کیا بھٹو آج بھی زندہ ہے ؟ نوراللہ

کیا بھٹو آج بھی زندہ ہے ؟ نوراللہ

آج سے 91 سال قبل پیدا ہونے والا ذوالفقار علی بھٹو اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار کے طعنے سنتا ہوا عوامی انداز میں حکومتی تخت کا حقدار بنا اور پھر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا-

بھٹو کے بڑے کارناموں میں اس ملک کو متفقہ آئین دینا اور ایٹمی طاقت بننے کی بنیاد فراہم کرنا شامل ہے تو نجی کاروباری اداروں کو سرکاری تحویل میں لینے کا عمل آج بھی تنقید کا باعث بنتا ہے لیکن تمام تر منفی اور مثبت پہلوؤں کے ساتھ ایک بات ہر شخص تسلیم کرتا ہے کہ بھٹو نے سیاست کو ایک نیا انداز دیا

بھٹو کی پھانسی کے بعد بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ شاید بھٹو اور بھٹو کے چاہنے والے ختم ہو گئے ہیں لیکن ان کی یہ سوچ غلط ثابت ہوئی اور بھٹو کا نا صرف نام باقی رہا ںلکہ آنے والے دور میں بھٹو کا نام ایک نظریہ کی شکل اختیار کرگیا اور بھٹو کی بیٹی بینظیر اپنے باپ کے نام پر عوام سے ووٹ لے کر مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئی-

جمہوریت اور آمریت کی آنکھ مچولی کھیلتے اس ملک میں حکومتوں کا بننا اور ٹوٹنا جاری رہا اور دسمبر 2007 میں بینظیر بھٹو ایک دہشت گرد حملے میں اس دنیا سے رخصت ہوگئیں-
ذوالفقار علی بھٹو اور انکی بیٹی بینظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی نے 2008 میں وفاق اور سندھ میں اور 2013 اور 2018 کے الیکشن میں صوبہ سندھ میں حکومت بنائی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھٹو کے بعد آنے والی تیسری نسل آج بینظیر کو تو جانتی ہے لیکن بھٹو کے افکار اور نظریات سے ناواقف ہے

ویسے بھی اس جدید دور میں جہاں دنیا بھر میں سیاست اور حکومت کے رموز بدل گئے ہیں وہاں پاکستان میں بھی دائیں بازو اور بائیں بازو کی سیاست نے نئے روپ دھار لئے ہیں- عوام کے مسائل آج بھی وہی ہیں جو آج سے نصف صدی قبل تھے لیکن روٹی٫ کپڑا اور مکان کے نعرے کی کشش شاید کچھ کم ہوگئے ہے اسی لئے پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتیں اسی بنیادی نعرے کو نئے رنگ ڈھنگ میں پیش کرتی ہیں- سیاسی جماعتوں٫ طلبہ تنظیموں اور ٹریڈ یونینوں سے ملنے والا شعور اور اپنے حقوق کی آگاہی آج سیاسی نظام کے ٹوٹتے اور بنتے تسلسل اور روائتی و سوشل میڈیا کی بدولت اپنے عروج پر ہے- حصول اقتدار کے لئے سیاسی جماعتوں کی لڑائی اور کشمکش اپنی جگہ لیکن عوام کی توقعات اب بہت بلند ہیں پرانے نعرے تو یقیناً کام نہیں آسکتے نئے نعرے بھی عوامی فلاح وبہبود کے عملی اقدامات کے بغیر زیادہ دیر کام نہیں آئیں گے

پیپلز پارٹی کے خلاف کرپشن ٫ نااہلی اور بیڈ گورننس کے تمام تر الزامات کے باوجودسندھ میں مسلسل تیسری حکومت بنانا اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ سندھ میں عوام پیپلز پارٹی کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور سندھ سمیت ملک کے تمام صوبوں اور کشمیر و قبائلی علاقوں میں پیپلز پارٹی کو ملنے والے ووٹ اور پذیرائی بھٹو کی زندگی کا ثبوت ہے- عوام کے حقوق اور جمہوریت کے لئے جدو جہد اور قربانیاں افراد کو نظریئے میں تبدیل کر دیتی ہیں اور نظریوں کی عمر کی پیمائش سالوں میں نہیں کی جاتی کیوں کہ وہ لوگوں کے دلوں میں بس کر امر ہو جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top