’’دہلی ہمارا ہے‘‘

’’دہلی ہمارا ہے‘‘

برصغیر کی تقسیم کا واقعہ آج کی نسل کے تاریخ کا ایک معمول کا حادثہ تھا مگر وہ لوگ جن کا اس واقعے سے براہ راست پالا پڑا ان  کے لیے یہ واقعہ معنویت سے بھرا ہے۔ آج پاکستان اور بھارت میں جب تاریخ لکھی جاتی ہے تو ٹھیٹھ منطقی انداز میں واقعات کو بیان کر دیا جاتا ہے۔ مگر جب یہ واقعات ہو رہے تھے تو اس وقت جذبات بھی شدت سے متاثر ہو رہے تھے، احساسات کی دنیا میں بھی ہیجان برپا تھا۔

حسین شہید سہروردی کی صاحبزادی شائستہ

بیگم شائستہ اکرام اللہ بچوں کے ساتھ

اکرام اللہ معروف مصنفہ۔ سفارت کار اور لندن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والی پہلی مسلم  خاتون ہیں۔ تقسیم کے واقعے کے حوالے سے ان کی یادداشتیں بہت ہی اہم ماخذ ہیں جو ہمیں اس واقعے کے جذباتی پہلوئوں سے آگاہ کرتی ہیں۔ بیگم شائستہ اکرام اللہ لکھتی ہیں کہ جب برصغیر کی تقسیم یقینی نظر آنے لگی تھی تو اس وقت مجھ سمیت لاکھوں لوگوں کا خیال تھا کہ دلی اور مسلم کلچر تو ایک ہی حقیقت ہیں۔ دلی کے بغیر پاکستان ایسے ہوگا جیسے دل کے بغیر جسم۔

شائستہ اکرام لکھتی ہیں کہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ انہیں اس شہر کو چھوڑ کر جانا پڑ جائے گا جسے وہ دلی کہتی ہیں۔ وہ شہر کہ جس کی محبت ان کے ہر بُنِ مو سے ٹپکتی تھی۔ ابھی پاکستان کی سرحدیں طے نہیں ہوئی تھیں، لیکن میرے ذہن میں کبھی یہ خیال بھی نہیں آیا تھا کہ دلی پاکستان میں شامل نہیں ہوگا۔

اپنی یادداشتوں میں شائستہ اکرام لکھتی ہیں کہ ایک دن ہم ہمایوں کے مقبرے کی سیر کو نکلے کہ میری نند نے مجھ سے پوچھا’’تمھارا کیا خیال ہے کہ اگر پاکستان بنا تو دلی تمھارا ہوگا‘‘ میرے شوہر نے فورا دلی کی اونچی عمارتوں کی طرف دیکھا اور اشارہ کرتے ہوئے کہا’’ان عمارتوں کو دیکھو اور پھر بتائو کہ دلی کس کا ہوگا؟‘‘۔

بیگم شائستہ اکرام لکھتی ہیں کہ’’ مسلم فن تعمیر سے بھرے پرے شہر دلی کو اس وقت کوئی بھی دیکھتا تو یہی کہتا کہ یہ تو مسلمانوں کا شہر ہے۔ لوگ کہتے تھے کہ مسلم ثقافت اگرچہ دلی کے چپے چپے سے چھلک رہی ہے مگر آبادی کے لحاظ سے مسلمان یہاں اقلیت میں ہیں لیکن ایسا ہر گز بھی نہیں تھا ،مردم شماری بھی کرائی جاتی تو دلی ہمارا تھا۔ مگر پنجاب کو تقسیم کر کے ہماری مجموعی اکثریت کو اقلیت میں بدلا گیا اور یوں ہم دلی ہار گئے اور آج دلی کی مسجدیں غرناطہ اور قرطبہ کی طرح یہ کہ رہی ہیں کہ جن عرب وارثوں نے ہمیں تخلیق کیا تھا ہم ان کی عظمت رفتہ کی یاد دلانے والی علامتیں ہیں‘‘۔

برصغیر کی تقسیم کی ایک تاریخ وہ ہے جو چودہ اور پندرہ اگست کو پاکستان اور بھارت میں لہک لہک کر گائی جاتی ہے تو دوسری تاریخ وہ ہے جس کے حرف تاریخ انسانی کی سب سے بڑی انسانی ہجرت کے دوران ہوئی قتل و غارت گری کہ لہو میں بہہ گئے شاید یہی  وجہ ہے کہ تحریک آزادی کے انتہائی اہم رہنما راجہ صاحب محمود آباد نے آزادی کے بعد کہا تھا’’آزادی کے خواب سے جو خوشیاں ہم نے جوڑی تھیں وہ تشنہ رہیں اور فسادات کا غم ان پر حاوی آگیا ہے۔لگتا ہے ابھی مستقبل کو بُننے کا خواب تشنہ تعبیر ہے‘‘۔

نوٹ۔ اس مضمون میں شامل تمام معلومات اور واقعات کوپروفیسر مشیر الحسن کی کتاب’’منقسم قوم کی وراثت‘‘ سے لیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top