جاپان کی طاقت کا راز کیا ہے؟

جاپان کی طاقت کا راز کیا ہے؟

دوسری جنگ عظیم سے پہلے تک جاپانیوں کو دنیا کی سب سے جنگجو قوم سمجھا جاتا تھا۔ لیکن دوسری جنگ عظیم میں اکتیس لاکھ جانیں گنوانے کےبعد جاپان نے ایک سبق سیکھا۔ اس نے اپنے آئین میں تبدیلی کی اور لکھا کہ جاپانی قوم دنیا میں کسی بھی تنازعے کے حل کے لیے جنگ کے حق سے ہمیشہ کے لیے دستبردار ہوتی ہے۔یہی نہیں انیس سو ساٹھ میں ایک قدم اور آگے جا کر امریکہ اور جاپان میں ایک ڈیل ہوئی۔ جس کے مطابق اگر جاپان کو کبھی بھی کوئی خطرہ لاحق ہو گا تو امریکہ جاپان کی حفاظت کرے گا۔ان دونوں واقعات کے بعد جاپان نے اپنی ساری توجہ اپنے علم، تحقیق، سائنس اور معیشت کی طرف دی اور اپنے دفاع کے بجٹ کو کم کیا۔ یہی اعتماد ہے جس کی وجہ سے جاپان اپنے دفاع پر جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد خرچ کرتا ہے اور اس کی فوج کی تعداد محض اڑھائی لاکھ ہے۔

جاپان اپنے دفاع پر جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد بجٹ خرچ کرتا ہے اور اس کی فوج کی تعداد محض اڑھائی لاکھ ہے۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جاپان اپنے دشمنوں کیلئے ایک ترنوالہ بن چکا ہے۔ کیونکہ قوموں کی طاقت صرف گولہ بارود سے نہیں ہوتی۔ جاپان اپنا سب سے زیادہ بجٹ ٹیکنالوجی کی ڈویلپمنٹ اور سائنسی ایجادات پر خرچ کرتا ہے۔ یہ چیزیں جاپان کو طاقت دیتی ہیں۔ گو کہ جاپان کے پاس دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور فوج نہیں ہے لیکن اس کی ٹیکنالوجی اور سائنس میں مہارت اتنی زیادہ ہے کہ وہ جب چاہے جدید ترین اسلحے سے لیس ایک فوج تیار کر سکتا ہے۔ تاہم جب بھی جاپان اپنی فوجی طاقت میں اضافے کا سوچتا ہے تو عوام اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ کیونکہ جاپانیوں کے خیال میں انہیں فی الحال کسی بڑی اور طاقتور فوج کی ضرورت نہیں ہے۔

جاپان کا جی ڈی پی چھے ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے جو امریکہ کے سولہ اور چین کے آٹھ ٹریلین ڈالر کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔ یعنی جاپان دنیا کی تیسری بڑی معاشی طاقت ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں جاپانی کمپنیوں مٹسوبشی، کاواساکی اور ٹوشیبا کا لوہا پوری دنیا میں مانا جاتا ہے اور دنیا کی کوئی جدید ترین ٹیکنالوجی ایسی نہیں جس کا کوئی نہ کوئی پارٹ جاپان میں تیار نہ ہوتا ہو یا اس ٹیکنالوجی کے ماہرین وہاں کام نہ کرتے ہوں۔ معاشی لحاظ سے جاپان کتنا طاقتور ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگائیں کہ اقوام متحدہ کے کل بجٹ کا گیارہ فیصد جاپان ادا کرتا ہے۔ جو کہ امریکہ کے بعد سب سے بڑی رقم ہے جو اقوام متحدہ کے لیے کوئی ملک خرچ کرتا ہے۔

کسی ملک کی طاقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ اس کے اپنے ہمسائیہ ممالک کے ساتھ تعلقات کیسے ہیں اور تنازعات کس نوعیت کے ہیں۔ گو کہ جاپان کے چین، تائیوان اور روس سے تنازعات ہیں لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد ان میں سے کوئی ایک تنازعہ بھی خونی رنگ اختیار نہیں کر سکا۔ چین اور تائیوان کے ساتھ جاپان کا آٹھ جزائر کا تنازعہ بہت اہم ہے۔ جاپان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے یہ جزائر دوہزار بارہ میں ایک ذاتی ملکیت سے خریدے تھے۔ تاہم چین جاپان کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ آٹھوں جزیرے تاریخی طور پر چینی ریاست کی ملکیت ہیں اور کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہو سکتے۔

عالمی امور کے بعض ماہرین کے مطابق یہ تنازعہ اتنا خوفناک ہے کہ اس سے تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ تاہم جاپان اب تک اس مسئلے کو تحمل سے ڈیل کرتا آیا ہے اور اس مسئلے کے دوران اب تک کوئی ایک بھی گولی نہیں چلی اور ایک بھی انسانی جان ضائع نہیں ہوئی۔

تو لب لباب یہ کہ جاپان دنیا کی ایک بڑی فوجی طاقت تو نہیں لیکن دنیا کی ایک بہت بڑی سیاسی اور معاشی طاقت ضرور ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top