اب گھر بھی پرنٹ ہوں گے

اب گھر بھی پرنٹ ہوں گے

مستقبل میں گھر مستری اور مزدور نہیں بلکہ تھری ڈی پرنٹرتیار کیا کریں گے۔ جی ہاں اب دنیا بھر میں یہ نیا ٹرینڈ زور پکڑ رہا ہے اور اس کے لیے مختلف کمپنیوں میں مقابلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔

تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے گھر تعمیر کرنا انتہائی آسان

تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے گھر تعمیر کرنا انتہائی آسان ہو گیا ہے۔ نہ مزدوروں کی ضرورت ہے، نہ مشینوں کی اور نہ ہی بہت زیادہ دیر انتظار کرنے کی۔ بس کمپیوٹر میں مکان کا نقشہ انسٹال کریں، تھری ڈی پرنٹر میں تعمیر کا سارا میٹریل ڈال دیں اور بس ایک بٹن دبائیں اور اطمینان سے اپنے کاموں میں لگ جائیں۔ تھری ڈی پرنٹر سے گھر بنتا جائے گا اور کچھ ہی وقت میں آپ کا نیا گھر تیار ہو گا۔

صرف 24 گھنٹوں میں گھر کی تیاری ممکن

اب تو روس کی ایک کمپنی نے ایسا تھری ڈی پرنٹر بھی تیار کرلیا ہے جس سےصرف 24 گھنٹوں میں گھر کی تیاری ممکن ہو جائے گی۔ اس تھری ڈی پرنٹر کی لمبائی صرف بیس فٹ ہے اور یہ 400 مربع فٹ کا گھر 24 گھنٹے میں تعمیر کر سکتا ہے۔ ایک گھر کی تعمیر پر صرف 10 لاکھ روپے لاگت آتی ہے جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔

دنیا بھر میں تھری ڈی پرنٹرز سے عمارتوں کی تعمیر جاری

دنیا کے کئی اور ممالک میں بھی تھری ڈی پرنٹر سے تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے۔ دبئی میں پہلا تھری ڈی پرنٹ شدہ آفس بنایا گیا تھا جب کہ بیجنگ میں پرنٹر سے ایک مکان بنایا گیا تھا۔ پھر شنگھائی کی ایک کمپنی نے تھری ڈی پرنٹر سے ایک دن میں 10 مکانات تعمیر کرکے ایک ریکارڈ قائم کیا تھا۔

مستقبل میں سینکڑوں منزلہ عمارتیں بھی تھری ڈی پرنٹر سے بنیں گی؟

ابھی تک تھری ڈی پرنٹرز کی مدد سے چھوٹے مکانات کی تعمیر کا کام ہی شروع ہوا ہے۔ لیکن کیا مستقبل میں کثیرالمنزلہ عمارتیں بھی تھری ڈی پرنٹر سے تیار ہوں گی۔ اس پر ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ طے ہے کہ مکانات کی تعمیرپر اب تک جو وقت ضائع ہوتا تھا وہ آئندہ ضائع نہیں ہو گا۔ تھری ڈی پرنٹرز س مکانات کی تیاری کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس سے گردوغبار نہیں پھیلتا اور نہ ہی ان میں انسانوں کے حوالے سے حادثات کا کوئی اندیشہ رہتا ہے۔ اس لئے ان سے کی گئی تعمیرات محفوظ بھی ہیں اور ماحول دوست بھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top