پاکستان کی کہانی

پاکستان کی کہانی قسط نمبر 9

سانحہ مشرقی پاکستان کے چند ماہ بعد تک ملک میں مارشل لاء نافذ رہا. بھٹو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور دستور ساز اسمبلی کے سربراہ تھے۔ پاکستان کے نوے ہزار فوجی اور تیرہ ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ بھارت کے قبضے میں تھا۔

انھی معاملات کے حل کیلئے انیس سو بہتر میں بھٹو نے بھارت سے شملہ معاہدہ کیا۔ بھٹو نے مذاکرات کے ذریعے بھارت سے تیرہ ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ واپس لے لیا۔ اب مسئلہ تھا پاکستان کے گرفتار فوجی آزاد کروانے کا۔ بھٹو نے چین کے ذریعے اقوام متحدہ میں بنگلہ دیش کا راستہ روکا۔ بھٹو نے بھارت سے مذاکرات کیے کہ اگرانڈیا پاکستانی قیدی رہا کر دے تو چین اقوام متحدہ میں بنگلہ دیش کا راستہ نہیں روکے گا۔ یہ دباؤ کام کر گیا اور پاکستان کے نوے ہزار قیدی رہا ہو کر وطن واپس آ گئے۔

اکہتر کی جنگ میں امریکہ نے چونکہ پاکستان کی کوئی مدد نہیں کی تھی اس لیے پاکستان نےامریکہ سے کیے گئے سیٹو اور سینٹو کے معاہدے توڑ دئیے۔ لیکن پاکستان کو طاقتور عالمی اتحادی تو چاہیے تھے۔ اس کے لیے بھٹو نے اسلامی ممالک کا اتحاد بنانا شروع کیا۔ انیس سو چوہتر میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس بھی منعقد ہوئی۔ اسی برس پاکستان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا اور دونوں ممالک کے تعلقات کا نیا آغاز ہو گیا۔

بھٹو کی سب سے بڑی کامیابی پاکستان کا متفقہ آئین تیار کرنا تھا۔ س آئین میں وزیراعظم کے اختیارات بڑھا دیئے گئے اور بھٹو نئے پاکستان کے پہلے وزیراعظم بنے۔

بھٹو دور کا ایک اہم واقعہ یہ تھا کہ انہوں نے ایوب دور اور اس سے پہلے لگنے والی صنعتوں اور اداروں کو سرکاری کنٹرول میں لے لیا۔ جس کا عملی نتیجہ اچھا نہیں رہا اور صنعتیں تباہ ہونے لگیں۔ صنعتیں بہتر کرنے کے لیے بھٹو نے روس سے تعلقات بہتر بنائے اور مدد طلب کی۔ پاکستان اسٹیل ملز بھی بھٹو دور میں بنائی گئی جبکہ ایوب دور میں شروع ہونے والا تربیلا ڈیم بھی اس دور میں مکمل ہوا۔

آئین کی تیاری کے بعد بھٹو کا دوسرا سب سے بڑا کارنامہ ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنا تھا۔ ان کا نعرہ ۔۔۔گھاس کھائیں گے ایٹم بم بنائیں گے۔۔۔ عوام میں بہت مقبول ہوا۔ تاہم اسلامی ممالک کا بلاک بنانے کی کوششوں اور ایٹمی پروگرام کی وجہ سے امریکہ بھٹو کے سرگرم ہو گیا اور امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر نے بھٹو کو نشان عبرت بنانے کی دھمکی دے ڈالی۔

اپنے دور اقتدار کے آخری سال بھٹو سے ایک تاریخی غلطی ہوئی۔ عام انتخابات انیس سو اٹھہتر میں ہونا تھے لیکن بھٹو کو اس کے مشیروں نے بتایا کہ اگر وہ ایک سال پہلے انتخابات کروا دیں تو ان کی جیت یقینی ہے۔ اس طرح وہ مزید پانچ سال حکومت کر سکیں گے۔ بھٹو نے عوام میں اپنی مقبولیت دیکھتے ہوئے ایک سال پہلے انیس سو ستتر میں عام انتخابات کروا دئیے۔ بھٹو کے مقابلے میں اپوزیشن کا مشترکہ اتحاد پی این اے میدان میں آیا۔ بھٹو نے واضح طور پر میدان مار لیا اور ایک سو پچپن نشستیں جیت لیں۔ اپوزیشن نے صرف چھتیس سیٹین جیتیں۔ لیکن ان انتخابات پر دھاندلی کا داغ لگ گیا۔ پی این اے کے بعد مذہبی جماعتیں بھی میدان میں آ گئیں اور وہ تحریک جو دھانلی کے لیے خلاف سڑکوں پر تھی نظام مصطفیٰ میں تبدیل ہو گئی۔ اس تحریک کے نتیجے میں نظام مصطفیٰ تو نہ آیا لیکن ضیا الحق آ گیا۔ بھٹو ضیاالحق پر بہت اعتبار کرتے تھے بالکل اسی طرح جیسے ایوب بھٹو پر اور سکندر مرزا ایوب خان پر اعتبار کرتے تھے۔ تاریخ کا ستم دیکھئے کہ ضیا نے بھٹو کو، بھٹو نے ایوب کو اور ایوب نے سکندر مرزا کو دھوکا دیا۔ سچ ہے طاقت کے کھیل میں اخلاقیات نام کا کوئی ہتھیار نہیں ہوتا۔

