انسانی دماغ کا پراسرار پہلو۔۔۔ پلاسیبو ایفیکٹ

انسانی دماغ کا پراسرار پہلو۔۔۔ پلاسیبو ایفیکٹ

پلاسیبو افیکٹ (Placebo Effect) کیا ہے؟

کیا آپ نے کبھی پلاسیبو افیکٹ کے بارے میں سنا ہے۔ یقینا بہت کم لوگوں نے اس کے بارے میں سنا ہوگا۔ آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ پلاسیبو افیکٹ (placebo effect) کیا ہے۔ پلاسیبو افیکٹ طب کے شعبے میں استعمال ہونے والی ایک اصطلاح ہے، جو انسانی جسم اور انسانی دماغ کے درمیان تعلق کوواضح کرتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ بیماری میں مبتلا کسی شخص کو ایک دوا کھلائی جاتی ہے اور اسے بتایا جاتا ہے کہ آپ کو جو بھی بیماری ہے یہ اس کی بہترین دوائی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ اس دوائی ، گولی یا انجیکشن میں کوئی بھی دوائی نہیں ہوتی ۔ جب بیمار شخص کو یقین ہو جاتا ہے کہ اس نے موثر دوائی لی ہے تو اس کا اثر اس کے بدن پر پڑتا ہے اور وہ ٹھیک ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

 

تجربہ

طبی ماہرین نے سانس کے شدید مریضوں یعنی استھما کے مریضوں کے ایک گروپ کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ اس تقسیم کے بارے میں مریضوں کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ دونوں قسم کے مریضوں کو سانس کی تکلیف میں راحت دینے والے inhaler دیے گئے مگر فرق یہ رکھا گیا کہ ایک گروپ کو حقیقی ان ہیلر دیے گئے جس میں اصل دوائی موجود تھی۔ جبکہ دوسرے گروپ کو ایسے ان ہیلر دیے گئے جن میں بے ضرر سا کوئی محلول تھا اور اس میں کوئی بھی دوائی نہیں تھی۔ ان تمام مریضوں کو اس بات پر پورا یقین تھا کہ ان ہیلر سے سانس کی تکلیف ختم ہو جاتی ہے۔ حیران کن طور پر دونوں ہی قسم کے ان ہیلر نے ایک جیسا کام کیا۔اس تجربے سے ڈاکٹروں نے یہ ثابت کیا کہ انسان کی صحت کے پیچھے انسان کے دماغ کا اہم کردار ہوتا ہے۔

کن بیماریوں پر پلاسیبو افیکٹ (placebo effect) کے مثبت اثرات ثابت ہو چکے ہیں؟

ڈپریشن آج کی دنیا کا ایک اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ڈپریشن کی سارا رام لیلی چونکہ دماغ کی رچائی ہوتی ہے اس لیے اس بیماری کے حوالے سے پلاسیبو افیکٹ کے مثبت اثرات مختلف تجربات سے ثابت ہو چکے ہیں۔ اس وقت بہت سے ماہرین نفسیات ایسے ہیں جو ڈپریشن کے مریضوں کو پلاسیبو دوائیاں دے رہے ہیں، یعنی ایسی گولیاں یا انجیکشن جن میں کوئی دوائی نہیں ہوتی۔ مگر ڈپریشن کے مریضوں کو اس سے بہت فائدہ پہنچتا ہے۔ نتیجے میں ان کا بلڈ پریشر بھی ٹھیک ہو جاتا ہے اور دل بھی تندرست رہتا ہے۔ اسی طرح مختلف قسم کے درد بھی پلاسیبو دوائیوں سے ٹھیک کیے جا رہے ہیں۔ سر کا درد جوڑوں کا درد بھی پلاسیبو دوائیوں سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ بس اس کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ مریض کا دماغ یہ یقین کر لے کہ یہ دوائی اصلی ہے اور اس بیماری کی سب سے بہترین دوائی ہے۔ جن لوگوں کو نیند نہ آنے کی شکایت ہوتی ہے ان کے لیے بھی پلاسیبو دوائیاں مفید ثابت ہوتی ہیں، حتی کہ پیٹ کی بیماریوں کے لیے بھی یہ دوائیاں زود اثر ہیں۔

ایک اور حیران کن تجربہ

ماہرین طب نے ایک اور تجربہ بھی کیا جو انتہائی حیران کن تھا۔ اس تجربے کے دوران لوگوں کے ایک گروپ کو ایک گولی دی گئی اور انہیں بتایا گیا کہ یہ گولی انہیں بیدار کرے گی، ان کے دماغ کو تیز کرے گی، یادداشت بہتر ہوگی اور انہیں نیند آئے گی اور نہ تھکن ہوگی۔ اس کے بعد ان لوگوں کی جانچ کی گئی تو پتہ چلا کہ ان کی نبض تیز چلنے لگی، بلڈ پریشر بڑھ گیا، اور وہ زیادہ چوکس ہو گئے۔ کچھ دیر بعد انہی لوگوں کو وہی گولی دی گئی مگر اس بار کہا گیا کہ یہ نیند کی گولی ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں ان کی نبض سست ہوگئی بلڈ پریشر کم ہوگیا اور انہیں نیند آگئی۔ پلاسیبو دوائیوں کا منفی اثر بھی اسی طرح ہوتا ہے جس طرح کہ مثبت اثر۔ مثال کے طور پر کچھ مریضوں کو پلاسیبو گولیاں کھلائی گئیں اور انہیں بتایا گیا کہ ہو سکتا ہے اس سے انہیں سر میں درد ہو یا چکر آئیں۔ یہ نوٹ کیا گیا کہ ان مریضوں نے سرچکرانے اور سردرد کی شکایت کی، حالانکہ جو گولیاں انہیں دی گئی تھیں ان میں کوئی بھی کیمیکل نہیں تھا۔

مثبت سوچ رکھیں، بیماریوں سے بچیں

متعدی یعنی انفیکشس بیماریوں کے حوالے سے ماہرین طب کا کہنا ہے کہ پلاسیبو ایفیکٹ (placebo effect) ان پر زیادہ نہیں ہوتا کیونکہ یہ وہ بیماریاں ہیں جو بیرونی ایجنٹس جیسے وائرس یا بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہیں لیکن موذی یا کرونک امراض میں پلاسیبو افیکٹ (placebo effect) بھرپور کامیاب ہے۔ وہ لوگ جو کینسر، دل کے امراض اور دیگر مہلک امراض سے جان چھڑانا چاہتے ہیں انہیں اپنے دماغ کو منفی خیالات سے پاک رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کیونکہ یہ بیماریاں دماغ ہی کی تخلیق کردہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top