27b-طالبان سے مذاکرت کے بغیر افغان مسئلہ حل نہیں ہو سکتا

27b-طالبان سے مذاکرت کے بغیر افغان مسئلہ حل نہیں ہو سکتا

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ستائیسواں باب (پارٹ ٹو)

کراچی پشتون آبادی کا دنیا کا سب سے بڑا شہر

جنرل درانی کا کہنا تھا کہ پاکستان وہ ملک ہے جہاں افغان کام کے لیے آتے ہیں۔ کئی سالوں تک کراچی دنیا کا سب سے بڑا پشتون آبادی کا شہر رہا ہے۔ اس وقت بھی پشتون آبادی کے لحاظ سے کراچی دنیا کا دوسرا بڑا شہر ہے جہاں پچیس لاکھ پشتون رہتے ہیں۔ حتی کہ وہ افغانی جو پاکستان کو صبح کے وقت گالیاں دے رہے ہوتے ہیں وہ شام کو پشاور میں کسی ڈاکٹر کے پاس ہوتے ہیں،یا تجارت کر رہے ہوتے ہیں۔ جنرل درانی کا کہنا تھا کہ یہ بات درست نہیں کہ پاکستان کی افغان پالیسی بھارت کو مرکز بنا کر بنائی جاتی ہے۔

اشرف غنی پاکستان کا دشمن کیوں ہے؟

سابق راچیف نے جنرل درانی سے پوچھا کہ افغان صدر اشرف غنی کیوں اچانک پاکستان کا دشمن بن گیا ہے۔ اس پر جنرل درانی نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے پاکستان کا مخالف تھا۔ اس کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ باہر سے لایا گیا اور لاگو کیا گیا بندہ ہے۔ اور اس کی حکومت امریکہ کی مدد کے بغیر قائم ہی نہیں رہ سکتی۔ دوسری طرف طالبان ہیں جو دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت سے سولہ سال سے لڑ رہے ہیں۔ ان سے بات کیے بغیر افغان مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

اشرف غنی امریکہ کا آدمی ہے

جنرل درانی کا کہنا تھا کہ افغانستان پر پہلے بھی سربراہ تھوپے جاتے تھے جیسے سوویت روس نواز دائود، حفیظ اللہ امین وغیرہ، روس جب بھی ان سے کہتا کہ پاکستان کو تھوڑا رگڑا دوتووہ اس پر ہچکچاتے تھے۔ کچھ تو ملازمت سے بھی جاتے تھے بلکہ کچھ تو سر بھی گنواتے تھے۔ اشرف غنی ایسا نہیں۔ وہ پاکستان کے لیے کارزائی سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ اس پردولت نے کہا تو ہم یہ مان لیں کہ اشرف غنی امریکہ کا آدمی ہے۔ جنرل درانی نے اس پر فورا جواب دیا ، بالکل۔ اس پر دولت نے کہا کہ اگر وہ امریکہ کا بندہ ہے تو پاکستان کا دشمن کیوں ہے۔ جنرل درانی نے کہا کیونکہ امریکہ پاکستان کی افغان پالیسی سے خوش نہیں ہے۔

پاکستان نے ڈبل ایجنٹ کا کردا ادا کیا

جنرل درانی کا کہنا تھا کہ افغانستان پر مذاکرات کے حوالے سے امریکی رپورٹ ، امریکی کوتاہیوں سے بھری پڑی ہے مگر آخری چند صفحات میں بتایا گیا ہے کہ کیسے وہ کامیاب مذاکرات کی طرف جارہے تھے کہ پاکستان نے ڈبل ایجنٹ کا کردار ادا کرتے ہوئے ناکام کرا دیے۔ حالانکہ ہم نے کئی بار کہا ہے کہ پہلے حکمت عملی بنائیں ، یہ نہ کریں کہ آپ گند بکھیر کر نکل جائیں اور ہم اسے صاف کرتے رہیں۔ اس پر دولت نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ امریکی آپ سے خوش نہ ہوں مگر وہ براہ راست آپ سے بات کیوں نہیں کرتے اشرف غنی کو کیوں استعمال کرتے ہیں۔ اس پر جنرل درانی نے کہا کہ اشرف غنی امریکیوں کو برے فوجی کی طرح استعمال کرتا رہے گا۔

راحیل شریف سے ملنے کے بعد اشرف غنی فورا امریکہ سے ملا

جنرل درانی نے بتایا کہ اشرف غنی کی راحیل شریف سے ملاقات ہوئی ، اس کے بعد وہ فورا امریکہ کے پاس پہنچا اور کہا پلیز 2014 تک افغانستان کو چھوڑ کر نہ جائیں۔ اور اس کی وجہ صرف اور صرف اس وجہ سے طالبان سے مذاکرات ناکام کرادیے کیونکہ طالبان کی مذاکرات کی واحد شرط ہی یہی تھی کہ امریکہ یہاں سے جانے کے وعدے پر قائم رہے گا۔ اور اس سے بھی بدتر کے اس نے امریکیوں سے کہا کہ افغانستان کے لیے ان کی قربانیوں پروہ امریکہ کے مشکور ہیں اور یہ بات خود طالبان مخالف افغانوں تک کو اچھی نہیں لگی تھی۔ آپ اندازہ لگائیں کہ گذشتہ دس سال میں تین لاکھ افغان مارے گئے جبکہ امریکہ کی کل ہلاکتیں دو ہزار سے تین ہزار تھیں، اور پھر بھی اشرف غنی امریکی ’’قربانیوں‘‘ پر شکر گزار ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top