جنرل ضیاء نے حکومت کا تختہ الٹا اور سیاسی حکومت برطرف کر کے بھٹو کو گرفتار کر لیا۔ بھٹو کو رضا قصوری کے قتل کے ایک بہت کمزور مقدمے میں سزائے موت سنا دی گئی۔ رضا قصوری، مشرف کے قریبی ساتھی احمد رضا قصوری کے والد تھے۔ چار اپریل انیس سو اناسی کو بھٹو کو راولپنڈی میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ ظلم کی انتہا یہ تھی کہ پھانسی سے قبل آخری ملاقات میں بیٹی کو باپ سے گلے بھی نہیں ملنے دیا گیا اور پھانسی کے بعد کسی رشتے دار کو آخری دیدار تک نہیں کرنے دیا گیا۔ لیکن آج حال یہ ہے کہ پاکستان میں عمومی طور پر بھٹو کی موت کو عدالتی قتل قرار دیا جاتا ہے۔

وہ روس جو بھٹو کے دور میں پاکستان کا دوست بننے جا رہا تھا اچانک دشمن کیسے بن گیا؟ پاکستان میں منشیات اور دہشتگردی کا ناسور کیسے پیدا ہو گیا؟ نوازشریف اور بے نظیر بھٹو پاکستانی سیاست میں کیسے وارد ہوئے؟ یہ جاننے کیلئے اگلی قسط دیکھئے اور دیکھو سنو جانو کو سبسکرائب کرنا مت بھولیئے۔اگر اس وڈیو نے آپ کی معلومات میں اضافہ کیا تو لائیک، کمنٹس اور شیئر بھی ضرور کیجئے تا کہ ہم اس سلسلے کو جاری رکھ سکیں اور بہتر سے بہتر بنا سکیں۔

 

پاکستان کی کہانی قسط نمبر 8

جنرل یحیٰ نے مارچ انیس سو انہتر میں صدر ایوب خان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن کر حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی۔

اب جنرل یحییٰ ایک ہی وقت میں پاکستان کے صدر، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے۔

وہ چونکہ ایوب کے زوال کے اسباب دیکھ چکے تھے اس لیے انھوں نے فوراً سیاستدانوں سے کوئی لڑائی مول لینے کے بجائے ایوب دور میں سیاسی جماعتوں پر لگی پابندیوں کو ختم کیا۔ جنرل یحیٰ خان نے ایوب دور میں بنایا گیا انیس سو باسٹھ کا متنازعہ آئین بھی منسوخ کردیا۔ انھوں نے دسمبر انیس سو ستر میں صدارتی انتخابات کروائے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات تھے جس میں ایک آدمی ایک ووٹ کا اصول استعمال ہوا۔ انھیں پاکستان کی تاریخ کے سب سے شفاف انتخابات کہا جاتا ہے۔ لیکن ان شفاف انتخابات کا نتیجہ بہت خوفناک برآمد ہوا۔

ان شفاف انتخابات میں میں بنگال کے شیخ مجیب الرحمان نے مشرقی پاکستان میں کلین سویپ کیا اور ایک سو ساٹھ نشستیں جیت لیں۔ لیکن ان کی جماعت مغربی پاکستان میں ایک بھی سیٹ حاصل نہ کر سکی۔ ادھر ذوالفقار علی بھٹو نے مغربی پاکستان میں اکیاسی نشتیں جیتیں۔ لیکن مشرقی پاکستان میں وہ ایک بھی سیٹ نہ جیت سکے۔ پاکستان واضح طور پر دو حصوں میں بٹ چکا تھا۔

