کیا عہد یوسفی واقعی ختم ہوگیا ؟

Mushtaq Ahmed Yousufi

کیا عہد یوسفی واقعی ختم ہوگیا ؟

فرض کریں ایک فلسفی مزاح نگاری کی طرف مائل ہو جائے تو کیسا مزاح لکھے گا۔ میراخیال ہے اس پر زیادہ غوروخوض کی ضرورت نہیں ہے کہ اس میں فلسفے کی ’’خشک سالی‘‘ اپنی جھلکیاں ضرور دکھا رہی ہوگی۔ اب ایک اور فرض کریں کوئی بینکر طنزومزاح کو طبع آزمائی کا میدان بناتا ہے تو وہاں اعدادوشمار کی کارستانیاں کیا اکتاہٹیں پیدا کریں گی آپ اندازہ کرسکتے ہیں۔ ایک آخری فرض کرتے ہیں کہ کسی ناسٹیلجک شخص کی ادب کی دنیا میں آمد ہوتی ہے تو صنف انتخاب کیا ہوگی، کوئی ’المیاتی‘ یا ’حزنیاتی‘ نوع ادب ہی یقینا میدان کارزار ٹھہرے گی۔ اب اس تمہید کی روشنی میں مشتاق احمد یوسفی کو لیں ، انہوں نے فلسفہ میں ایم اے کیا، عمر بھر بنکوں کی ملازمتیں کیا کیں بنکوں کی راہنمائی کی ۔ اور ناسٹلجیا کا تو ذکر کیا کہ اپنے اسلوب میں اس کی ہم معنی اصطلاح مشتاق احمد یوسفی نے ’یادش بخیریا‘ کے نام سے ایجاد کی۔

جےپور کے پہلے گریجویٹ مسلمان عبدالکریم کے ہاں چار اگست 1923 کو ایک بچہ پیداہوائی جس کا نام مشتاق احمد یوسفزئی رکھا گیا، مگر انہیں یوسفزئی پسند نہ آیا تو انہوں نے اپنی افتاد طبع کے تحت اسے یوسفی سے بدل دیا۔ یہی نونہال مستقبل میں اردو کا صاحبِ طرز مزاح نگارمشتاق احمد یوسفی کہلایا۔ جے پور کی ابتدائی تعلیم کے بعد یوسفی صاحب نے بھی اسی مادرعلمی کو منتخب کیا جسے تقسیم سے پہلے مسلمان اشرافیہ کا اولیں انتخاب کہا جاتا تھا، یعنی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔1945 میں انھوں نے علی گڑھ فلسفے میں پہلی پوزیشن کے ساتھ ایم اے کیا۔ ہونہار یوسفی اگلے ہی سال ڈپٹی کمشنر اور پھر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مقرر ہو گئے۔ اسی سال ان کی شادی ادریس فاطمہ سے ہوئی جو خود بھی ایم اے فلسفہ کی طالبہ تھیں۔

برصغیر پاکستان اور بھارت میں بٹا تو تین سال کے انتظار کے بعد وہ یکم جنوری 1950 کو کھوکھرا پارکراس کر کے کراچی آ بسے۔ اور اس ہجرت کی وجہ خود یوسفی صاحب یہ بتاتے تھے کہ انہوں نے اردو کو سرکاری زبان کے عہدے سے ہٹایا تو ہم نے بھی کہہ دیا کہ ہم کام نہیں کریں گے۔ کراچی نے انہیں سول سرونٹ سے بینکار بنا دیا۔ اس شعبے میں بھی ترقی سبک رفتار رہی اور 1974 میں وہ یونائٹیڈ بینک کے پریزیڈنٹ کے عہدے تک جا پہنچے، بعد ازاں وہ بینکنگ کونسل آف پاکستان کے چیئرمین بھی رہے۔1990 میں ریٹائرمنٹ لے لی۔2007 میں ان کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا جس کا غم اس قدر تھا کہ عملا یوسفی صاحب ٹوٹ کر رہ گئے تھے۔

