وہ انسان جو مگرمچھ (crocodile) کھاتے ہیں

crocodile

وہ انسان جو مگرمچھ (crocodile) کھاتے ہیں

مگر مچھ (crocodile) دنیا کا خطرناک ترین شکاری جانور سمجھا جاتا ہے۔ یہ پانی کے اندر سے ہی اپنے شکار پر جھپٹتا ہے اور اسے ڈبو کر مار ڈالتا ہے۔ یہ اتنا خطرناک ہے کہ اپنے شکار کی ہڈیاں تک ہضم کر جاتا ہے۔ لیکن دنیا میں ایسے شکاری بھی موجود ہیں جو شوق سے مگرمچھ (crocodile) کا شکار کھیلتے ہیں۔ ان شکاریوں میں انسانی نمبرون ہے۔

امریکی ریاستوں میں مگرمچھ (crocodile) پسندیدہ غذا

امریکہ کی کئی ریاستوں میں مگرمچھ  لوگوں کی پسندیدہ غذا بن چکا ہے۔ خاص طور پر جنوبی ریاستوں جن میں فلوریڈا اور ٹیکساس قابل ذکر ہیں، مگرمچھ  شوق سے پکایا جاتا ہے۔ مگرمچھ کے گوشت سے طرح طرح کی ڈشیں تیار ہوتی ہیں۔ مگرمچھ  کھانے کے شوقین خود بھی شکار کھیل کر مگرمچھ  پکڑتے ہیں اور انہیں مار کر اپنا نوالہ بنا لیتے ہیں۔

مگرمچھ (crocodile) کے گوشت کا انسانی صحت پر اثر

مگرمچھ  کا گوشت کھانے کے شوقین کہتے ہیں یہ گوشت انتہائی مزیدار ہوتا ہے۔ جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ مگرمچھ  کے گوشت میں پروٹین کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔ جو کہ انسانی صحت کے لیے بہت اچھی چیز ہے۔ جبکہ مچھلی کی طرح مگرمچھ  کا گوشت بھی چکنائی سے بڑی حد تک پاک ہوتا ہے۔ اس لئے عام گوشت کے مقابلے میں اسے کھانے کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں

عورت جسے 13 سال تک شیشے کے کیبن میں بند رہنا پڑا

شکار سے مگرمچھوں (crocodile) کی نسل کو خطرہ

مگرمچھوں  کا گوشت کھانے کے شوقین افراد نے ان جانوروں کا اتنا زیادہ شکار کیا ہے کہ ان کے ناپید ہونے کا خطرہ پیدا ہونے لگا تھا۔ امریکی ریاست فلوریڈا میں مگرمچوں  کی آبادی تیرہ لاکھ تک ہے۔ ان کے بے پناہ شکار کی وجہ سے فلوریڈا کی حکومت نے ان کے شکار پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اس کے باوجود لوگ چھپ کر ان کا شکار کھیلتے ہیں۔ ریاست کے کئی علاقوں سے مگرمچھوں (crocodile) کی لاشیں برآمد ہوتی رہتی ہیں۔ اکثر شکاری مگرمچھ (crocodile) کی دم یا سر کاٹ کر باقی جسم چھوڑ جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top