پورا مشرقی پاکستان شیخ مجیب کے ساتھ کھڑا تھا اور شیخ مجیب آئینی لحاظ سے پاکستان کے نئے منتخب حکمران تھے۔ جنرل یحییٰ کی ذمہ داری تھی کہ انھیں اقتدار منتقل کرتے۔ اسی مقصد کیلئے جنرل یحییٰ نے ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا۔ یہ ایک تاریخی موقع تھا کہ پاکسان کو مشرقی پاکستان سے منتخب قیادت مل رہی تھی۔ لیکن بھٹو نے اس نہایت اہم تاریخی اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا۔ نہ صرف انکار کیا بلکہ  اپنے نمائندوں کو دھمکی دی کہ اگر کوئی ڈھاکہ والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں گیا تو اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا۔ بھٹو نے جنرل یحییٰ پر اجلاس ملتوی کرنے کیلئے دباؤ ڈالا۔ جنرل یحییٰ نے یہ اجلاس ملتوی کروا دیا۔ اجلاس کا ملتوی ہونا تھا کہ مشرقی پاکستان میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی بنگالی سمجھ گئے کہ مغربی پاکستان کی اشرافیہ ہمیں اقتدار منتقل نہیں کرنا چاہتی۔ بھارت جو پہلے سے موقعے کی تاڑ میں بیٹھا تھا اس نے باغیوں کا ایک مسلح گروہ مکتی باہنی کے نام سے تیار کیا اور مشرقی پاکستان میں مسلح بغاوت شروع کروا دی۔ مکتی باہنی کے مسلح گروہوں نے پاک فوج اور مغربی پاکستان کے حامیوں پر حملے شروع کر دئیے۔

یہ پاکستان بچانے کا آخری موقع تھا کہ اس وقت بھی ایک اجلاس بلا کر اقتدار انتخابات جیتنے والے کے سپرد کر دیا جاتا تو شاید پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی۔ گو کہ یہ اتنا سادہ اب نہیں رہا تھا لیکن جنرل یحییٰ نے یہ آخری موقع بھی گنوا دیا اور بغاوت کچلنے کیلئے فوجی ایکشن شروع کروا دیا۔ پاک فوج نے مکتی باہنی کی بغاوت کو نو ماہ میں کچل دیا۔ لیکن اس فوجی ایکشن کے نتیجے میں نفرت کی ندی کا پانی سروں سے بہت اونچا ہو چکا تھا۔ دوسری طرف موقع کی تاڑ میں بیٹھے بھارت نے اپنی سازش کو ناکام ہوتے دیکھا تو انٹرنیشنل بارڈر کراس کرتے ہوئے مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیا۔ پاک فوج چاروں طرف سے گھیرے میں آ گئی۔ جغرافیہ ہمارے خلاف تھا، پاک فوج اپنے مرکز سے ایک ہزار میل دور اور چاروں طرف سے دشمنوں  میں گھری ہوئی تھی۔ پاک فوج کی سپلائی لائن بھی کٹ چکی تھی اور مشرقی پاکستان کی سرزمین بیگانی ہو چکی تھی۔ شکست دیوار پر لکھی تھی۔

اس کے باوجود پاک فوج کے جوان بہادری سے لڑے، وطن کی خاطر ہزاروں جوان کٹ مرے لیکن یہ ایک ہاری ہوئی جنگ تھی۔ جسے لمبا تو کھینچا جا سکتا تھا جیتا نہیں جا سکتا تھا۔ اور ہوا بھی یہی۔ پاکستان کو اپنی تاریخ کی سب سے شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور نوے ہزار پاکستانی فوجی بھارت کے قیدی بن گئے۔ ملک ٹوٹ چکا تھا اور پاکستان مشرقی او مغربی کے بجائے صرف پاکستان رہ گیا تھا۔

گو کہ ملک توڑنے کا ذمہ دار کوئی ایک فرد نہیں ہو سکتااس کے پیچھے سیکڑوں عوامل ہوتے ہیں۔ لیکن اگر یہ دیکھنا ہو کہ آخری وقت میں وہ کون سا شخص تھا جو پاکستان کو بچا سکتا تھا لیکن اس نے نہیں بچایا تو اس کا نام ہے جنرل یحییٰ۔ جنرل یحییٰ اس لیے کہ ان کی بطور صدر اور کمانڈر ان چیف یہ ذمہ داری تھی کہ اقتدار سب سے زیادہ ووٹ لینے کو ایماندری سے منتقل کر دیتے۔ لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاکستان توڑنے کے تنہا ذمہ دار جنرل یحییٰ ہیں۔ کیونکہ

