاری رکھنے کی بجانے واپس ہسپتال منتقل ہوگئے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بگڑتی ہوئ صحت کے باوجود کوئ علاج نہیں کرائیں گے- ن لیگ کا موقف رہا ہے کہ حکومت میاں صاحب کے علاج کی بجائے ان کی تضحیک کررہی ہے-

میاں نواز شریف کی صحت کے حوالے سے میڈیکل بورڈز تشکیل پاتے رہے رپورٹس آتی رہیں، حکومت ان رپورٹس کی بنیاد پر نوازشریف کی صحت کو تسلی بخش قرار دیتی رہی تو دوسری طرف ن لیگ میاں نواز شریف کی جان کو لاحق خطرات کے بیانات دیتی رہی- حکومت دباؤ میں آگئی تھی اور جیل میں میاں صاحب کے لئے امراض قلب کا موبائل یونٹ قائم کردیا گیا اور نوازشریف کو علاج کے لئے اپنی مرضی کے معالج بلانے کی پیشکش بھی کی لیکن اسی دوران “ڈیل” کی افواہیں گردش کرتی رہیں اگرچہ ن لیگ ہمیشہ کسی ڈیل کی تردید کرتی رہی اور حکومت کا موقف بھی یہی رہا بلکہ پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو نے بھی نواز شریف سے جیل میں ملاقات کے بعد کسی قسم کی ڈیل کے امکان کی تردید کی لیکن حکومت کی طرف سے بار بار کوئی “ڈیل یا ڈھیل” دینے سے انکار نے اس سوچ کو تقویت دی کہ شاید حکومت پر ڈیل کے لئے کوئ دباؤ ہے دوسری طرف نوازشریف اور مریم نواز کی معنی خیز خاموشی معاملے کو مشکوک بناتی رہی اس حوالے سے جب 23 مارچ کو سوشل میڈیا پر موجود ن لیگ کے حامیوں نے نوازشریف کےلئے جیل کے باہر احتجاج کا پروگرام بنایا تو ن لیگ کی قیادت نے اور خود مریم نواز نے ان کو احتجاج سے سختی سے منع کیا اگرچہ سینکڑوں لوگ احتجاج کے لئے جمع ہوئے لیکن اس دن پیشی پر آئ مریم نواز نے ملاقات کے بعد احتجاج کرنے والوں کا سامنا کرنے کی بجائے متبادل راستے سے خاموشی سے نکلنے کو مناسب جانا-

اب نواز شریف کو 6 ہفتے کے لئے ضمانت مل گئی ہے لیکن ابتدائی اطلاعات کے مطابق وہ پاکستان سے باہر نہیں جاسکتے لیکن امید ہے کہ عدالت سے دوبارہ رجوع کرنے پر یا شاید حکومت کی طرف سے “انسانی ہمدردی” کی بنیاد پر نوازشریف کو علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت مل جائے اور نوازشریف لندن روانہ ہوجائیں-

پاکستان کے کہانی قسط نمبر 41

کارگل جنگ کے آخری دنوں کی سنسنی خیز کہانی

پاکستان کی کہانی قسط نمبر 39

واجپائی کی آمد اور کارگل کی آہٹ

پاکستان کی کہانی قسط نمبر 38

جب نواز شریف نے آرمی چیف سے استعفیٰ لیا

انقلابِ فرانس قسط نمبر 2

روٹی نہیں ملتی تو کیک کھائیں

چائنہ کی کہانی قسط نمبر 11 (آخری قسط)

چین ایک نئی طاقت، ایک نئی دنیا کی تعمیر

وہ کون تھا؟ قسط نمبر 11

پیوٹن جاسوس سے صدر کیسے بنا؟

چائنہ کی کہانی قسط نمبر 10

ون بیلٹ ون روڈ کا آغاز

وہ کون تھا؟ قسط نمبر 10

محمد علی کون تھا؟ محمد علی عظیم ترین باکسر کیسے بنا؟

وہ کون تھا؟ قسط نمبر 9

صلاح الدین ایوبی کون تھے؟ بیت المقدس کیسے فتح ہوا؟

چین کی کہانی قسط نمبر 9

چینی ٹینکوں کو روکنے والا ٹینک مین کون تھا؟

نواز شریف کی رہائی۔۔ انصاف یا ڈیل ۔۔ نوراللہ

مریم نواز اور ن لیگ کے متوالوں کی دعائیں قبول ہوئیں اور نواز شریف کی ضمانت منظور ہو ہی گئی-