یوسفی صاحب ادب کو کیرئیر بنانے کے حوالے سے کہتے ہیں کہ والد صاحب انہیں ڈاکٹر بنانے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن ہماری خوش نصیبی کہ انہوں نے ادب میں طنزومزاح کی صنف کو اپنے لیے منتخب کیا۔ یوسفی نے پہلا باقاعدہ مضمون 1955 میں’’صنفِ لاغر‘‘ کے نام سے لکھا اور اس وقت کے معروف رسالے ادب لطیف کو بھیجا جس کے مدیر مشہور مرزا ادیب نے وہ مضمون چھاپنے سے انکار کر دیا۔ یوسفی صاحب نے ہمت نہ ہاری اور ترقی پسند رسالے سویرا کواپنا یہی مضمون بھیجا جس کے مدیر حنیف رامے تھے۔ رامے صاحب نے یہ مضمون شائع ہی نہ کیا بلکہ بلکہ یوسفی کو مزید لکھنے کی ترغیب بھی دی۔

ان کے ابتدائی مضامین ’’صنف لاغر‘‘ کے ہی عنوان سے ان کی پہلی تصنیف ’’چراغ تلے‘‘ میں شامل ہیں۔ یہ کتاب 1961 میں چھپی تھی۔ اس کتاب پر ادبی مباحث نے بھی جنم لیا کیونکہ یوسفی صاحب نے جو ادب پارے لکھے تھے ان کی صنف ہی طے نہیں ہورہی تھی۔ نقاد کہنے لگے کے ان تحریروں کو مضمون کہیں، انشائیہ سمجھیں یا افسانہ کا عنوان دیں۔ چراغ تلے کے بعد نوسال تک خاموشی رہی اور پھر 1970 میں خاکم بدہن شائع ہوئی۔ 1971 میں ان کی اس کتاب کو آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ مزاح کی چاشنی میں لپٹی یوسفی صاحب کی سرگزشت 1976 میں ’’زرگزشت‘‘ کے عنوان سے چھپی تو اسے بھی خوب پزیرائی ملی اور اسے بھی آدم جی ایوارڈ عطا کیا گیا۔ ان کی چوتھی کتاب ’’آب گم‘‘ 1989 میں چھپی تو اس میں کہانی کا عنصر اتنا نمایاں تھا کہ بعض نقاد اسے ناول کی صنف میں شامل کرتے ہیں۔ اس کتاب کے بعد پچیس سال تک لمبی خاموشی کے بعد 2014 ان کی آخری کتاب ’’ شام شعر یاراں‘‘ شائع ہوئی۔

ان کے فنی مہارتوں کا ذکرکیا جائے تو نمایاں بات یہ ہے کہ انہوں نے اردو کے باقی مزاح نگاروں کی طرح کہانی اور کرداروں کی حرکات و سکنات سے مزاح تخلیق کرنے کی بجائے لفظوں کے ہیر پھر سے طنز و مزاح تخلیق کیا۔ ان کا مزاح کبھی معیار سے نیچے نہیں آیا اور اس مزاح میں ان کے فلسفے کی تعلیم بھی چھلکتی ہے۔ وہ فسلفیانہ تفکر کے بعد ایسا چبھتا ہوا جملہ تخلیق کرتے ہیں کہ جو ہنسی پیدا کرنے کے ساتھ سماج کے کسی کلیدی مسئلے پر تبصرہ بھی ہوتا ہے۔ ان کے الفاظ کا ’وسیع ذخیرہ‘ اور وسعت مطالعہ ان کے اہم مدد گار رہے ہیں۔ انہی اوصاف کی بنیاد پر ان کے جملے خود میں وہ کمال پیدا کر سکے کہ کتاب پڑھ چکنے کے سالوں بعد بھی وہ جملے یادوں سے محو نہیں ہوتے۔ یہ چند جملے دیکھیے:

’’آپ نے بعض میاں بیوی کو۔۔۔ ہواخوری کرتے دیکھا ہو گا۔ عورتوں کا انجام ہمیں نہیں معلوم لیکن یہ ضرور دیکھا ہے کہ بہت سے ’ہواخور‘ رفتہ رفتہ ’حواخور‘ ہو جاتے ہیں‘‘۔ ’’مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے‘‘۔ ’’معتبر بزرگوں سے سنا ہے کہ حقہ پینے سے تفکرات پاس نہیں پھٹکتے۔ بلکہ میں تو عرض کروں گا کہ اگر تمباکو خراب ہو تو تفکرات ہی پر کیا موقوف ہے، کوئی بھی پاس نہیں پھٹکتا‘‘۔ ’’اختصار ظرافت اور زنانہ لباس کی جان ہے‘‘۔ ’’مزاح، مذہب اور الکحل ہر چیز میں باآسانی حل ہو جاتے ہیں‘‘۔ ’’مرحوم جوانی میں اشتہاری امراض کا شکار ہو گئے۔ ادھیڑ عمر میں جنسی تونس میں مبتلا رہے، لیکن آخری ایام میں تقویٰ ہو گیا تھا‘‘۔

