’’مرشد مروا نہ دینا‘‘

’’مرشد مروا نہ دینا‘‘

’’مرشد مروا نہ دینا‘‘

پاکستان کی سیاسی تاریخ بہت دلچسپ بھی ہے سبق آموز بھی اور عبرتناک بھی۔ حقائق کی بنیاد پر کیے گئے ٹھوس تجزیے اور اعداد و شمار سے بھری تحقیق کے علاوہ اس میں مزے مزے کے واقعات بھی مل جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک دلچسپ واقعہ ہے کہ جب بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ آرمی کی ہائی رینکس پورے منصوبے پر عملدرامد کے لیے تیار تھیں  تو چار اور پانچ جولا انیس سو ستتر کی رات اعلی فوجی حکام کا منصوبے سے متعلق حتمی اجلاس ہوا۔

اس اجلاس کا بنیادی مقصد تو یہی تھا کہ جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے منصوبے کا ایک بار پھر اعادہ کر لیا جائے تاکہ کوئی ’’کسر‘‘ نہ رہ جائے۔ منصوبے کو’’ آپریشن فئیر پلے‘‘ کا ’’ان فئیر‘‘نام دیا گیا۔

آپریشن کے آغاز سے تھوڑی ہی دیر قبل چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیاءالحق نے اپنے دیرینہ دوست اور راولپنڈی کے کور کمانڈر لیفٹینٹ جنرل فیض علی چشتی سے ملاقات کی۔ آپریشن فئیر پلے کی باریکیوں پر تبادلہ خیال کیا ، تمام پہلوئوں کو زیر بحث لایا گیا اور جب فیض علی چشتی مشن پر روانہ ہونے لگے تو جنرل ضیا نے فیض علی چشتی کو قریب کرتے ہوئے کان میں کہا ’مرشد مروا نہ دینا‘۔

ضیا صاحب نے غالبا ازراہ مزاق ہی یہ بات کی ہوگی کیونکہ ایسے کسی خطرے کا امکان کم ہی تھا کہ آپریشن فئیر پلے ناکام ہوتا۔ بہر حال تاریخ کے صفحات ہمارے اس امکانی اندازے کو درست ہی ثابت کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top