پاکستان کی کہانی قسط نمبر 6

پاکستان کی کہانی قسط نمبر 6

انیس سو پچپن  میں جب گورنر جنرل غلام محمد رخصت ہوئے تو بیوروکریسی نے ملکی نظام پراپنی گرفت مضبوط کرلی تھی۔ فوجی مداخلت بھی پورے عروج پرتھی۔

میجرجنرل ریٹائرڈ اسکندرمرزا جو بیوروکریٹ بھی رہ چکے تھے گورنرجنرل بن گئے۔ یوں عملی طور پرحکومت فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قبضے میں چلی گئی۔ اسکندرمرزا طویل عرصے تک حکومت کرنے کے خواہش مند تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ اگر وہ اپنے دوست آرمی چیف جنرل ایوب خان کو اقتدار میں شریک کر لیں تو ان کی خواہش پوری ہو سکتی ہے۔ سو انھوں نے ایسا ہی کیا۔ تاریخ کے ریکارڈ کو درست رکھنے کے لیے آپ کو بتاتے چلیں کہ اسکندر مرزا، میر جعفر کے پڑپوتے تھے۔ وہی میر جعفر جس نے بنگال میں انگریزوں کو راستہ دینے کیلئے نواب سراج الدولہ سے غداری کی تھی۔

سکندر مرزا کا دور پاکستان کی جمہوریت کے لیے جگ ہنسائی کا دور تھا۔ اسکندر مرزا نے صرف تین سال میں پانچ وزرائے اعظم کی چھُٹی کروا کے وزارت عظمیٰ کی کرسی کو ایک مذاق بنا دیا۔ کہتے ہیں کہ اس پر بھارتی وزیراعظم نہرو نے کہا تھا کہ میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنی تیزی سے پاکستان میں وزیراعظم بدلتے ہیں۔

اسکندر مرزا کا پہلا شکار وزیراعظم محمد علی بوگرہ تھے۔ جنھیں ہٹا کرایک بیوروکریٹ چودھری محمد علی کو وزیراعظم بنایا گیا۔ لیکن یہ ساتھ بھی ایک سال سے زیادہ نہ چل سکا اور انیس سو چھپن میں انہیں بھی گھربھیج دیا گیا۔ چوہدری محمد علی کی جگہ حسین شہید سہروردی کو وزیراعظم بنایا گیا۔ لیکن جب حسین شہید سہروردی نے اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو اسکندر مرزا نے انہیں بھی اقتدار چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ حسین شہید سہروردی کی جگہ ابراہیم اسماعیل چندریگر جنہیں آئی آئی چندریگر بھی کہا جاتا ہے، وزیراعظم بنے لیکن صرف دو ماہ بعد انہیں بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی جگہ ملک فیروز خان نون پاکستان کے ساتویں وزیراعظم بنے اور یہ پہلے وزیراعظم تھے جن کا تعلق پنجاب سے تھا۔ اس سے پہلے جتنے بھی وزرائے اعظم یا گورنر جنرل آئے ان میں قائداعظم کو چھوڑ کر باقی سب مشرقی پاکستان سے تھے یا مہاجر تھے۔ وزیراعظم فیروز خاں نون نے گوادر کی بندرگاہ پاکستان میں شامل کی۔ یہ بندرگاہ برطانوی دور میں عرب سلطنت اومان کو دے دی گئی تھی۔ ملک فیروزخان نون نے اومان کو ایک کروڑ ڈالر کی رقم ادا کی اور گوادر کو پاکستان میں شامل کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ نواب اکبربگٹی نے اومان سے مذاکرات میں اہم کردارادا کیا تھا۔

جن وزرائے اعظموں کو اسکندر مرزا اپنی تفریح طبع کے لیے آئے روز فارغ کر رہے تھے انھی میں سے ایک چودھری محمد علی نے جاتے جاتے بھی پاکستان کا پہلا آئین جسے 1956 کا ائین کہتے ہیں مکمل کر دیا تھا۔ اسی آئین کے تحت اسکندر مرزا گورنر جنرل سے پاکستان کے پہلے صدر بنے اور پاکستان اسی آئین کے تحت ملکہ برطانیہ کے تسلط سے پوری طرح نکل کر ایک آزاد اور خود مختارملک بن گیا۔