ان کی کتابیں ہوں یا اخباری کالم ان میں شگفتگی مزاح اور ادبی حسن کے علاوہ ایک چیز ہمیشہ موجود رہتی ہے اور وہ ہے عصری سیاسی اور سماجی مسائل کا شعور اور ناسٹلجیا۔ اس اقتباس میں ملاحظہ کیجیے کہ جمہوری اور مطلق العنان حکمرانوں کا تجزیہ کرتے ہوئے ڈکٹیٹر کی نفسیات کو کس حسین پیرائے میں بیان کیا ہے:

’’رائے کی قطعیت اور اقتدار کی مطلقیت کا لازمی شاخسانہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بندگان خدا سے اس طرح خطاب کرتا ہے جیسے وہ سب پتھر کے عہد کے وحشی ہوں ۔ وہ ہمہ وقت اپنی شیشہ پلائی ہوئی دیوار سے خطاب کرتا رہتا ہے، مگر قد آدم حروف میں اس پر لکھا ہوا نوشتہ اسے نظر نہیں آتا۔ مطلق االعنانیت کی جڑیں دراصل مطلق الانانیت میں پیوست ہوتی ہیں۔ چنانچہ اوامر و نواہی کا انحصار اس کی جنبش ابرو پر ہوتا ہے۔ انصاف کی خود ساختہ ترازو کے اونچے نیچے پلڑوں کو، اپنی تلوار کا پاسنگ، کبھی اس پلڑے اور کبھی اس پلڑے میں ڈال کر برابر کر دیتا ہے۔۔۔۔پھر جیسے جیسے امور سلطنت پر وفور تمکنت اور ہوس حکمرانی غالب آتی ہے، آمر اپنے ذاتی مخالفین کو خدا کا منکر اور اپنے چاکر ٹولے کے نکتہ چینوں کو وطن کا غدار اور دین سے منحرف قرار دیتا ہے اور جو اس کے دست آہن پوش پر بیعت میں عجلت سے کام نہیں لیتے، ان پر اللہ کی زمین کا رزق، اس کی چھاﺅں اور چاندنی حرام کر دینے کی بشارت دیتا ہے۔ ادیبوں اور تلامیذ الرحمن کو شاہی مطبخ کی بریانی کھلا کر یہ بتلاتا ہے کہ لکھنے والے کے کیا فرائض ہیں اور نمک حرامی کسے کہتے ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ ادب اور صحافت میں ضمیر فروش سے بھی زیادہ مفید مطلب ایک اور قبیلہ ہوتا ہے جسے مافی الضمیر فروش کہنا چاہیے۔ اس سے وہ تصدیق کراتا ہے کہ میرے عہد میں اظہار و ابلاغ پر کوئی قدغن نہیں۔ مطلب یہ کہ جس کا جی چاہے جس زمین اور جس بحر میں قصیدہ کہے۔ قطعاً کوئی روک ٹوک نہیں بلکہ وزن، بحر اور عقل سے خارج ہو تب بھی ہم حارج نہیں ہوں گے۔‘‘

 

اس جیسی کسی بھی مختصر تحریر میں یوسفی صاحب کے ادبی قد کو ماپنا ناممکن ہے مگر ایک بات ہے جو وثوق سے کہی جا سکتی ہے اور وہ یہ کہ جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ اردو ادب کا عہد یوسفی ختم ہوگیا، ان سے اتفاق کرنا ناممکن ہے۔ اردو ادب کا عہد یوسفی کبھی ختم نہیں ہوگا۔ مزاح لکھنے والوں کے لیےیوسفی صاحب مینارہ نور کے طور پر ہمیشہ موجود رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top