 

عدالت اور سیاست کے افق پر چھایا ایک طوفان بظاہر تھمنے کو ہے اور نوازشریف کی رہائ ایک طرف تو ن لیگ کے لئے اطمینان کا سبب ہے لیکن دوسری طرف “ڈیل یا ڈھیل” کا الزام بھی شدومد کے ساتھ سامنے آرہا ہے اگرچہ اس میں میں بڑا کردار حکومتی شخصیات کا ہے جو اس حکومت کی تشکیل کے فوری بعد سے میاں برادران سمیت اپوزیشن کے زیر عتاب رہنماؤں کو ڈیل یا ڈھیل نہ دینے کے نعرے بلند کئے ہوئے ہیں- ضرورت اس امر کی تھی کہ حکومتی عہدیدار احتساب کے عمل کی غیر جانبداری ثابت کرنے کے لئے عدالتوں اور دیگر متعلقہ اداروں کو خود مختاری سے کام کرنے دیتے لیکن ان کی مسلسل بیان بازی نے احتساب کے عمل کو مشکوک بنا دیا-

نوازشریف کے خلاف جتنے بھی کیسز بنائے گئے ان پر عدالت میں ہونے والی کاروائی کا مشاہدہ کر ے والے جانتے تھے کہ یہ کیسز انتہائ کمزور ہیں اور اعلی عدالتوں میں جب شواہد اور حقائق کی جانچ ہوگی تو نواز شریف کو ریلیف ملنے کے امکانات زیادہ ہیں-

سزا کی معطلی کی درخواست تو سپریم کورٹ میں زیرالتوا تھی ہی کہ میاں نواز شریف کی طرف سے طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست بھی دائر کردی- آئینی ماہرین کا خیال تھا کہ طبی بنیادوں پر ضمانت جلد ہی مل جائے گی- اس دوران نوازشریف کی صحت بھی مسلسل زیربحث رہی – میاں نواز شریف کو پہلے سروسز ہسپتال اور بعد ازاں جناح ہسپتال لاہور منتقل کیا گیا لیکن اسی دوران ان کی ضمانت کی ایک درخواست مسترد ہونے پر نوازشریف اپنی مرضی سے علاج جاری رکھنے کی بجانے واپس ہسپتال منتقل ہوگئے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بگڑتی ہوئ صحت کے باوجود کوئ علاج نہیں کرائیں گے- ن لیگ کا موقف رہا ہے کہ حکومت میاں صاحب کے علاج کی بجائے ان کی تضحیک کررہی ہے-

