پاکستان کی کہانی قسط نمبر 11

پاکستان کی کہانی قسط نمبر 11

 

جنرل ضیا کے دور میں سعودی عرب میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے اسلامی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہواکچھ  یوں کہ نومبر 1979میں پانچ سو کے قریب مسلح افراد نے نمازفجر کے وقت خانہ کعبہ پرقبضہ کر لیا۔ سعودی فوجی دستوں نے خانہ کعبہ کو بازیاب کرانے کے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ اس کوشش میں سعودی فوج کا بھاری جانی نقصان بھی ہوا۔ مجبوراً  سعودی حکومت نے پاکستان اور فرانس سے مدد کی درخواست کی۔ پاکستان سے ایس ایس جی کمانڈوز کو خانہ کعبہ کی حفاظت کیلئے بھیج دیا گیا۔ دو ہفتے کی مسلسل جدوجہد کے بعد خانہ کعبہ کو حملہ آوروں سے آزاد کروا لیا گیا۔ حملہ کرنے والوں کے سربراہ جہیمان التعیبی کو ساٹھ ساتھیوں سمیت زندہ پکڑا گیا۔ پاک فوج کی اس کامیاب کارروائی کے بعد سعودی عرب اور پاکستان میں دفاعی تعاون بہت بڑھ گیا۔ دوسری طرف مسلم دنیا میں ضیاالحق کو ایک ہیرو کی طرح دیکھا جانے لگا۔ آج بھی اسلامی دنیا میں پاک فوج کو مقامات مقدسہ کی حفاظت کرنے والی فوج کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

جہاں یہ واقعہ ضیاالحق کو ہیرو بناتا ہہے تو وہیں سیاچن پر بھارتی قبضے نے ان کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا۔ بلکہ جب بھارت نے سیاچن پر قبضہ کر لیا تو جنرل ضیا کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ ’’سیاچن پر تو گھاس بھی نہیں اگتی‘‘۔ جنرل ضیاء سیاچن کو تو بھارت سے واپس نہ لے سکے البتہ انہوں نے بعد میں بھارت کو ایٹمی جنگ کی دھمکی ضرور دے ڈالی۔ ہوا کچھ یوں کہ انیس سو ستاسی میں بھارت نے براس ٹیک کے نام سے راجستھان میں پاکستانی سرحد کے قریب جنگی مشقیں شروع کر دیں۔ جنرل ضیاء کو خفیہ اطلاع ملی کہ بھارت ان مشقوں کی آڑ میں پاکستان پر حملہ آور ہونے والا ہے۔ ضیاء الحق پاک،بھارت ٹیسٹ میچ دیکھنے کے بہانے بن بلائے بھارت پہنچے اور وزیراعظم راجیو گاندھی سے ملے۔ اس ملاقات میں انہوں نے بھارتی وزیراعظم کو وارننگ دی کہ اگر بھارت نے جنگ شروع کی تو پاکستان جواب میں جوہری ہتھیار استعمال کرے گا۔ یہ دھمکی کام کر گئی اور راجیو گاندھی نے پاکستانی سرحدوں سے فوج پیچھے ہٹا لی۔

جنرل ضیاءکو آئین سے چڑ تھی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہ بارہ صفحات کا کتابچہ ہے جسے کسی بھی وقت پھاڑا جا سکتا ہے۔ اسی لئے وہ آئین میں من مرضی کی ترامیم کرتے رہے تاکہ اقتدار پر ان کی گرفت دیر تک قائم رہے۔ انہوں نے دستورکی اسلامائزیشن کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کے دور میں گلی محلوں میں نماز پڑھانے کے لیے صلوٰۃ کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ بینک اکاؤنٹس سے بھی زکوٰۃ کاٹی جانے لگی۔ عدالتوں میں قاضی مقرر کئے گئے، شرعی سزائیں نافذ ہوئیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل، شریعت کورٹ اور رویت ہلال کمیٹی کا قیام بھی ضیاالحق ہی کے کارنامے ہیں۔

انہی کے دور میں توہین مذہب پر موت کی سزا مقرر ہوئی۔ جنرل ضیاء نے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کو بھی آئین کا حصہ بنایا جس کے تحت ہر رکن اسمبلی کا صادق اور امین ہونا لازمی قرارپایا ۔ اسی شق کے تحت بعد میں ایک وزیراعظم اور ایک وزیرخارجہ تاحیات نااہل ہوئے۔

