بھارت کتنا طاقتور ہے ؟

بھارت کتنا طاقتور ہے ؟

بھارت دنیا میں ہندو مذہب کا سب سے بڑا ملک ہے۔ لیکن آبادی کے لحاظ سے بھی دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ چین کی آبادی ایک ارب چالیس کروڑ جبکہ بھارت کی آبادی ایک ارب 33 کروڑ سے زیادہ ہے۔ بھارت کی سب سے بڑی طاقت اور کمزوری دونوں اس کی آبادی ہی ہیں۔ آبادی اس قدر زیادہ ہے کہ پوری دنیا میں جہاں جائیں آپ کو ہندوستانی مل جائیں گے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بھارت وہ ملک ہے جس کے سب سے زیادہ باشندے بیرون ملک آباد ہیں۔ اس وقت ڈیڑھ کروڑ سے زائد ہندوستانی بیرون ملک رہتے ہیں جنہیں نان ریذیڈنٹ انڈین یا این آر آئی کہا جاتا ہے۔ بھارت کے بعد میکسیکو دوسرے نمبرپر ہے جس کے ایک کروڑ بیس لاکھ شہری بیرون ملک آباد ہیں۔ لیکن دوسری طرف بھارت میں زیادہ آبادی کی وجہ سے بجلی، پانی، تعلیم حتیٰ کہ ٹوائلٹ سمیت صحت کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں بھی مشکلات پید اہو رہی ہیں۔ زیادہ آبادی کی وجہ سے ہی بھارت کے عام شہریوں کی سال بھر کی ایوریج انکم سولہ سو چودہ ڈالر ہے جبکہ بنگلہ دیش کی انکم سولہ سو دس ڈالر اور پاکستان کی سولہ سو انتیس ڈالر ہے۔ دفاعی لحاظ سے دیکھیں تو بھارت کے پاس دنیا کی چوتھی سب سے بڑی فوج ہے۔ امریکہ، چین سعودی عرب اور روس کے بعد بھارت وہ ملک ہے جو اپنی جنگی طاقت پر سب سے زیادہ پیسہ خرچ کرتا ہے

۔ بھارت کا ڈیفنس بجٹ 52.5ارب ڈالر یا اٹھاون کھرب چھے ارب پاکستانی روپے ہے۔ یہ رقم امریکی ڈالروں میں بیالیس ارب ڈالر سے زائد ہے جبکہ پاکستانی روپوں میں یہ رقم سینتالیس کھرب روپے سے زیادہ بنتی ہے۔ صرف حوالے کے لئے بتا دیں کہ پاکستان کا ڈیفنس بجٹ دس کھرب روپے سے بھی کم ہے۔ عالمی طاقتوں کی رینکنگ میں بھارت پانچویں نمبر پر ہے جبکہ چین تیسرے اور پاکستان گیارہویں نمبر پر ہے۔

جنوبی ایشیا میں بھارت بارہ لاکھ فوج کے ساتھ دوسری بڑی جنگی طاقت ہے۔ بھارت کے ہمسائیہ ممالک میں پاکستان کے پاس چھے لاکھ بیس ہزار اور چین کے پاس تئیس لاکھ ایکٹو فوج ہے۔ بھارتی فضائیہ کے پاس چھے سو چھہتر لڑاکا طیارے بھی ہیں۔ جبکہ پاکستان کے پاس تین سو ایک جبکہ چین کے پاس ایک ہزار دو سو تہتر جدید لڑاکا طیارے ہیں۔ بھارت اپنا زیادہ تر اسلحہ روس، امریکہ یا اسرائیل سے خریدتا ہے۔ اس کےعلاوہ وہ اپنے ملک کے اندر بھی جدید اسلحہ تیار کرتا ہے۔ بھارت نے پرتھوی، اگنی اور آکاش میزائل بھی تیار کئے۔ بھارت کے پاس اپنا تیار کردہ میزائل دفاعی نظام بھی موجود ہے۔ بھارت نے ہل تیجا طیارے بھی بنائے ہیں جن کے متعلق بھارتی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستانی جے ایف سیونٹین کی ٹکر کے طیارے ہیں۔ بھارت کے پاس دو ائرکرافٹ کیریئرز بھی ہیں۔ جبکہ ایک ائرکرافٹ کیریئر آئی این ایس وشال کی تیاری پر کام جاری ہے۔ یہ ائرکرافٹ کیریئر جوہری ایندھن سے چلے گا اور اس پر پینتیس لڑاکا طیاروں اور بیس ہیلی کاپٹروں کے کھڑا ہونے کی گنجائش ہو گی۔ اس ائرکرافٹ کیریئر کی موجودگی سے بھارت خطے کی بڑی بحری قوت بن کرابھرے گا۔ بھارت کو اسلحے میں خودکفیل کرنے کے لیے بھارت ڈائنامکس، بھارت الیکٹرانکس، جی آر ایس ای اور آرڈیننس فیکٹریز بورڈ جیسے ادارے بھی دن رات کام کر رہے ہیں۔ تاہم بڑی فوجی طاقت کے باوجود بھارت کو داخلی سطح پر ابھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مشرق میں ماؤ نواز باغی جبکہ مغرب میں کشمیر میں کشیدگی کی وجہ سے بھارتی فورسز مسلسل حالت جنگ میں رہتی ہیں۔ بھارت دنیا کی چھٹی ایٹمی طاقت بھی ہے۔ بھارت کے پاس ایک سو بیس کے قریب جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ بھارتی حکومت اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافہ کرنے کی منصوبہ بندی بھی کررہی ہے۔

بھارت کی معاشی طاقت کو دیکھیں تو یہ دنیا کی دسویں بڑی معیشت ہے اور جی ٹوئنٹی ممالک میں شامل ہے۔ اس کا جی ڈی پی بائیس سو ارب ڈالر ہے۔ بھارتی معیشت کی طاقت اس کی زراعت اور تیزی سے ترقی کرتی آئی ٹی انڈسٹری ہے۔ بھارتی فلم انڈسٹری بالی ووڈ بھی بھارت کی انکم بڑھانے اور انٹرنیشنل لیول پر بھارت کے کلچر کرپروموٹ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بھارت دنیا کی سب سے پرانی تہذیبوں میں شامل ہے۔ تاریخی عمارتوں، خوبصورت وادیوں اور رِچ کلچر کی وجہ سے بھارت سیاحوں کے لیے جنت بن چکا ہے۔ مغل شہنشاہ شاہ جہاں کا تعمیر کردہ تاج محل تومحبت کی علامت کے طور پردنیا بھر میں بھارت کی پہچان ہے۔ ہرسال ایک کروڑ کے قریب فارن ٹوئرسٹ چھٹیاں منانے بھارت آتے ہیں۔ سیاسی طور پر بھارت کے تعلقات امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ بہت اچھے ہیں۔ لیکن چین اور پاکستان سے بہتر تعلقات کا خواب ابھی پورا نہیں ہوا۔ بھارت سلامتی کونسل کامستقل رکن اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت چاہتا ہے۔ ان دونوں معاملات میں اسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے تاہم ہمسائیہ ممالک سے خراب تعلقات اس کی راہ میں فی الحال رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

بھارت عالمی سطح پرایک اہم معاشی اور فوجی طاقت ہے۔ اس میں یہ پوٹینشل ہے کہ وہ انٹرنیشنل معاملات میں اپنا کردار ادا کرسکے۔ لیکن اس کے لیے اسے اپنی آبادی پر کنٹرول کرنے، ہمسائیہ ممالک سے تعلقات بہتر بنانے اور تجارتی ایکٹیویٹیز بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top