وقت کرتا ہے پرورش برسوں ۔۔۔ حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔

سانحہ مشرقی پاکستان کے ساتھ ہی جنرل یحییٰ کے اقتدار کا سورج بھی غروب ہو گیا۔ جنرل یحییٰ نے ذوالفقار علی بھٹو کو ایک کاغذ کی تحریر کے ذریعے اقتدار منتقل کر دیا۔ بھٹو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور دستور ساز اسمبلی کے سربراہ بن گئے۔ انھوں نے اقتدار سنبھالا اور جنرل یحیٰ کو نظر بند کر دیا۔ باقی زندگی میں جنرل یحیٰ زیادہ تر نظر بند ہی رہے۔ بھٹو کی پھانسی کے ایک سال بعد سقوط ڈھاکہ کا یہ اہم ترین کردار انتقال کر گیا۔  

ادھر پاکستان سے الگ ہونے والے بنگلہ دیش میں ایک کے بعد ایک فوجی بغاوت جنم لیتی رہی یہاں تک کہ علیحدگی کے صرف چار سال بعد ڈھاکہ میں شیخ مجیب کو نوجوان فوجی افسروں نے گھر میں گھس کر قتل کر دیا۔ یوں صرف دس سال کے اندر اندر سقوط ڈھاکہ کے تینوں اہم کردار بھٹو، شیخ مجیب اور جنرل یحییٰ موت کی وادی میں جا سوئے۔ پاکستان نے اس سانحہ کی وجوہات جاننے کیلئے بنگال سے تعلق رکھنے والے شخص حمودالرحمان کی سرپرستی میں ہی ایک کمیشن بنایا۔ اس کمیشن نے رپورٹ تیار کی لیکن اس کی رپورٹ نہ تو بھٹو نے شائع کی اور اس کے بعد آج تک کبھی سامنے آئی۔ اس کے کچھ حصے بھارت میں تو شائع ہوئے لیکن پاکستان میں اسے کبھی پبلک نہیں کیا گیا۔

پاکستان کی کہانی جاری ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت پر وہ کیا دباؤ ڈالا تھا کہ انڈیا نوے ہزار فوجی آزاد کرنے پر مجبور ہو گیا۔ جنرل ضیا الحق نے کس طرح ایک اور مارشل لا لگانے میں کامیاب ہوئے؟ یہ جاننے کیلئے اگلی قسط دیکھئے اور دیکھو سنو جانو کو سبسکرائب کیجئے۔ اگر آپ کو یہ وڈیو اچھی لگی تو لائیک، کمنٹس اور شیئر بھی ضرور کیجئے تا کہ ہم اس سلسلے کو جاری رکھ سکیں اور بہتر سے بہتر بنا سکیں۔

 

پاکستان کی کہانی قسط نمبر 7

پاکستان کی کہانی کی ساتویں قسط دیکھ رہے ہیں۔ 1958 میں پاکستان کا پہلا ملک گیر مارشل لا لگا اور ایوب خان پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کی پرسنیلٹی کو سمجھنے کیلئے دو باتیں جاننا نہایت ضروری ہیں۔

ایک یہ کہ آزادی سے پہلے ایوب خان انڈین نیشنل آرمی میں کپتان تھے اور انگریزوں کیلئے مخبر کا کام کرتے تھے۔ وہ انگریز افسروں کو برطانوی راج کے خلاف بات کرنے والے فوجیوں کے نام بتایا کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ قائداعظم نے سیاسی قیادت کو ان کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

دوسری بات یہ کہ جنرل ایوب جمہوریت اور سیاستدان دونوں سے ہی نفرت کرتے تھے۔ اس کا اظہار انھوں نے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد امریکی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی کیا۔ جس میں انھوں نے بتایا کہ سیاستدان ملک کو لوٹ رہے تھے چنانچہ ملک بچانے کیلئے مجھے اقتدار سنبھالنا پڑا۔ وہ پہلے ڈکٹیٹر تھے جو برملا کہتے تھے کہ عوام ابھی اتنے باشعورنہیں ہوئے کہ انھیں ووٹ کا حق دیا جائے۔

