الیکشن 1946۔۔۔ پاکستان کی تاریخ کے پہلے انتخابات

Election 1994

الیکشن 1946۔۔۔ پاکستان کی تاریخ کے پہلے انتخابات

ان دنوں پاکستان میں انتخابات کے ہنگامے شروع ہیں۔ انتخابات جمہوری عمل کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ پاکستان میں انتخابی عمل کی تاریخ کا جائزہ لیں تو رکاوٹوں اور طویل وقفوں کے باوجود یہ سلسلہ جاری رہا۔ 1958کے ایوبی مارشل لا سے قبل کے گیارہ سال عنان حکومت ان لوگوں کے پاس رہا جو 1946 کے غیر منقسم ہندوستان کے الیکشن میں منتخب ہوئے۔

حقیقت یہ ہے کہ 1946کے الیکشن ہی پاکستان کی تخلیق کی منزل کا آخری بڑا پڑائو تھے کیونکہ ان الیکشن نے اس حقیقت کو پایہ ثبوت تک پہنچا دیا تھا کہ مسلم لیگ ہی مسلمانان برصغیر کی نمائندہ جماعت تھی۔

آئیے آپ کو تاریخ پاکستان کے ان پہلے انتخابات کے بارے میں بتاتے ہیں۔

برصغیر میں سیاسی بیداری اپنے نقطہ عروج پر پہنچی تو برطانیہ نے اقتدار مقامی طاقتوں کو سونپ کر برصغیر کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ انتقال اقتدار کے لیے ہندوستان میں1945/46 میں برطانوی حکومت نے الیکشن کرائے۔

مسلم لیگ کے اہداف

1946 کے الیکشنز میں مسلم لیگ کو خود کو مسلم آبادی کی نمائندہ سیاسی طاقت ثابت کرنا تھا۔ اس لیے یہ انتخابات مسلم لیگ کے لیے بہت اہم تھے۔ مسلم لیگ کی جیت کی صورت میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک کا مطالبہ عوامی مطالبہ قرار پانا تھا۔ اس وقت مسلم لیگ کی سب سے بڑی حریف بھارت کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس تھی جو مسلم لیگ کے اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتی تھی کہ وہ مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی تنظیم ہے۔

مسلم لیگ کا مقابلہ ان انتخابات میں صرف کانگریس ہی سے نہ تھا بلکہ بنیاد پرست اسلامی جماعتیں بھی لیگ کے خلاف برسرپیکار تھیں جو مسلم لیگ کو ‘جعلی مسلمانوں’ کی جماعت قرار دیتی تھیں۔

الیکشن کے نتائج

الیکشن کے نتائج نے مسلم لیگ کے اس دعوے کو سچ ثابت کر دیا۔ مسلم لیگ مسلمان ووٹوں کا 87 فیصد حصہ لینےمیں کامیاب رہی تھی ۔ ان انتخابات میں مسلم لیگ کو بنگال کی 250 میں سے 114 ، پنجاب کی175 میں سے 75 ، این ڈبلیو ایف پی کی150 میں سے 17، سندھ کی 60 میں سے 28، اتر پردیش کی228 میں سے 54، بہارکی152 میں سے 34، آسام کی 108 میں سے 31، بمبئی کی 175 میں سے 30، مدراس کی 215 میں سے 29 اور اڑیساکی 60 میں سے 4 سیٹیں ملیں۔

پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی

تقسیم کے بعد پاکستان میں شامل ہونے والے علاقوں سمیت مسلم نشستیں جیتنے والے اراکین اسمبلی کو ہی پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے ممبران کا رتبہ ملا۔ 10 اگست 1947کے دن کراچی میں سندھ اسمبلی کی موجودہ عمارت میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا افتتاحی اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس کی صدارت وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل نے کی۔ یہ اجلاس 14 اگست 1947ء تک جاری رہا۔ اس اجلاس میں مشرقی بنگال کے 44، پنجاب کے 17، سرحد کے 3، بلوچستان کے ایک اور صوبہ سندھ کے 4 نمائندے شریک ہوئے تھے۔ اسی اجلاس میں قائداعظم محمد علی جناح کو اسمبلی کا پہلا صدر اور مولوی تمیز الدین کو پہلا اسپیکر منتخب کیا گیا۔ پاکستان کی یہ پہلی دستور ساز اسمبلی 24 اکتوبر 1954ء تک قائم رہی، یہ وہ تاریخ تھی جب ملک غلام محمد نے اس اسمبلی کو توڑ کر ملک میں ہنگامی حالت نافذ کی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top