جنرل ضیاء نے آئین میں آٹھویں ترمیم کر کے اٹھاون ٹو بی کو شامل کیا۔ اس شق کے تحت صدر کو اسمبلیاں توڑنے کا اختیار مل گیا۔ دسمبر انیس سو چوراسی میں جنرل ضیاء نے ملک بھر میں ریفرنڈم کرایا۔ اس ریفرنڈم میں لوگوں سے سوال کیا گیا کہ اگر وہ ملک میں اسلامی نظام چاہتے ہیں تو پھرضیاء الحق اگلے پانچ سال صدر رہیں گے۔ ریفرنڈم میں بچوں تک کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اور جیسا کہ توقع تھی ضیاء یہ ریفرنڈم 97.7 فیصد ووٹ لے کر جیت گئے۔ اس ریفرنڈم پر کسی ستم ظریف نے فقرہ کسا تھا کہ جنرل ضیاء اسلام کے نام پر خود کو نافذ کرتا رہا۔

قصہ مختصر کہ ضیاء الحق نے من مانی آئینی ترامیم کے بعد انیس سو پچاسی میں الیکشن کروا دیئے۔ یہ الیکشن غیرجماعتی بنیادوں پر کرائے گئے تھے جس سے ملک میں برادری ازم کو فروغ ملا۔ الیکشن کے بعد جنرل ضیاء نے اسمبلی میں ووٹنگ  کرانے کی بجائے اپنی مرضی سے محمد خان جونیجو کو وزیراعظم بنا دیا۔ زیادہ تر اراکین اسمبلی جونیجو کو جانتے تک نہیں تھے اور ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ یہ صاحب کون ہیں؟

جنرل ضیاء کا خیال تھا کہ جونیجو ان کے دست نگر رہیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ جونیجو بہرحال سیاستدان تھے اور خود کو عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتے تھے۔ انھوں نے اختیارات کنٹرول میں لینے کی کوششیں شروع کر دیں۔ آخری دنوں میں وہ کئی معاملات میں جنرل ضیاء سے مشورے بھی نہیں کرتے تھے۔ افغانستان سے روسی فوج کے انخلاء کے لیے جنیوا کنونشن کے معاہدے پر انہوں نے ضیاء سے مشورے کے بغیر ہی دستخط کردیئے تھے۔ لیکن جونیجو کو بھی وہی سزا ملی جو گورنر جنرل غلام محمد سے لے کر اسکندر مرزا کے دور تک وزرائے اعظم کو ملتی رہی تھی۔ جونیجو کے اقدامات جب جنرل ضیاء کی برداشت سے باہر ہو گئے تو انہوں نے اپنی ہی آئینی ترمیم کے تحت پہلی بار اٹھاون ٹو بی کا اختیار استعمال کر کے جونیجو حکومت کی چھُٹی کروا دی۔ جنرل ضیاء نواز شریف کی سرپرستی کر رہے تھے جو اس وقت پنجاب حکومت میں وزیر اعلیٰ تھے۔ جب جونیجو کی حکومت برطرف کی تو نوازشریف کو برطرف نہیں کیا گیا بلکہ انہیں نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر برقرار رکھا۔

ضیاء دور میں ملک کے معاشی حالات بہتر تھے اورپاکستانیوں کی دنیا بھر میں عزت ہوتی تھی۔ جس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ روس کے مقابلے میں پاکستان فرنٹ لائن سٹیٹ بن چکا تھا۔ اور کئی سال سے لگی معاشی پابندیاں ہٹا لی گئی تھیں۔ امریکی امداد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اس وقت روس مخالف یورپی ممالک بھی پاکستان کے قریب آ گئے تھے۔ بڑی تعداد میں لوگ بیرون ملک روزگار کمانے کیلئے گئے جس کی وجہ سے عام لوگوں کے معاشی حالات بہتر ہوئے۔ تاہم ان کے مخالفین اس ترقی کو مصنوعی ترقی اور امریکی امداد کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

جنرل ضیاالحق کی حکومت کے سیاسی حالات کی مختصر کہانی تو آپ نے دیکھی لیکن ضیا دور کی اصل کہانی تو اور ہی کچھ ہے۔ وہ کون سا واقعہ تھا جس نے جنرل ضیاء اور امریکہ کو افغان جنگ میں کودنے پر مجبور کر دیا۔ اور وہ تینتالیس منٹ کا کمانڈو آپریشن کون سا تھا جس نے ساڑھے بارہ لاکھ افغانوں کی جان لے لی اور ایک سپرپاور کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اور جنرل ضیاء نے روس کا گرم پانیوں تک پہنچنے کا خواب کیسے چکنا چور کیا؟ یہ سب دیکھئے اگلی قسط میں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top