جمہوریت اور سیاستدانوں سے ان کی نفرت اتنی زیادہ تھی کہ انھوں نے ایبڈو اور پراڈا کے بدنام زمانہ قوانین بنائے گئے۔ ان قوانین کے تحت سات ہزار سیاستدان سات، سات سال کے لیے نااہل قرار دیئے گئے۔ نااہل قرار دیئے جانے والے سیاستدانوں میں سابق وزرائے اعظم حسین شہید سہروردی اور فیروزخان نون جیسے بڑے نام بھی شامل تھے۔ ان لوگوں کو نااہل کرنے کے لیے کرپشن اور ملک دشمنی کے الزامات لگائے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب کسی سیاستدان پر کرپشن کے الزامات لگا کر برطرف کیا جاتا ہے یا سیکیورٹی رسک قرار دیا جاتا ہے تو سمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں کہ یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے۔۔۔

سیاستدانوں پر کرپشن الزامات اور نااہل کرنے کے بعد ایوب خان نے اپنی مرضی کا ایک خودساختہ آئین تشکیل دیا اور انیس سو پینسٹھ میں اسی آئین کے تحت انتخابات کا اعلان کر دیا۔ خودپسندی اوراقتدار کی ہوس دیکھئے کہ جنرل ایوب جو پاکستان مسلم لیگ کے صدر بھی تھے وہ خود صدارتی امیدوار کے طور پر میدان میں آ گئے۔ ان کے مقابلے کے لیے اب میدان میں کوئی سیاستدان نہیں بچا تھا کیونکہ تمام قابل ذکر سیاستدانوں کو مختلف الزامات میں نااہل کیا جا چکا تھا اور اپوزیشن بری طرح تقسیم تھی۔ ایوب خان کا خیال تھا کہ وہ بہت مقبول ہیں اور باآسانی جیت جائیں گے۔ ایسے میں تقسیم شدی اپوزیشن نے بھی شاندار پتہ کھیلا۔ انھوں نے متفقہ طور پر قائداعظم محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو صدر پاکستان کے امیدوار کے طور پر کھڑا کر دیا۔ اس وقت وہ پاکستان کی واحد امید تھیں۔ جنرل ایوب خان فاطمہ جناح سے خوفزدہ تھے۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان دونوں میں فاطمہ جناح کو پذیرائی ملنا یقینی بات تھی۔ لیکن ایوب خان نے صحت مند مقابلے کے بجائے محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف کردار کشی کی گھٹیا مہم شروع کروا دی۔ بانی پاکستان کی بہن کو بھارتی ایجنٹ اور غدار کہا گیا۔

انیس سو پینسٹھ کے متنازع ترین انتخابات ہوئے اور کھلی دھاندلی کی گئی جس کے نتیجے میں ایوب خان جیت گئے۔ اتنی بڑی ناانصافی نے ایوب خان کو عوام کی نظروں سے گرا دیا۔ ایوب خان کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع ہو گئے اور سڑکوں چوراہوں پر ایوب کے خلاف ہر طرح کے نعرے لگنے لگے۔

اسی دوران دو ایسے واقعات ہوئے جن سے ملک کی معاشی حالت ڈانواں ڈول ہو گئی اورایوب خان کو بہت بڑا سیاسی دھچکا پہنچا۔ ایک واقعہ تو 1965 کی جنگ ستمبر کا ہوا۔ جس میں پاکستان نے بھارتی حملے کا بھرپور اور کامیاب دفاع کیا لیکن اس کا نقصان یہ ہوا کہ امریکہ پاکستان سے ناراض ہو گیا۔ وجہ یہ تھی امریکہ سے پاکستان کا معاہدہ تھا کہ پاکستان امریکی ہتھیاروں کو بھارت کے خلاف استعمال نہیں کرے گا۔ لیکن ظاہر ہے جنگ میں پاکستان نے اپنی پوری طاقت بھارت کے خلاف استعمال کی جو پاکستان کا حق بھی تھا۔ لیکن اس سے امریکی امداد بند ہو گئی۔ دوسرا واقعہ معاہدہ تاشقند تھا۔ جس میں جنرل ایوب کے بارے میں یہ تاثر پھیل گیا انھوں نے بھارت میں جیتی ہوئی جنگ ستمبر مذاکرات کی میز پر ہار دی ہے۔ ان دو واقعات اور محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف دھاندلی ایوب خان کے اقتدار کیلئے زہرقاتل ثابت ہوئے۔

