پاکستان کی کہانی قسط نمبر 7

پاکستان کی کہانی قسط نمبر 7

پاکستان کی کہانی کی ساتویں قسط دیکھ رہے ہیں۔ 1958 میں پاکستان کا پہلا ملک گیر مارشل لا لگا اور ایوب خان پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کی پرسنیلٹی کو سمجھنے کیلئے دو باتیں جاننا نہایت ضروری ہیں۔

ایک یہ کہ آزادی سے پہلے ایوب خان انڈین نیشنل آرمی میں کپتان تھے اور انگریزوں کیلئے مخبر کا کام کرتے تھے۔ وہ انگریز افسروں کو برطانوی راج کے خلاف بات کرنے والے فوجیوں کے نام بتایا کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ قائداعظم نے سیاسی قیادت کو ان کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

دوسری بات یہ کہ جنرل ایوب جمہوریت اور سیاستدان دونوں سے ہی نفرت کرتے تھے۔ اس کا اظہار انھوں نے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد امریکی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی کیا۔ جس میں انھوں نے بتایا کہ سیاستدان ملک کو لوٹ رہے تھے چنانچہ ملک بچانے کیلئے مجھے اقتدار سنبھالنا پڑا۔ وہ پہلے ڈکٹیٹر تھے جو برملا کہتے تھے کہ عوام ابھی اتنے باشعورنہیں ہوئے کہ انھیں ووٹ کا حق دیا جائے۔

جمہوریت اور سیاستدانوں سے ان کی نفرت اتنی زیادہ تھی کہ انھوں نے ایبڈو اور پراڈا کے بدنام زمانہ قوانین بنائے گئے۔ ان قوانین کے تحت سات ہزار سیاستدان سات، سات سال کے لیے نااہل قرار دیئے گئے۔ نااہل قرار دیئے جانے والے سیاستدانوں میں سابق وزرائے اعظم حسین شہید سہروردی اور فیروزخان نون جیسے بڑے نام بھی شامل تھے۔ ان لوگوں کو نااہل کرنے کے لیے کرپشن اور ملک دشمنی کے الزامات لگائے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب کسی سیاستدان پر کرپشن کے الزامات لگا کر برطرف کیا جاتا ہے یا سیکیورٹی رسک قرار دیا جاتا ہے تو سمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں کہ یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے۔۔۔

سیاستدانوں پر کرپشن الزامات اور نااہل کرنے کے بعد ایوب خان نے اپنی مرضی کا ایک خودساختہ آئین تشکیل دیا اور انیس سو پینسٹھ میں اسی آئین کے تحت انتخابات کا اعلان کر دیا۔ خودپسندی اوراقتدار کی ہوس دیکھئے کہ جنرل ایوب جو پاکستان مسلم لیگ کے صدر بھی تھے وہ خود صدارتی امیدوار کے طور پر میدان میں آ گئے۔ ان کے مقابلے کے لیے اب میدان میں کوئی سیاستدان نہیں بچا تھا کیونکہ تمام قابل ذکر سیاستدانوں کو مختلف الزامات میں نااہل کیا جا چکا تھا اور اپوزیشن بری طرح تقسیم تھی۔ ایوب خان کا خیال تھا کہ وہ بہت مقبول ہیں اور باآسانی جیت جائیں گے۔ ایسے میں تقسیم شدی اپوزیشن نے بھی شاندار پتہ کھیلا۔ انھوں نے متفقہ طور پر قائداعظم محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو صدر پاکستان کے امیدوار کے طور پر کھڑا کر دیا۔ اس وقت وہ پاکستان کی واحد امید تھیں۔ جنرل ایوب خان فاطمہ جناح سے خوفزدہ تھے۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان دونوں میں فاطمہ جناح کو پذیرائی ملنا یقینی بات تھی۔ لیکن ایوب خان نے صحت مند مقابلے کے بجائے محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف کردار کشی کی گھٹیا مہم شروع کروا دی۔ بانی پاکستان کی بہن کو بھارتی ایجنٹ اور غدار کہا گیا۔

انیس سو پینسٹھ کے متنازع ترین انتخابات ہوئے اور کھلی دھاندلی کی گئی جس کے نتیجے میں ایوب خان جیت گئے۔ اتنی بڑی ناانصافی نے ایوب خان کو عوام کی نظروں سے گرا دیا۔ ایوب خان کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع ہو گئے اور سڑکوں چوراہوں پر ایوب کے خلاف ہر طرح کے نعرے لگنے لگے۔

