جانور جو انسان کے ہاتھوں ختم ہونے والے ہیں

جانور جو انسان کے ہاتھوں ختم ہونے والے ہیں

وہ جانور جو 2050 کے بعد انسان نہیں دیکھ سکے گا

جنگلی حیات کے ماہرین کا دعوی ہے کہ 1970 سے لیکر اب تک 58 فیصد جنگلی حیات میں کمی ہوئی ہے ۔ اگر انسان کا رویہ اس زمین کے ساتھ یہی رہا تو اگلی کچھ دہائیوں میں بہت سے ایسے جانور ناپید ہوجائیں گے جو اس دنیا کا اتنا ہی حصہ تھے جتنا کہ کوئی بھی جاندار تھے۔ ہم آج آپ کو چند ایسے جانوروں کے بارے میں بتاتے ہیں جنہیں انسان 2050 کے بعد اس زمین پر نہیں دیکھ سکے گا۔

1۔ نسناس یا انسان کی طرح دکھائی دینے والا بندر

نسناس جنگلی حیات میں ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہے۔ اس کی غذا کا دارومدار مختلف پھلوں اور سبزیوں پر ہوتا ہے۔ یہ اپنے لمبے بازئوں کی وجہ سے درختوں کے درمیان جھولنے والا جانور ہے۔ مگر جنگلوں میں درختوں کے کٹنے کی وجہ سے اب اتنے درخت نہیں رہے جن پر یہ جھول سکے۔ ان جانوروں کی دو انواع ہیں اور بدقسمتی سے دونوں ہی انواع کو مٹنے کا شدید خدشہ ہے۔ پھل اور سبزیاں کھانے والا یہ جانور ان پھلوں اور سبزیوں کے بیج پورے جنگل میں بکھیرتا ہے اگر یہ مٹ گیا تو ان پھلوں اور سبزیوں کے پھیلائو کا ایک اہم ذریعہ ختم ہو جائے گا۔

2۔ لیمرس۔۔۔۔ ایک چھوٹا اور خوبصورت بندر

لیمرس وہ جانور ہے جسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ دنیا کا قدیم ترین ممالیہ ہے۔ یہ سات کروڑ سال سے دنیا میں موجود ہے۔ ہمارے ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہونے کے باوجود آج اس جانور کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ اس جانور کی 50 انواع ہیں جن میں سے 10 اس وقت شدید خظرے سے دوچار ہیں۔ ان کی زیادہ تر آبادی مڈگاسکر کے جنگلات میں آباد ہے۔ اس جانور کی ایک اہم نوع جو جسامت میں گوریلا جتنی تھی پہلے ہی فنا ہو چکی ہے۔ سائنسی تحقیق میں اس جانور سے بہت کام لیا گیا ہے مگر آج انسانی آبادی کے ہاتھوں اسے فنا کے خوف نے گھیر رکھا ہے۔

3۔ سمندری کچھوا یا بازمنقار کچھوا

سمندری کچھوے اس زمین پر دس کروڑ سال سے موجود ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ان کی اکثر انواع فنا کی بھیڑ چال میں ہیں۔ ان کی آبادی کے خاتمے کے پیچھے سب سے بڑی وجہ ماہی گیر ہیں جو مچھلیوں کے جال ڈالتے ہیں تو ان میں یہ کچھوے بھی آجاتے ہیں۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ بڑی کوشش کررہا ہے کہ اس مٹتی نوع کو کسی طرح سے بچایا جائے ۔ اس کے لیے ایک سکیم شروع کی گئی کہ جو بھی شخص ان کچھووں کو اپنے گھر میں پالتو جانوروں کے طور پر پالتا ہے اسے ادارہ فنڈ مہیا کرتا ہے۔

4۔ گینڈا

گینڈے کی پانچ انواع ہیں اور پانچوں ہی مٹنے کے کنارے پر ہیں۔ ان کے مٹنے کے پیچھے انسان کا یہ خیال ہے کہ اس کے سینگ بہت قیمتی ہوتے ہیں، شکاری ان سینگوں کے لیے اتنے دیوانے ہوچکے ہیں کہ اس جانور کی نسل تک مٹانے پر تل گئے ہیں۔ جنوبی افریقہ کی حکومت اس وقت بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ کسی طرح اس جانور کو بچا لیا جائے۔ اس وقت بیس ہزار کے قریب گینڈے ہیں جن کی حفاظت افریقی حکومت کر رہی ہے۔

5۔ قطبی ریچھ

قطبی ریچھ کو فی الحال غیر محفوظ جانوروں کی صف میں شامل کیا گیا ہے اور فوری مٹنے کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔ مگر جس تیزرفتاری سے ماحول کی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے ان جانوروں کے مٹنے کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ یہ برف کے جانور ہیں مگر ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے قطبین پر برف کم ہو رہی ہے جس کی وجہ سے اس جانور کو شکار اور ملاپ کے لیے لمبے فاصلے طے کرنے پڑتے ہیں۔ یہ جانور ذہین ہے جس کی وجہ سے یہ دوسرے ریچھوں کے ساتھ ملاپ کر کے اپنی نسل بچانے کی کوشش کر رہا ہے مگر بہر حال ملی جلی نسل کے یہ ریچھ قطبی ریچھ نہیں ہوں گے۔

6۔ گوریلا

گوریلوں کی چار مختلف انواع کو شدید خطرہ ہے کہ وہ مٹ جائیں گی۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ گذشتہ بیس سالوں میں ان کی آبادی آدھی رہ گئی ہے۔ ان کی آبادی کا زیادہ حصہ کانگو کے جنگلات میں موجود ہے جہاں شکاری گوشت کے لیے ان کا شکار کر رہے ہیں۔ پہاڑی گوریلوں کی تعداد اس وقت 880 ہے ۔ ورلڈ وائلڈ فنڈ اپنی پوری کوشش کر رہا ہے کہ ان گوریلوں کو مٹنے سے بچایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top