خوش ملکوں کی صف میں پاکستان کی 75ویں پوزیشن

خوش ملکوں کی صف میں پاکستان کی 75ویں پوزیشن

 عمومی طور پر ملکوں کی خوشحالی کو ماپنے کا معیار گراس ڈومیسٹک پراڈکٹ کو قرار دیا جاتا ہے لیکن گذشتہ ایک دہائی میں ملکوں کی خوشحالی کا معیار خوشی کو بنانے کی ایک باقاعدہ تحریک جاری ہے۔ سب سے پہلے بھوٹان کے بادشاہ نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی ریاست کی ترقی کو گراس ڈومیسٹک پراڈکٹ میں ماپنے کی بجائے گراس  نیشنل ہیپی نیس کے معیار پر جانچیں گے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی جانب سے چودہ مارچ 2018کو دنیا کے خوش ترین ملکوں کی فہرست جاری کی گئی۔

اس فہرست سازی کو چھ معیارات کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے  پہلا عامل ہے معاشی ترقی، لوگوں کی معاشی حالت کیا ہے، لوگوں کو سماجی طور پر کیا سپورٹ حاصل ہے۔کہیں لوگ تنہائی اور بیگانگی کا شکار تو نہیں۔ کیا انہیں اپنی آزادیاں استعمال میں لانے کی اجازت حاصل ہے کیاوہ بولنے کی ، عقیدوں کی اور اظہار کی آزادیاں رکھتے ہیں۔ لوگوں کی اوسط عمر کیا  ہے، بچوں اور خواتیں کی شرح اموات کیا ہیں؟ان چھو عوامل میں ایک عامل بہت ہی دلچسپ ہے اور وہ ہے سخاوت۔ انسانی علوم کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جو شخص جتنا سخی ہو گا وہ اتنا ہی خوش ہوگا۔ معیارت میں آخری معیار ہے کرپشن۔ کس ملک میں کرپشن کا زہر کتنا گہرا ہے یہ اس ملک کے باسیوں کی خوشی یا ناخوشی طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اب بات کرتے ہیں اس رپورٹ کے نتائج پر۔ گذشتہ دو سالوں کی رپورٹ میں دوسرےاور پانچویں نمبر پر آنے فن لینڈ اس بار گزشتہ سال کے فاتح ناروے کو چت کر کے دنیا کا خوش ترین ملک قرار پایا ہے۔ سکینڈے نیوین ملکوں میں فی کلومیٹر سب سے زیادہ جنگلات کا حامل ملک فن لینڈ دنیا کی پرامن ترین ریاست ہے جہاں زندگی کو کم سے کم خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معاشی طور پر خوش حالی کے علاوہ جو اہم ترین وجہ فن لینڈ کو خوشحال ملک بناتی ہے وہ ہے مہاجرین کے ساتھ ان  کا رویہ۔ یہ ایسے زندہ دل لوگ ہیں کے امیگرینٹس کے ساتھ فورا گھل مل جاتے ہیں اور ان کو یہ احساس نہیں ہونے دیتے کہ وہ باہر کے لوگ ہیں۔

اس فہرست میں دوسرے نمبر پر پچھلے سال کا فاتح ناروے ہے جو یورپ کا سب سے خوبصورت ملک قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کی سب سے خوبصورت اور نمایاں عادت یہ ہے کہ ان کے ہونٹوں پر ہر وقت ایک مسکراہٹ کھیلتی رہتی ہے۔ تیسرے نمبر پر دنیا کا خوش ترین ملک ہے ڈنمارک اور جو عوامل اسے خوش ملکوں میں بلند مرتبہ دلاتے ہیں وہ یں برترطرز زندگی، صحت اور تعلیم کا اعلی ترین نظام اور ویلفئیر کا مربوط اور بہترین نظام ۔ اس فہرست میں اگلا شامل ملک بہترین نظاروں کا حامل ملک ہے ، آئس لینڈ دنیا کا سب سے بہترین لینڈ سکیپ ہی نہیں رکھتا بلکہ اس کے لوگوں کو خوش رہنے کافن بھی آتا ہے۔ اس ملک کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہاں موجود ہر دسواں شخص مصنف ہے جس کی اپنی کتاب شائع ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں تعلیم اور صحت کی اعلی تر خدمات شہریوں کے لیے بالکل مفت دستیاب ہیں۔ پانچواں خوش ترین ملک ہے سوئزر لینڈجس کی معیشت ہی خوشحال نہیں بلکہ تعلیم کے لحاظ سے بھی یہ ملک بہت آگے ہے۔

ہالینڈ خوش ملکوں کی فہرست میں چھٹے نمبر پر ہے ۔گل لالہ سے بھرے اس ملک کے باسیوں کو خوش رہنا اور خوش رکھنا خوب آتا ہے۔ خوبصورت نظاروں اور طوالت عمری کی نعمتوں سے مالامال کینیڈا ساتواں خوش ترین ملک ہے۔ پرسکون پانیوں اور مسحورکن نظارے نیوزی لینڈ کو دنیا کا آٹھواں خوش ترین ملک بناتے ہیں۔سیاحوں کے لیے مقناطیسی صلاحیتوں کا حامل سویڈن اس فہرست میں نویں نمبر پر ہے جبکہ دل موہ لینے والے ساحل سمندر آسٹریلیا کو دسواں خوبصورت ملک بناتے ہیں۔

حیران کن طور پر معاشی اور سیاسی طور پر سپر پاور کا خطاب رکھنے والی امریکی ریاستیں اس فہرست میں اٹھارویں نمبر پر ہے ۔ ماہرین بشریات امریکہ کو معاشی کی بجائے سماجی مسائل میں الجھا قرار دیتے یہں۔ پاکستان کو اپنے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی کے مسائل کی وجہ سے اس فہرست میں 75ویں پوزیشن ملی ہے۔ جو اگرچہ جنوبی ایشیا میں سب سے بلند درجے پر ہے کیونکہ بنگلہ دیش 115ویں جبکہ بھارت 133ویں نمبر پر ہے،لیکن مجموعی طور پر ہم دنیا کے خوش لوگوں میں شامل نہیں ہیں حالانکہ ہمارے امکانات بہت زیادہ ہیں مگر ادارہ جاتی کشمکش،تعلیم کا ناقص نظام ،صحت کی ناکافی سہولتیں،اور دہشت گردی جیسی برائیوں کی وجہ سے ہم اپنے امکانات کو بروئے کار نہیں لا پارہے ہیں۔یہ بھی اہم بات ہے کہ اعدادوشمار کی بنیاد پر ہم 2017کی رپورٹ سے 5درجے بلند ہوئے ہیں۔ اس رپورٹ میں پاکستان کا نمبر 80واں تھا۔ 156ملکوں کی اس صف بندی میں سب سے کم خوش ملک افریقی ریاست برونڈی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top