عورت جسے 13 سال تک شیشے کے کیبن میں بند رہنا پڑا

عورت جسے 13 سال تک شیشے کے کیبن میں بند رہنا پڑا

سپین کے شہر کیڈیز کی ایک خاتون جوانا مونوز گذشتہ 13 سال سے شیشے کے ایک کیبن میں قید ہے۔ اس کی وجہ ان کی حد سے بڑھی حساسیت ہے۔ 25 میٹر کے اس شیشے سے باہر کی دنیا جوآنا کے لیے موت کا پیغام ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق مختلف کیمیکلز سے الرجی کی وجہ سے جوانا کا معمول کی زندگی گزار پانا ناممکن ہے۔

جوانا سال میں 2بار اپنے بچوں کو گلے مل سکتی ہے

خاتون کی بے بسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ہی بچوں کو سال میں صرف دو بار گلے لگا سکتی ہیں۔ جوانا مونوز کی تنہائی کا عالم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص انہیں ملنے کے لیے شیشے کے اس قید خانے میں داخل ہونا چاہے تو اسے پہلے کئی قسم کے جراثیم کش محلول سے نہانا پڑتا ہے۔ شیشے کے کیبن میں داخل ہونے کے لیے صرف کاٹن کے کپٹرے پہن کر جایا جا سکتا ہے اور کاٹن بی ایسی جو مکمل طور پر نامیاتی کپاس کے ریشوں سے تیار کی گئی ہو یعنی ایسی کپاس جس پر کسی بھی قسم کی سپرے نہ کی گئی ہو اور کسی بھی قسم کی مصنوع کھاد نہ دی گئی ہو۔

کیسے اسے یہ بیماری ہوئی؟

اس وقت خاتون کی عمر 53 سال ہے جب کہ پہلی بار اس مرض کی تشخیص اس وقت ہوئی تھی جب وہ ابھی 29 سال کی تھی۔ جوانا بتاتی ہے کہ ایک دن ان کا شوہر گھر کے باغیچے میں کاشت کی گئی آلو کی کیاری پر سپرے کر رہا تھا کہ میں نے آلو کے پتوں کو چھو لیا۔ تھوڑی دیر میں ہی میرے ہونٹ سوجنا شروع ہو گئے۔ اس کے بعد جوانا کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں پہنچتے پہنچتے اس کا جسم سوج کا کپا ہوگیا۔ جوانا بتاتی ہیں کہ اس وقت میں گویا کوئی بھوت لگ رہی تھی۔یہی واقعہ اس کی اس عجیب و غریب بیماری کا باعث بنا۔

ڈاکٹروں کا مشورہ

خیر ڈاکٹر نے دوائیاں وغیرہ دیں جس سے جوانا ٹھیک ہو گئی مگر اس کے بعد اکثر وہ کسی نہ کسی کیمیکل کو چھونے کی وجہ سے الرجی کا شکار ہونے لگی اور بار بار ڈاکٹر کے پاس جانے لگی۔ مختلف ڈاکٹروں کی تشخیص اور کئی ٹیسٹوں کے بعد ڈاکٹروں نے جوآنا کو بتایا کہ اگر وہ زندہ رہنا چاہتی ہیں تو انہیں عام دنیا سے کٹ کر شیشے کے ایک باکس میں زندگی گزارنی ہوگی۔ ایسے محفوظ ماحول میں جہاں وہ کسی کو چھو سکیں نہ وہ کسی کو چھو سکیں۔

قید سے رہائی کا وقفہ

جوانا کی اس قید میں رہائی کا وقفہ وہی ہوتا ہے جب اسے طبی معائنے کے لیے ہسپتال لے جایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ وقتی رہائی اس کے لیے خوشی کا باعث بنتی ہے مگر شیشے کے قید خانے سے ہسپتال اور ہسپتال سے واپس گھر تک کا یہ سفر بھی تھکاوٹ سے بھرپور ہوتا ہے کیونکہ اس دوران بھی بے انتہا احتیاط کرنا پڑتی ہے۔ کہ کوئی اسے چھو نہ سکے کسی کو وہ نہ چھو سکے۔ یا کوئی کیمیکل اس کے آس پاس نہ ہو۔ جوانا اپنے بچوں اور شوہر سے بھی شیشے کی دیوار کے پیچھے سے ملتی ہے۔ اور اکثر اس کی آنکھ میں آنسو رہتے ہیں۔ وفا شعار شوہر اپنی بیوی کے لیے گھر کے باغیچے میں ہی نامیاتی سبزیاں اگاتا ہے اور یہی سبزیاں جوانا کی خوراک ہیں۔ ہفتے میں دو دن جوانا کو ایسے جانور کا گوشت کھانے کی اجازت ملتی ہے جو ایسی چراگاہ میں چرکر گھاس کھاتا ہوجہاں کیڑے مار ادویہ کا سپرے کیا جاتا ہو نہ کھاد دی جاتی ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top