آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ دنیا کے طاقتور ترین لوگوں میں شامل

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ دنیا کے طاقتور ترین لوگوں میں شامل

فوربس میگزین کی فہرست

امریکی میگزین فوربس گذشتہ ایک دہائی سے سالانہ بنیادوں پر دنیا کے طاقتور ترین افراد کی ایک فہرست شائع کر رہا ہے۔ 2018 کی فہرست میں 75افراد شامل ہیں۔ موجودہ فہرست گذشتہ سال کی فہرست کے بالمقابل رکھیں تو کچھ حیران کن تبدیلیاں نظر آتی ہیں جو یہ باور کراتی ہیں کہ طاقت بھی کوئی مستقل عنصر نہیں بلکہ اس کا شفٹ جاری رہتا ہے۔

طاقتور ترین شخصیات کی فہرست میں گذشتہ چار سال سے روسی صدر ولادیمیر پوٹین سرفہرست چلے آرہے تھے مگر اس سال کی فہرست میں انہیں یہ مقام حاصل نہیں ہو سکا ہے بلکہ پھیلتی معیشت اور ابھرتے سیاسی عزائم کے حامل چین کے صدر شی جن پنگ کو اس فہرست میں پہلی پوزیشن مل گئی ہے۔ حالانکہ وہ گذشتہ سال کی فہرست میں چوتھے نمبر پر تھے۔

یہ فہرست کیسے تیار کی جاتی ہے

فہرست مرتب کرتے وقت جن باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے اس میں پہلا عنصر یہ ہے کہ ان طاقتور افراد کا انسانوں کی آبادی کے کتنے حصے پر اثر پڑتا ہے۔ دوسرا پوائنٹ جو دیکھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو مالیاتی وسائل پر کتنا کنٹرول حاصل ہے ۔ اگر ملک کا سربراہ ہو تو ملک کی جی ڈی پی اگر کمپنی کا سربراہ ہو تو اس کے اثاثے سامنے رکھے جاتے ہیں۔ تیسرا عامل جو طاقت کا تعین کرنے میں سامنے رکھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ان طاقتور لوگوں کو زندگی کے کتنے شعبوں میں اہمیت یا اثر ورسوخ حاصل ہے۔ چوتھا اور آخری عامل یہ سامنے رکھا جاتا ہے کہ آیا دولت یا سیاسی طاقت کا یہ لوگ استعمال بھی کر رہے ہیں کہ نہیں۔ جیسے امریکہ دنیا کا طاقتور ترین ملک ہے لیکن اس کا سربراہ صرف اس بنیاد پر سرفہرست نہیں ہوگا کہ وہ امریکہ کا سربراہ ہے۔

فہرست میں شامل واحد پاکستانی

فوربس میگزین کی طاقتور افراد کی سال 2018کی فہرست میں ایک پاکستانی بھی شامل ہے۔ اور یہ شخصیت کوئی اور نہیں بلکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہے۔ انہیں اس فہرست میں 68ویں پوزیشن ملی ہے۔ فوربس میگزین کے فہرست میں شامل کرنے کے معیار کو سامنے رکھیں تو پاکستانی شخصیت کی یہ شمولیت بجا نظر آتی ہے۔  

فہرست میں شامل دیگر اہم افراد

اس فہرست میں شامل دوسری اہم مسلمان شخصیت ہیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، جنہیں آٹھویں پوزیشن دی گئی ہے۔ نوجوان سعودی شہزادے کے اخباری بیانات اور عالمی و سعودی امور میں دلچسپی کو سامنے رکھیں تو یہ شمولیت ٹھیک نظر آتی ہے۔ فہرست میں سعودی ولی عہد کی اس اونچے درجے پر شمولیت اور گذشتہ سال 16ویں پوزیشن پر موجود سعودی فرمانروا کا اس فہرست سے ہی نکل جانا، اس بات کا بھی اشارہ کرتا ہے کہ سعودی طاقت کے مراکز میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔  دوسری اہم شخصیت جن کا تعلق جنوبی ایشیائی خطے سے ہے وہ ہے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے جبکہ گذشتہ سال کی فوربس فہرست میں وہ دوسرے نمبر پر تھے۔ جرمنی کی خاتون چانسلر اینجلامرکل دنیا کی چوتھی طاقتور ترین شخصیت ہیں۔ ایمازون کے بانی اور دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوز کو پانچویں پوزیشن دی گئی ہے جبکہ مائیکروسافٹ کے بانی کا نمبر ساتواں ہے۔ فیس بک کا بانی مارک زکربرگ اس فہرست میں 13ویں نمبر پر ہے جبکہ ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای کی 17ویں پوزیشن ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top