ذوالفقار علی بھٹو اس وقت ایوب کے وزیر خارجہ تھے اور سر عام جنرل ایوب کو ڈیڈی کہا کرتے تھے۔ بھٹو نے حالات بدلتے دیکھے تو ایوب خان کے خلاف عوامی جذبات کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے پاکستان کی پہلی عوامی جماعت پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی اور مغربی پاکستان کے سب سے بڑے اور پہلے عوامی لیڈربن گئے۔

جب بھٹو کی قیادت میں صدر ایوب خان کے خلاف عوامی مزاحمت بے قابو ہو گئی تو آرمی چیف جنرل یحیٰ نے مارچ انیس سو انہتر کو ایوب خان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔

ایوب خان نے پاکستان پر دس سال حکومت کی اور یہ دس سال پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین سال تھے۔ ان برسوں میں ابتدائی طور پر پاکستان کھل کر امریکی کیمپ میں شامل ہوا جس کے چند مثبت نتائج یہ نکلے کہ امریکی مدد سے پاکستان نے پہلی بار منگلا اور تربیلا جیسے بڑے بڑے ڈیمز کی تعمیر کا آغاز کیا، صنعتوں اور زراعت کو فروغ دیا۔ پاک فوج مضبوط ہوئی۔ پاکستان پہلی بار گندم کی پیداور میں خودکفیل ہوا۔ بنکنگ سیکٹر پروان چڑھا اور چین سے تعلقات بہتر بنائے گئے۔ لیکن ایوب خان کی سب سے بڑی ناکامی یہ تھی کہ ان کے دور میں مشرقی اور مغربی پاکستان میں دوریاں اتنی بڑھ گئی تھیں کہ محض تین سال بعد ملک دو ٹکڑے ہوگیا۔ ایوب خان نے امریکی امداد سے پاکستان میں انڈسٹری کو ترقی تو دی لیکن اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے جمہوری سسٹم ڈیلیپ نہیں ہونے دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ امداد کی سر پر ہونے والی ترقی امریکی امداد کے خاتمے پر ختم ہو گئی۔ منگلا تو مکمل ہو گیا لیکن تربیلا ڈیم کے لیے پیسے ختم ہو گئے۔ تربیلا ڈیم بھٹو دور میں مکمل ہوا۔

پاکستان کی کہانی جاری ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین باب یعنی پاکستان کیسے دو ٹکڑے ہوا؟ پاکستان توڑنے کے ذمہ دار فوجی جرنیل تھے یا سیاسی حکمران؟ یہ جاننے کیلئے اگلی قسط دیکھئے اور دیکھو سنو جانو کو سبسکرائب کیجئے۔ اگر آپ کو یہ وڈیو اچھی لگی تو لائیک، کمنٹس اور شیئر ضرور کیجئے تا کہ ہم اس سلسلے کو جاری رکھ سکیں اور بہتر سے بہتر بنا سکیں۔

پاکستان کی کہانی کی مکمل اقساط دیکھیں

 

پاکستان کی کہانی قسط نمبر 6

انیس سو پچپن  میں جب گورنر جنرل غلام محمد رخصت ہوئے تو بیوروکریسی نے ملکی نظام پراپنی گرفت مضبوط کرلی تھی۔ فوجی مداخلت بھی پورے عروج پرتھی۔

میجرجنرل ریٹائرڈ اسکندرمرزا جو بیوروکریٹ بھی رہ چکے تھے گورنرجنرل بن گئے۔ یوں عملی طور پرحکومت فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قبضے میں چلی گئی۔ اسکندرمرزا طویل عرصے تک حکومت کرنے کے خواہش مند تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ اگر وہ اپنے دوست آرمی چیف جنرل ایوب خان کو اقتدار میں شریک کر لیں تو ان کی خواہش پوری ہو سکتی ہے۔ سو انھوں نے ایسا ہی کیا۔ تاریخ کے ریکارڈ کو درست رکھنے کے لیے آپ کو بتاتے چلیں کہ اسکندر مرزا، میر جعفر کے پڑپوتے تھے۔ وہی میر جعفر جس نے بنگال میں انگریزوں کو راستہ دینے کیلئے نواب سراج الدولہ سے غداری کی تھی۔

سکندر مرزا کا دور پاکستان کی جمہوریت کے لیے جگ ہنسائی کا دور تھا۔ اسکندر مرزا نے صرف تین سال میں پانچ وزرائے اعظم کی چھُٹی کروا کے وزارت عظمیٰ کی کرسی کو ایک مذاق بنا دیا۔ کہتے ہیں کہ اس پر بھارتی وزیراعظم نہرو نے کہا تھا کہ میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنی تیزی سے پاکستان میں وزیراعظم بدلتے ہیں۔

