پاکستان کی کہانی ۔ قسط نمبر1

پاکستان کی کہانی ۔ قسط نمبر1

دنیا میں ایسے ممالک کی تعداد بہت کم ہے جو اپنے قیام کے فوری بعد ہی بیرونی حملے کا شکار ہو گئے۔ پاکستان بھی انہی ممالک میں سے ایک ہے۔ قیام پاکستان کو ابھی دو ماہ ہی گزرے تھے کہ بھارت نے کشمیر پر حملہ کر کے پاکستان کو جنگ میں الجھا دیا۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ کشمیر بھی ان پانچ سو ساٹھ سے زائد ہندوستانی ریاستوں کا حصہ تھا جنہیں آزادی کے بعد پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک ملک میں شامل ہونا تھا۔ کشمیر کی سرحد چونکہ پاکستان سے ملتی تھی اور وہاں مسلمان اکثریت میں تھے اس لئے کشمیر کا پاکستان سے الحاق فطری بات تھی۔ لیکن کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے سازباز شروع کر کے کشمیر میں پاکستان کی حمایت کرنے والے مسلمانوں کا قتل عام شروع  کردیا۔ لیکن کشمیریوں نے راجہ کے ارادے بھانپ کر اس کے خلاف بغاوت کردی۔ پاکستان سے بھی ہزاروں قبائلی اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کے لیے پہنچ گئے۔ کشمیریوں اور قبائلیوں کا مشترکہ لشکر سری نگر پہنچا تو مہاراجہ ہری سنگھ دہلی فرار ہو گیا جہاں اس نے کشمیر کا بھارت سے الحاق کرنے کی دستاویز پردستخط کردیئے۔

اس واقعے کے بعد بھارت نے جنگی طیاروں سے فوج کشمیر میں اتاری اور سری نگر پرقبضہ کرلیا۔ اس وقت پاکستان کی وسائل سے محروم فوج کے برطانوی سربراہ جنرل ڈگلس گریسی نے قائد اعظم کے واضح احکامات کے باوجود کشمیر میں بھارت کا مقابلہ کرنے سے انکار کردیا۔ تاہم بعد میں جب بھارت نے اپنا قبضہ مستحکم کرلیا تو جنرل گریسی کو کشمیر میں فوج بھیجنے پر کوئی اعتراض نہ رہا۔ اگرچہ تب تک بہت دیر ہو چکی تھی پھر بھی پاک فوج نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرکا کامیاب دفاع کیا۔

جنگ جاری تھی کہ بھارت اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے گیا۔ اقوام متحدہ نے کشمیر میں استصواب رائے کی قرارداد منظورکی۔ لیکن قرارداد میں ایک نا انصافی یہ کی گئی کہ بھارت کو جارح قرار دینے کی بجائے الٹا پاکستان سے کہا گیا کہ وہ کشمیر سے فوج واپس بلائے۔ قائداعظم نے یہ قرارداد غیرمنصفانہ قرار دے کرمسترد کی تاہم ان کی وفات کے بعد وزیراعظم لیاقت علی خان اس قرارداد کے تحت جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے اور یکم جنوری انیس سو انچاس کو کشمیر میں جنگ بندی ہو گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top