برٹش ائرویز کی فلائٹس اور پی آئی اے کا مستقبل۔ نور اللہ

British Airways and PIA

برٹش ائرویز کی فلائٹس اور پی آئی اے کا مستقبل۔ نور اللہ

گزشتہ روز برٹش ایئرویز نے پاکستان کے لئے اپنی پروازوں کے آغاز کا اعلان کیا تو مبارک بادوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا- پاکستان کے سافٹ امیج کے حوالے سے اسے پاکستان کی ایک بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے- بظاہر خوشگوار نظر آنے والے اس اعلان کا ایک معاشی پہلو بھی ہے-

لندن سے پاکستان کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کی اکثریت پاکستانی ہے اور خصوصاً فیمیلیز پی آئی اے کو ترجیح دیتی ہیں کیوں کہ براہ راست پرواز کی سہولت کوئی اور ائرلائن مہیا نہیں کرتی- برٹش ائرویز جب براہ راست پروازیں شروع کرے گی تو بہت سے مسافر بہتر جہازوں اور اسکی اعلیٰ سروس کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے قومی ائرلائن پر ترجیح دیں گے اور یوں قومی ائرلائن خسارے میں اضافے یا منافع میں کمی کا سامنا کرے گی-

ایک بات تو طے ہے کہ برٹش ائرویز کی پروازوں کی وجہ سے گوروں کی پاکستان آمد میں تو کوئی خاص اضافہ متوقع نہیں ہے- اسلام آباد اور لندن کے درمیان پی آئی اے سے سفر کی صورت میں عموماً کم از کم ایک سٹاپ (لاہور یا کراچی) بھی ہوتا ہے اور سفر کا دورانیہ 10 تا 18 گھنٹے پر محیط ہوتا ہے جبکہ برٹش ایئرویز کی براہ راست پرواز تقریباً 8 گھنٹے کی ہوگی اور اور اگر برٹش ایئرویز کے اعلان کردہ کرایہ کو دیکھیں تو وہ پی آئی اے کے کرایہ سے کم نظر آتا ہے (اگر آج بکنگ کرائیں تو وسط جون 2019 کی ٹکٹ پی آئی اے کیلئے 95000 اور برٹش ایئرویز کیلئے 88000 کی ملے گی) تو کیا یہ عمل ہماری معاشی ترقی کے سفر میں مددگار ہو گا یا ہمارے ایک قومی ادارے پی آئی اے کے لئے مزید مشکلات اور چیلینجز کا باعث ہوگا اور کیا پی آئی اے اور حکومت پاکستان نے اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کے لئے کوئی منصوبہ بندی کرلی ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top