میاں نواز شریف کی صحت کے حوالے سے میڈیکل بورڈز تشکیل پاتے رہے رپورٹس آتی رہیں، حکومت ان رپورٹس کی بنیاد پر نوازشریف کی صحت کو تسلی بخش قرار دیتی رہی تو دوسری طرف ن لیگ میاں نواز شریف کی جان کو لاحق خطرات کے بیانات دیتی رہی- حکومت دباؤ میں آگئی تھی اور جیل میں میاں صاحب کے لئے امراض قلب کا موبائل یونٹ قائم کردیا گیا اور نوازشریف کو علاج کے لئے اپنی مرضی کے معالج بلانے کی پیشکش بھی کی لیکن اسی دوران “ڈیل” کی افواہیں گردش کرتی رہیں اگرچہ ن لیگ ہمیشہ کسی ڈیل کی تردید کرتی رہی اور حکومت کا موقف بھی یہی رہا بلکہ پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو نے بھی نواز شریف سے جیل میں ملاقات کے بعد کسی قسم کی ڈیل کے امکان کی تردید کی لیکن حکومت کی طرف سے بار بار کوئی “ڈیل یا ڈھیل” دینے سے انکار نے اس سوچ کو تقویت دی کہ شاید حکومت پر ڈیل کے لئے کوئ دباؤ ہے دوسری طرف نوازشریف اور مریم نواز کی معنی خیز خاموشی معاملے کو مشکوک بناتی رہی اس حوالے سے جب 23 مارچ کو سوشل میڈیا پر موجود ن لیگ کے حامیوں نے نوازشریف کےلئے جیل کے باہر احتجاج کا پروگرام بنایا تو ن لیگ کی قیادت نے اور خود مریم نواز نے ان کو احتجاج سے سختی سے منع کیا اگرچہ سینکڑوں لوگ احتجاج کے لئے جمع ہوئے لیکن اس دن پیشی پر آئ مریم نواز نے ملاقات کے بعد احتجاج کرنے والوں کا سامنا کرنے کی بجائے متبادل راستے سے خاموشی سے نکلنے کو مناسب جانا-

اب نواز شریف کو 6 ہفتے کے لئے ضمانت مل گئی ہے لیکن ابتدائی اطلاعات کے مطابق وہ پاکستان سے باہر نہیں جاسکتے لیکن امید ہے کہ عدالت سے دوبارہ رجوع کرنے پر یا شاید حکومت کی طرف سے “انسانی ہمدردی” کی بنیاد پر نوازشریف کو علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت مل جائے اور نوازشریف لندن روانہ ہوجائیں-

بیورکریسی کیا ہے؟

عمران خان کے سامنے بیورکریسی کے تین چیلنجز کیا ہیں؟

کیا بھٹو آج بھی زندہ ہے ؟ نوراللہ

آج سے 91 سال قبل پیدا ہونے والا ذوالفقار علی بھٹو اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار کے طعنے سنتا ہوا عوامی انداز میں حکومتی تخت کا حقدار بنا اور پھر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا-

کیا حکومت ٹی وی چینلز اور اخبارات کو بند کرنا چاہتی ہے؟ نور اللہ

میڈیا کو ریاست کے ایک اہم ستون کا درجہ حاصل ہے اور اسے قائم رکھنے کےلئے حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہوتی ہے

“جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا” پسند کی گاڑی اور جیل۔ نور اللہ

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 24 دسمبر 2018 کو ایک مرتبہ پھر قید, جرمانے اور نااہلی کی سزا سنا دی گئی-

وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی، دکھاوا یا حقیقت؟ نور اللہ

انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدوں میں سے ایک وعدہ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنا تھا جس کو عملی شکل دینے کےلئے

برٹش ائرویز کی فلائٹس اور پی آئی اے کا مستقبل۔ نور اللہ

گزشتہ روز برٹش ایئرویز نے پاکستان کے لئے اپنی پروازوں کے آغاز کا اعلان کیا تو مبارک بادوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔۔

01 صدر کتنا طاقتور ہوتا ہے؟

صدرِ پاکستان کی طاقت کیا ہے اور اس کے پاس کتنے اختیارات ہوتے ہیں؟

حکومت بننے سے قبل بنی گالہ میں کیا چل رہا ہے؟

حکومت بننے سے قبل بنی گالہ میں کیا چل رہا ہے؟ کیا ہوں گی ترجیحات عمران خان کی؟ حقائق سامنے آنے لگے

کل کائنات قسط نمبر 2

جہاں سورج مغرب سے نکلتا ہے

وہ کون تھا؟ قسط نمبر 8

اربوں ڈالرز کی فلمیں بنانے والے کی داستان

کل کائنات قسط نمبر 1

چاند پر کس کا نام لکھا ہے؟

انسانی دماغ کا پراسرار پہلو۔۔۔ پلاسیبو ایفیکٹ

کیا آپ نے کبھی پلاسیبو افیکٹ کے بارے میں سنا ہے۔ یقینا بہت کم لوگوں نے اس کے بارے میں سنا ہوگا۔