ادھر آئین بنا ادھر ملک میں انتخابات کا ماحول پیدا ہو گیا۔ یہ بات پاکستان کے لیے خوشی کا باعث تھی لیکن اسکندر مرزا اور جنرل ایوب کے لیے یہ بڑے دکھ کی بات تھی۔ کیونکہ اسکندر مرزا صدارت کی کرسی سے چپکے رہنا چاہتے تھے لیکن مشکل یہ تھی آئین بننے کے بعد اقتدار میں صرف وہی رہ سکتا تھا جسے عوام اپنے ووٹوں سے منتخب کریں۔ جبکہ اسکندر مرزا اور ایوب خان تو کسی صورت انتخابی عمل سے منتخب نہیں ہو سکتے تھے۔ لحاظہ دونوں نے چور راستوں سے اقتدار پر قابض رہنے کے ہتھکنڈے آزمانے شروع کر دئیے۔ مرزا اور ایوب دونوں جانتے تھے کہ اگر انہوں نے الیکشن سے پہلے کوئی قدم نہیں اٹھایا توآج کے بعد وہ پاکستان میں اقتدار کے مزے کبھی نہیں اٹھا سکیں گے کیونکہ ایوب خان ریٹائرڈ ہونے والے تھے اور اسکندر مرزا نئی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے قابل نہیں تھے۔ ایسے میں انھوں نے وہی کیا جو خوفزدہ آمر کیا کرتے ہیں۔

سات اکتوبر انیس سو اٹھاون کو اسکندر مرزا نے حکومت برطرف اور آئین منسوخ کرکے ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اسکندر مرزا باوردی فوجی نہیں تھے اس لیے تاریخ کا یہ ریکارڈ درست رہنا چاہیے کہ پاکستان میں پہلا ملک گیر مارشل لا فوج نے نہیں بلکہ بنگال سے تعلق رکھنے والے بیوروکریٹ صدر نے لگایا۔ انہوں نے اپنی سازشوں کے طاقتور ساتھی جنرل ایوب کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا۔ جنرل ایوب نے جب دیکھا کہ اسکندر مرزا کا اقتدار اور مارشل لا انھی کے سہارے قائم ہے تو انھوں نے ایک مختصر ملاقات میں اسکندر مرزا کو اقتدار سے بے دخل کر کے جلا وطن کردیا۔

ایوب خان نے قوم سے خطاب کیا، ملک گیر مارشل لا کا باقاعدہ اعلان کیا اور یوں پاکستان میں جمہوریت کی جگہ میرے عزیز ہم وطنو کی باقاعدہ شروعات ہو گئی۔

شجاع نواز نے اپنی کتاب کراس سورڈز میں لکھا ہے کہ جنرل ایوب کو پاکستان پر مسلط کرنے والے بھی اسکندر مرزا تھے۔ کیونکہ جب پاکستان میں انگریز جنرل کی جگہ مقامی جنرل کو آرمی چیف بنانے کی بات چل رہی تھی تو یہ اسکندر مرزا سیکرٹری دفاع تھے۔ انھوں نے ہی لیاقت علی خان کو قائل کیا کہ جونئیر موسٹ جنرل ایوب خان کو پرموشن دے کر آرمی چیف بنایا جائے۔ یہی وجہ تھی کہ اسکندر مرزا سمجھتے تھے جنرل ایوب ان کے احسان تلے دبے رہیں گے۔ لیکن ایسا ہو نہ سکا اور ایوب خان نے اپنے محسن سے اقتدار چھین کر اسے ملک بدر کر دیا۔

اسکندرمرزا کی بدقسمتی دیکھئے کہ کبھی وہ پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک تھے، ہر چند ماہ بعد اپنے موڈ کے مطابق وزیراعظم تبدیل کر دیتے تھے اور پھر یوں ہوا ۔۔۔۔۔۔ کہ جلاوطنی کے بعد انھیں قبر کے لیے وطن کی مٹی بھی نصیب نہ ہوئی۔ اسکندر مرزا نے انیس سو انہتر میں لندن میں وفات پائی اور ایران کے دارلحکومت تہران میں دفن ہوئے۔ جب تک زندہ رہے انھیں ملکہ برطانیہ سے وظیفہ ملتا رہا کیونکہ وہ اسی کے وفادار تھے۔

اب پاکستان میں اسکندر مرزا کا نہیں جنرل ایوب کا دور شروع ہو چکا تھا۔ ایوب کے مارشل لا کو بہت سے لوگ پاکستان کی ترقی کا سنہری دور کہتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اسے پاکستان کی تباہی کی داستان کہتےہیں۔ یہ دونوں لوگ ایسا کیوں کہتےہیں، اصل کہانی کیا تھی۔ یہ جاننے کیلئے اگلی قسط دیکھئے ۔ اگر اس وڈیو نے آپ کی معلومات میں اضافہ کیا تو دیکھو سنو جانو کو سبسکرائیب کیجئے۔ لائیک، شئیر اور کمنٹس بھی ضرور کیجئے کیونکہ اسی صورت میں ہم اس سلسلے کو جاری رکھ سکیں گے اور بہتر سے بہتر بناتے چلے جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top