اسکندر مرزا کا پہلا شکار وزیراعظم محمد علی بوگرہ تھے۔ جنھیں ہٹا کرایک بیوروکریٹ چودھری محمد علی کو وزیراعظم بنایا گیا۔ لیکن یہ ساتھ بھی ایک سال سے زیادہ نہ چل سکا اور انیس سو چھپن میں انہیں بھی گھربھیج دیا گیا۔ چوہدری محمد علی کی جگہ حسین شہید سہروردی کو وزیراعظم بنایا گیا۔ لیکن جب حسین شہید سہروردی نے اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو اسکندر مرزا نے انہیں بھی اقتدار چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ حسین شہید سہروردی کی جگہ ابراہیم اسماعیل چندریگر جنہیں آئی آئی چندریگر بھی کہا جاتا ہے، وزیراعظم بنے لیکن صرف دو ماہ بعد انہیں بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی جگہ ملک فیروز خان نون پاکستان کے ساتویں وزیراعظم بنے اور یہ پہلے وزیراعظم تھے جن کا تعلق پنجاب سے تھا۔ اس سے پہلے جتنے بھی وزرائے اعظم یا گورنر جنرل آئے ان میں قائداعظم کو چھوڑ کر باقی سب مشرقی پاکستان سے تھے یا مہاجر تھے۔ وزیراعظم فیروز خاں نون نے گوادر کی بندرگاہ پاکستان میں شامل کی۔ یہ بندرگاہ برطانوی دور میں عرب سلطنت اومان کو دے دی گئی تھی۔ ملک فیروزخان نون نے اومان کو ایک کروڑ ڈالر کی رقم ادا کی اور گوادر کو پاکستان میں شامل کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ نواب اکبربگٹی نے اومان سے مذاکرات میں اہم کردارادا کیا تھا۔

جن وزرائے اعظموں کو اسکندر مرزا اپنی تفریح طبع کے لیے آئے روز فارغ کر رہے تھے انھی میں سے ایک چودھری محمد علی نے جاتے جاتے بھی پاکستان کا پہلا آئین جسے 1956 کا ائین کہتے ہیں مکمل کر دیا تھا۔ اسی آئین کے تحت اسکندر مرزا گورنر جنرل سے پاکستان کے پہلے صدر بنے اور پاکستان اسی آئین کے تحت ملکہ برطانیہ کے تسلط سے پوری طرح نکل کر ایک آزاد اور خود مختارملک بن گیا۔

ادھر آئین بنا ادھر ملک میں انتخابات کا ماحول پیدا ہو گیا۔ یہ بات پاکستان کے لیے خوشی کا باعث تھی لیکن اسکندر مرزا اور جنرل ایوب کے لیے یہ بڑے دکھ کی بات تھی۔ کیونکہ اسکندر مرزا صدارت کی کرسی سے چپکے رہنا چاہتے تھے لیکن مشکل یہ تھی آئین بننے کے بعد اقتدار میں صرف وہی رہ سکتا تھا جسے عوام اپنے ووٹوں سے منتخب کریں۔ جبکہ اسکندر مرزا اور ایوب خان تو کسی صورت انتخابی عمل سے منتخب نہیں ہو سکتے تھے۔ لحاظہ دونوں نے چور راستوں سے اقتدار پر قابض رہنے کے ہتھکنڈے آزمانے شروع کر دئیے۔ مرزا اور ایوب دونوں جانتے تھے کہ اگر انہوں نے الیکشن سے پہلے کوئی قدم نہیں اٹھایا توآج کے بعد وہ پاکستان میں اقتدار کے مزے کبھی نہیں اٹھا سکیں گے کیونکہ ایوب خان ریٹائرڈ ہونے والے تھے اور اسکندر مرزا نئی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے قابل نہیں تھے۔ ایسے میں انھوں نے وہی کیا جو خوفزدہ آمر کیا کرتے ہیں۔

سات اکتوبر انیس سو اٹھاون کو اسکندر مرزا نے حکومت برطرف اور آئین منسوخ کرکے ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اسکندر مرزا باوردی فوجی نہیں تھے اس لیے تاریخ کا یہ ریکارڈ درست رہنا چاہیے کہ پاکستان میں پہلا ملک گیر مارشل لا فوج نے نہیں بلکہ بنگال سے تعلق رکھنے والے بیوروکریٹ صدر نے لگایا۔ انہوں نے اپنی سازشوں کے طاقتور ساتھی جنرل ایوب کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا۔ جنرل ایوب نے جب دیکھا کہ اسکندر مرزا کا اقتدار اور مارشل لا انھی کے سہارے قائم ہے تو انھوں نے ایک مختصر ملاقات میں اسکندر مرزا کو اقتدار سے بے دخل کر کے جلا وطن کردیا۔