وہ انسان جو مگرمچھ (crocodile) کھاتے ہیں

مگر مچھ دنیا کا خطرناک ترین شکاری جانور سمجھا جاتا ہے۔ یہ پانی کے اندر سے ہی اپنے شکار پر جھپٹتا ہے

عورت جسے 13 سال تک شیشے کے کیبن میں بند رہنا پڑا

سپین کے شہر کیڈیز کی ایک خاتون جوانا مونوز گذشتہ 13 سال سے شیشے کے ایک کیبن میں قید ہے۔

جانور جو انسان کے ہاتھوں ختم ہونے والے ہیں

جنگلی حیات کے ماہرین کا دعوی ہے کہ 1970 سے لیکر اب تک 58فیصد جنگلی حیات میں کمی ہوئی ہے ۔ اگر انسان کا رویہ اس زمین کے ساتھ یہی رہا تو اگلی کچھ دہائیوں میں بہت سے ایسے جانور ناپید ہوجائیں گے

اب گھر بھی پرنٹ ہوں گے

مستقبل میں گھر مستری اور مزدور نہیں بلکہ تھری ڈی پرنٹرتیار کیا کریں گے۔ جی ہاں اب دنیا بھر میں یہ نیا ٹرینڈ زور پکڑ رہا ہے اور اس کے لیے مختلف کمپنیوں میں مقابلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔

اب ہر گھر میں سورج چمکے گا

امریکہ میں ایک ایسا روبوٹ تیار کیا گیا ہے جو سورج کی روشنی کو گھر کے مختلف کمروں میں منتقل کر کے گھرمیں دن کا سماں کر دیتا ہے اور یوں عام بجلی استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔

ٹائیفائیڈبخار:امریکی ادارےCDC نے پاکستان کوخبر دار کردیا

امریکی محکمہ صحت سی ڈی سی نے پاکستان کے ادارہ صحت کو خبر دار کیا ہےکہ ٹائیفائیڈکے مریضوں پر کسی بھی

انسانی دماغ کا پراسرار پہلو۔۔۔ پلاسیبو ایفیکٹ

کیا آپ نے کبھی پلاسیبو افیکٹ کے بارے میں سنا ہے۔ یقینا بہت کم لوگوں نے اس کے بارے میں سنا ہوگا۔

سگریٹ نوشی چھوڑ کر کیا ملے گا؟

سگریٹ نوشی چھوڑنے سے آپ کو کیا فائدے حاصل ہوں گے۔

ہمیشہ جوان رہنے والوں کی6 عادات

ہر انسان کی یہ اذلی خواہش رہی ہے کہ وہ بڑھتی عمر کے باوجود نوجوان دکھائی دے۔ جوان لگنے کا ایک مصنوعی طریقہ تو کاسمیٹکس سے متعلق ہے جبکہ دوسرا طریقہ فطری ہے

سو سال سے زیادہ عمر پانے والے لوگوں کا جغرافیہ

بلیو زونز دنیا کے وہ مقامات ہیں جہاں دنیا کے سب سے زیادہ صحت مند،خوش اور طویل عمر پانے والے لوگ رہتے ہیں۔

خوش ملکوں کی صف میں پاکستان کی 75ویں پوزیشن

عمومی طور پر ملکوں کی خوشحالی کو ماپنے کا معیار گراس ڈومیسٹک پراڈکٹ کو قرار دیا جاتا ہے لیکن گذشتہ ایک دہائی میں ملکوں کی خوشحالی کا معیار خوشی کو بنانے کی ایک باقاعدہ تحریک جاری ہے۔

خوبصورت رنگت کیلئے بہترین کریم کون سی ہے؟

Which Cream Is Best To Get Glowing Skin? Skin Specialist Dr Iqbal

رنگ گورا کرنے والی کریموں کے 3 بُرے اثرات

Top 3 Side effects of whitening beauty creams by Skin Specialist Dr Muhammad Iqbal

Scroll to top