عالمی امور

پاکستان کے 6 ریکارڈ جو آج تک کوئی نہ توڑ سکا

ویسے تو پاکستانیوں نے بہت سے عالمی ریکارڈ اپنے نام کئے ہیں مگر ہم آپ کو چھ ایسے ریکارڈ کے بارے میں بتا رہے ہیں جن کو آج تک کوئی نہ توڑ سکا

سی آئی اے کے حکومت گرانے کے 5 ہتھکنڈے

امریکی خفیہ ایجنسی دوسرے ملکوں میں حکومتیں گرانے کیلئے اربوں ڈالر خرچ کرتی ہے۔ ایسا امریکی مفاد کے نام پر کیا جاتا ہے۔ اس کیلئے کئی طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ لیکن یہ پانچ زیادہ عام ہیں۔

جنسی ہراسمنٹ کیا ہے اور کیا نہیں ؟

امریکی فوج میں موجود خواتین سے لے کر شوبز کی دنیا تک جنسی حراساں کرنے کی کہانیاں عام ہو رہی ہیں۔ لیکن ہمیں جاننا چاہیے کہ کیا حراسمنٹ ہے اور کیا نہیں؟

مسئلہ کشمیر کے 10 حقائق

1947میں برصغیر کی تقسیم کے وقت 565کے قریب خودمختار ریاستیں تھیں۔ ان ریاستوں کو برطانوی حکومت نے حق دیا کہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ مذہب کی بنیاد پر کر سکتی ہیں۔

ریاست جموں و کشمیرکی آبادی کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی مگر حکمران مہاراجہ ہری سنگھ ہندو تھا۔ اس کی کوشش تھی کہ کشمیر کی آزاد حیثیت بحال رہے۔ اس نے پاکستان اور بھارت سے سٹینڈ سٹل ایگریمنٹس کیے۔

اکتوبر1947میں ہری سنگھ نے برطانوی فوج کے مسلم سپاہیوں سے اسلحہ ضبط کر کے کشمیر کی ہندوآبادی میں بانٹنا شروع کیا تو مسلم آبادی مشتعل ہو گئی اور انھوں نے بغاوت کردی۔

کشمیری مجاہدین کو پاکستان کے پشتون قبائلیوں کی مدد بھی حاصل ہو گئی ۔ صورتحال سے گھبرا کر ہری سنگھ نے بھارت سے فوجی مدد مانگی۔ ہندوستان نے اس شرط پر ہری سنگھ کی مدد کرنے کا وعدہ کیا کہ وہ کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ کر دے۔

مہاراجہ ہری سنگھ نے اکتوبر1947میں کشمیر کا الحاق ہندوستان سے کردیا اور خود دہلی میں پناہ لے کر چھپ گیا۔

پاکستان نے اس الحاق کو ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ ابھی سٹینڈ سٹل معاہدہ قائم تھا اورہری سنگھ الحاق کی کسی دستاویز پر دستخط کرنے کا مجاز نہیں تھا۔

27اکتوبر کو بھارتی فوجیں کشمیر میں داخل ہو گئیں جس پر پاکستان اور بھارت کے درمیان باقاعدہ جنگ چھڑ گئی۔

دوران جنگ بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے کشمیریوں سے ریفرنڈم کا وعدہ کیا اور اپنی وعدے پر قائم رہنے کی بڑی بڑی قسمیں کھائیں۔

اسی وعدے کے مطابق بھارت کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں لے گیا جہاں 13اگست1948کو ایک قرارداد پاس ہوئی۔ اس میں طے پایا کہ کشمیری ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کریں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ ۔

مگر جنگ ختم ہوتے ہی بھارت ریفرنڈم سے مکر گیا۔ اور آج تک انکاری ہے۔ وہ دن اور آج کا دن کشمیری بھارتی جبر کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حالانکہ ان کے دل آج بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔

Scroll to top