ایوب خان نے قوم سے خطاب کیا، ملک گیر مارشل لا کا باقاعدہ اعلان کیا اور یوں پاکستان میں جمہوریت کی جگہ میرے عزیز ہم وطنو کی باقاعدہ شروعات ہو گئی۔

شجاع نواز نے اپنی کتاب کراس سورڈز میں لکھا ہے کہ جنرل ایوب کو پاکستان پر مسلط کرنے والے بھی اسکندر مرزا تھے۔ کیونکہ جب پاکستان میں انگریز جنرل کی جگہ مقامی جنرل کو آرمی چیف بنانے کی بات چل رہی تھی تو یہ اسکندر مرزا سیکرٹری دفاع تھے۔ انھوں نے ہی لیاقت علی خان کو قائل کیا کہ جونئیر موسٹ جنرل ایوب خان کو پرموشن دے کر آرمی چیف بنایا جائے۔ یہی وجہ تھی کہ اسکندر مرزا سمجھتے تھے جنرل ایوب ان کے احسان تلے دبے رہیں گے۔ لیکن ایسا ہو نہ سکا اور ایوب خان نے اپنے محسن سے اقتدار چھین کر اسے ملک بدر کر دیا۔

اسکندرمرزا کی بدقسمتی دیکھئے کہ کبھی وہ پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک تھے، ہر چند ماہ بعد اپنے موڈ کے مطابق وزیراعظم تبدیل کر دیتے تھے اور پھر یوں ہوا ۔۔۔۔۔۔ کہ جلاوطنی کے بعد انھیں قبر کے لیے وطن کی مٹی بھی نصیب نہ ہوئی۔ اسکندر مرزا نے انیس سو انہتر میں لندن میں وفات پائی اور ایران کے دارلحکومت تہران میں دفن ہوئے۔ جب تک زندہ رہے انھیں ملکہ برطانیہ سے وظیفہ ملتا رہا کیونکہ وہ اسی کے وفادار تھے۔

اب پاکستان میں اسکندر مرزا کا نہیں جنرل ایوب کا دور شروع ہو چکا تھا۔ ایوب کے مارشل لا کو بہت سے لوگ پاکستان کی ترقی کا سنہری دور کہتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اسے پاکستان کی تباہی کی داستان کہتےہیں۔ یہ دونوں لوگ ایسا کیوں کہتےہیں، اصل کہانی کیا تھی۔ یہ جاننے کیلئے اگلی قسط دیکھئے ۔ اگر اس وڈیو نے آپ کی معلومات میں اضافہ کیا تو دیکھو سنو جانو کو سبسکرائیب کیجئے۔ لائیک، شئیر اور کمنٹس بھی ضرور کیجئے کیونکہ اسی صورت میں ہم اس سلسلے کو جاری رکھ سکیں گے اور بہتر سے بہتر بناتے چلے جائیں گے۔

پاکستان کی کہانی ۔ قسط نمبر5

1954 میں جب پاکستان میں جمہوریت کی گاڑی ابھی پٹڑی پر چڑھی بھی نہیں تھی کہ گورنر جنرل غلام محمد نے اس اسمبلی کو ہی فارغ کر کے گھر بھیج دیا

پاکستان کی کہانی ۔ قسط نمبر4

یہ کیسے ہوا کہ لیاقت علی خان کی وفات کے بعد ایک فالج زدہ شخص پاکستان کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا؟

پاکستان کی کہانی ۔ قسط نمبر3

ادھر قائداعظم جہان فانی سے رخصت ہوئے ادھر حکومتی ایوانوں اور غلام گردشوں میں روایتی محلاتی سازشیں ہونے لگیں۔

پاکستان کی کہانی ۔ قسط نمبر2

جب پاکستان اقوام متحدہ کا رکن بنا تو دنیا میں صرف ایک ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ اور وہ ملک ..

پاکستان کی کہانی ۔ قسط نمبر1

دنیا میں ایسے ممالک کی تعداد بہت کم ہے جو اپنے قیام کے فوری بعد ہی بیرونی حملے کا شکار ہو گئے۔ پاکستان بھی انہی ممالک میں سے ایک ہے۔

Scroll to top