اسی دوران دو ایسے واقعات ہوئے جن سے ملک کی معاشی حالت ڈانواں ڈول ہو گئی اورایوب خان کو بہت بڑا سیاسی دھچکا پہنچا۔ ایک واقعہ تو 1965 کی جنگ ستمبر کا ہوا۔ جس میں پاکستان نے بھارتی حملے کا بھرپور اور کامیاب دفاع کیا لیکن اس کا نقصان یہ ہوا کہ امریکہ پاکستان سے ناراض ہو گیا۔ وجہ یہ تھی امریکہ سے پاکستان کا معاہدہ تھا کہ پاکستان امریکی ہتھیاروں کو بھارت کے خلاف استعمال نہیں کرے گا۔ لیکن ظاہر ہے جنگ میں پاکستان نے اپنی پوری طاقت بھارت کے خلاف استعمال کی جو پاکستان کا حق بھی تھا۔ لیکن اس سے امریکی امداد بند ہو گئی۔ دوسرا واقعہ معاہدہ تاشقند تھا۔ جس میں جنرل ایوب کے بارے میں یہ تاثر پھیل گیا انھوں نے بھارت میں جیتی ہوئی جنگ ستمبر مذاکرات کی میز پر ہار دی ہے۔ ان دو واقعات اور محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف دھاندلی ایوب خان کے اقتدار کیلئے زہرقاتل ثابت ہوئے۔

ذوالفقار علی بھٹو اس وقت ایوب کے وزیر خارجہ تھے اور سر عام جنرل ایوب کو ڈیڈی کہا کرتے تھے۔ بھٹو نے حالات بدلتے دیکھے تو ایوب خان کے خلاف عوامی جذبات کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے پاکستان کی پہلی عوامی جماعت پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی اور مغربی پاکستان کے سب سے بڑے اور پہلے عوامی لیڈربن گئے۔

جب بھٹو کی قیادت میں صدر ایوب خان کے خلاف عوامی مزاحمت بے قابو ہو گئی تو آرمی چیف جنرل یحیٰ نے مارچ انیس سو انہتر کو ایوب خان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔

ایوب خان نے پاکستان پر دس سال حکومت کی اور یہ دس سال پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین سال تھے۔ ان برسوں میں ابتدائی طور پر پاکستان کھل کر امریکی کیمپ میں شامل ہوا جس کے چند مثبت نتائج یہ نکلے کہ امریکی مدد سے پاکستان نے پہلی بار منگلا اور تربیلا جیسے بڑے بڑے ڈیمز کی تعمیر کا آغاز کیا، صنعتوں اور زراعت کو فروغ دیا۔ پاک فوج مضبوط ہوئی۔ پاکستان پہلی بار گندم کی پیداور میں خودکفیل ہوا۔ بنکنگ سیکٹر پروان چڑھا اور چین سے تعلقات بہتر بنائے گئے۔ لیکن ایوب خان کی سب سے بڑی ناکامی یہ تھی کہ ان کے دور میں مشرقی اور مغربی پاکستان میں دوریاں اتنی بڑھ گئی تھیں کہ محض تین سال بعد ملک دو ٹکڑے ہوگیا۔ ایوب خان نے امریکی امداد سے پاکستان میں انڈسٹری کو ترقی تو دی لیکن اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے جمہوری سسٹم ڈیلیپ نہیں ہونے دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ امداد کی سر پر ہونے والی ترقی امریکی امداد کے خاتمے پر ختم ہو گئی۔ منگلا تو مکمل ہو گیا لیکن تربیلا ڈیم کے لیے پیسے ختم ہو گئے۔ تربیلا ڈیم بھٹو دور میں مکمل ہوا۔

پاکستان کی کہانی جاری ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین باب یعنی پاکستان کیسے دو ٹکڑے ہوا؟ پاکستان توڑنے کے ذمہ دار فوجی جرنیل تھے یا سیاسی حکمران؟ یہ جاننے کیلئے اگلی قسط دیکھئے اور دیکھو سنو جانو کو سبسکرائب کیجئے۔ اگر آپ کو یہ وڈیو اچھی لگی تو لائیک، کمنٹس اور شیئر ضرور کیجئے تا کہ ہم اس سلسلے کو جاری رکھ سکیں اور بہتر سے بہتر بنا سکیں۔

پاکستان کی کہانی کی مکمل اقساط دیکھیں

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top