مشتاق احمد یوسفی کی زندگی پر ایک نظر

Mushtaq Ahmed Yousufi

مشتاق احمد یوسفی کی زندگی پر ایک نظر

مشتاق احمد یوسفی کی ذاتی زندگی

معروف مزاح نگار اور ادیب مشتاق احمد یوسفی 4 ستمبر 1921 کو بھارتی ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد عبدالکریم خان یوسفی جے پور میونسپلٹی کے چیئرمین تھے۔

مشتاق یوسفی نے آگرہ یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم-اے کیا جس کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا۔ انیس سو سینتالیس میں قیام پاکستان کے بعد یوسفی کا خاندان بھارت سے ہجرت کر کے کراچی آ گیا۔

وہ مسلم کمرشل بینک، الائیڈ بینک اور یونائیٹڈ بینک میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔ مشتاق یوسفی پاکستان بینکینگ کونسل کےچیئرمین بھی رہے۔  بینکینگ کے شعبے میں خدمات کی وجہ سے انہیں قائداعظم میموریل میڈل بھی ملا۔

مشتاق یوسفی کی ادبی خدمات

یوسفی نے تمام عمر ادب کی خدمت کی۔ انہوں نے ایک شاعر اور مزاح نگار کی حیثیت سے اردو ادب میں اپنا مقام بنایا۔ ن کی پانچ کتابیں شائع ہوئیں جن میں چراغ تلے (1961ء)، خاکم بدہن (1969ء)،زرگزشت (1976ء)،آبِ گم (1990ء)،شامِ شعرِ یاراں (2014ء) شامل ہیں۔

اپنی ادبی خدمات کی وجہ سے انہوں نے 1999ء میں ستارہ امتیاز اور 2002 میں ہلال امتیاز بھی حاصل کیا۔

مشتاق یوسفی کو کتابوں کے مشہور ایوارڈ آدم جی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ انہوں نے 1990 میں بہترین کتاب پر پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

مشتاق یوسفی کا انتقال

مشتاق یوسفی 20 جون 2018 کو 97 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے۔ انہیں نمونیے کی وجہ سے ہسپتال لے جایا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top