لاڑکانہ میں ایڈز کا مرض حقائق کیا ہیں؟ نوراللہ

لاڑکانہ میں ایڈز کا مرض حقائق کیا ہیں؟ نوراللہ

سندھ میں بھٹوز کے آبائی  شہر لاڑکانہ کے گاؤں رتوڈیرو سے لوگوں کے ایڈز کے مرض میں مبتلا ہونے کی خبریں آنا شروع ہوئیں تو ذہن میں عجیب وسوسے پیدا ہونے لگے- مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھتی گئی اور اب یہ تعداد 600 سے زیادہ ہے-

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان مریضوں میں بچوں کی تعداد 500 سے زیادہ ہے- حکومت سندھ نے ایڈر کے ان مریضوں کے لئے ایک فنڈ کے قیام اور مریضوں کو تمام عمر ادویات اور علاج کی فراہمی کا اعلان کیا ہے اور وفاقی حکومت بھی تحقیقات اور مریضوں کی امداد کے وعدے کررہی ہے لیکن یہ وعدے ان سینکڑوں مریضوں کی دکھوں کا مداوا نہیں کرسکتے جو بیگناہ اس موذی مرض کا شکار ہو گئے ہیں – معصوم بچوں سمیت ایڈز کے شکار یہ لوگ تمام عمر ادویات کھائیں گے اور قابل رحم زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے- چند سال قبل سرگودھا کے قریب ایک گاؤں میں بھی ہم ایسے بھیانک حالات کا سامنا کر چکے ہیں

تحقیقات کے نتائج تو جانے کب آئیں لیکن صحت اور علاج معالجے کی سوجھ بوجھ رکھنے والے جانتے ہیں کہ ایڈز اور ہیپاٹائٹس کے پھیلنے کی بڑی وجوہات ایک ہی سرنج کا بار بار استعمال انتقال خون اور جنسی بےراہ ر وی ہیں- رتوڈیرو کے معاملے میں جہاں ایڈز کے مرض کے شکار 80 فیصد سے زائد کم عمر بچے ہیں وہاں غالب امکان ہے کہ یہ بیماری استعمال شدہ سرنجوں سے انجکشن لگانے کی وجہ سے پھیلی ہے- چھوٹے شہروں اور دیہات وغیرہ میں غیر مستند ڈاکٹروں کی بڑی تعداد موجود ہے جو تقریباً ہر مریض کو انجکشن ضرور لگاتے ہیں اور ایسے ہی مقامات پر ایک ہی سرنج کے بار بار استعمال کا امکان زیادہ ہے- عطائ ڈاکٹروں کی لاعلمی اور جہالت اور کچھ واقعات میں ڈگری یافتہ ڈاکٹر بھی لاپرواہی یا چند روپوں کی لالچ میں معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں-

پاکستان جیسے ملک میں جہاں شرح خواندگی انتہائی کم اور غربت کی شرح انتہائ بلند ہے حکومت کو لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے خصوصی مہم چلانا ہوگی کہ وہ صرف مستند ڈاکٹروں سے علاج کروائیں اور جب بھی انجکشن لگوانا ہو تو نئی ڈسپوزایبل سرنج ہی استعمال کریں کیونکہ یہ معمولی سا خرچ ان کی زندگیوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے- وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا یہ بھی فرض ہے کہ ملک کے ہر کونے میں سرکاری سطح پر علاج معالجے کی سہولت مہیا کی جائے تاکہ غریب عوام جو نجی ہسپتالوں کا خرچ برداشت نہیں کرسکتے وہ بھی محفوظ اور صھت مند زندگی گزار سکیں- اگر حکومت بنیادی مراکز صحت، دیہی مراکز صحت، تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں ڈاکٹروں سمیت مکمل عملے اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے تو نہ صرف لوگوں کے صحت کے حوالے سے مسائل حل ہوں گے بلکہ صحت مند افراد کے ساتھ ہمارا ملک ترقی کے سفر پر گامزن ہوگا-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top