الیکشن 2018 بھی نوے کی دہائی کے انتخابات جیسے نکلے

election 2018 vs election 90s

الیکشن 2018 بھی نوے کی دہائی کے انتخابات جیسے نکلے

تحریک انصاف کا سٹیٹس کو مخالف موقف

پاکستان تحریک انصاف کا ہمیشہ سے یہ نعرہ رہا ہے کہ وہ سٹیٹس کو کی مخالف جماعت ہے اور روایتی سیاست کے خلاف جہاد کا علم لے کر میدان سیاست میں اتری ہے۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ گذشتہ روز جب تحریک انصاف کے ان امیدواروں کی فہرست سامنے آئی جو عام انتخابات 2018کے لیے فائنل ہوئے ہیں تو ان میں بہت سی تعداد میں ایسے نام نظر آرہے تھے جنہیں سٹیٹس کو کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ اس فہرست کو سامنے رکھیں اور نوے کی دہائی کی اس انتخابی سیاست کو سامنے رکھیں جس کے خلاف عمران خان بات کرتے رہتے ہیں، تو زیادہ فرق نظر نہیں آتا۔

روایتی سیاستدان جو پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن لڑ رہے ہیں

وہ کون سے ایسے حلقے ہیں جہاں پر تحریک انصاف نے منجھے ہوئے جہاں دیدہ سیاست دان میدان میں اتارے ہیں۔ این اے 72 سیالکوٹ 1سے تحریک انصاف کی نامزد امیدوار ہیں۔ اسی طرح حلقہ این اے 79گوجرانوالہ 1 سے محمد احمد چٹھہ ہیں جو معروف سیاستدان حامد ناصر چٹھہ کے فرزند ہیں۔ لاہور کے حلقہ این اے 126سے میاں محمد اظہر کے بیٹے محمد حماد اظہر پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ہیں، اسی طرح ساہیوال سے چوہدری نوریز شکور خان امیدوار قومی اسمبلی ہیں جو ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنما تصور ہوتے تھے۔ خانیوال کی ہراج فیملی بھی اس بار پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے میدان میں اتر رہے ہیں۔

جنوبی پنجاب کی طرف جائیں تو وہاں شاہ محمود قریشی براجمان ہیں۔ وہاڑی کی کھچی فیملی بھی تحریک انصاف کا حصہ ہے۔ رحیم یارخان میں مخدوم خسرو بختیار پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے قومی اسمبلی کے دو حلقوں پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کا تعلق میاںوالی قریشیاں کے مشہور قریشی خاندان سے ہے جن کا رحیمیار خان کی مقامی سیاست پر ستر کی دہائی سے راج چلا آرہا ہے۔ مجموعی طور پر ان انتخابات سے ایسا کوئی تاثر نہیں پیداہوتا نظر آرہا کہ یہ روایتی اور انقلابی سیاست کے درمیان جنگ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top