27c-کیا امریکہ طالبان سے مذاکرات چاہتا ہے؟

27c-کیا امریکہ طالبان سے مذاکرات چاہتا ہے؟

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ستائیسواں باب (پارٹ تھری)

بھارت کی افغان پالیسی امریکہ پر منحصر ہے

آدیتیہ سنہا نے سابق را چیف سے پوچھ کہ لگتا ہے کہ افغانستان پر تو بھارت کی کوئی پالیسی ہی نہیں ہے۔ اس پر ایس اے دولت نے کہا کہ بھارت کی افغان پالیسی مکمل طور پر امریکہ پر منحصر ہے اگر آج امریکہ کہہ دے کہ وہ افغانستان کو خالی کر رہا ہے تو بھارت صدماتی کیفیت سے دوچار ہو جائے۔ اس پر جنرل درانی نے کہا کہ بھارت نے انفرادی اثاثے بنائے ہیں میڈیا میں کچھ حدتک، صحافت میں بڑی حدتک اور ہرات میں ثقافتی اثاثے۔ اس پر دولت نے کہا کہ بھارت کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھائے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے آپ کو حق ہے کہ نیپال یا سری لنکا میں اپنا اثر ورسوخ بڑھائیں۔

امریکی طالبان سے مذاکرات کے لیے تڑپ رہے ہیں

جنرل درانی کا کہنا تھا کہ بھارت کا افغانستان میں اثرورسوخ بڑھا ہے، مگر امریکہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے کلچر اور معاشی مدد کی وجہ سے۔ مسٹر دولت نے اس پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ امریکی طالبان سے بات کرنے کو تڑپ رہے ہیں مگر انہیں یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ کیسے وہ ان تک رسائی حاصل کریں۔ میرا خیال ہے کہ امریکی افغانستان میں اب برطانیہ کو استعمال کریں گے۔ برطانیہ ایسے معاملات سے اچھے طریقے سے نمٹ سکتا ہے، وہ زیادہ تیز طرار ہیں۔ برطانیہ خود اپنے ملک میں موجود مسائل کو بھی امریکیوں سے بہتر ہیں۔

امریکہ جیسا طاقتور ملک تاریخ میں نہیں رہا

جنرل درانی نے کہا کہ امریکہ اس وقت ایسی عالمی طاقت ہے جس کی رسائی بہت دور تک ہے۔ اور یہ کہ امریکہ صرف معاشی طاقت ہی نہیں بلکہ بہت بڑی فوجی طاقت بھی ہے۔ ایسا طاقتور ملک پہلے کبھی نہیں رہا۔ چائنا بھی ایک طاقت ہے مگر یہ دوسری قسم کی طاقت ہے ۔ بھارت بھی یقینا ایک طاقت ہے جو مختلف طریقے سے کھیلتی ہے۔ امریکہ کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس نے کس خطے میں اپنے اثرونفوذ کو کس طرح استعمال کرنا ہے۔ یورپ اس کا رضامند اتحادی ہے ، بھارت اپنی ضرورت کے مطابق امریکہ سے اتحاد بناتا ہے۔ لیکن پاکستان اور افغانستان بس امریکہ کے لیے جنکشن ہیں مشرق وسطی اور وسطی ایشیا تک رسائی کے لیے۔

پاکستانی امریکہ کو ناپسند کرتے ہیں مگر وہاں جانا چاہتے ہیں

جنرل درانی کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کی اکثریت ایسی ہے جو امریکیوں کو اچھا نہیں سمجھتی، ایک طویل عرصے سے تقریبا ہر پول میں اسی سے نوے فیصد پاکستانی امریکی پالیسیوں کو پسند نہیں کرتے۔ اگرچہ یہ بات اپنی جگہ پر ہے کہ وہ امریکہ جانا اور وہاں کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ بالکل افغانیوں کی طرح جو پاکستان کے خلاف زہر اگلنے سے نہیں چوکتے مگر کام کی تلاش میں پاکستان ہی آتے ہیں۔

جب افغانی خفیہ ایجنسی نے ملا عمر کی موت کی افواہ پھیلائی

جنرل درانی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان امریکہ سے مصالحت کرنا چاہتے تھے اور 2002 میں انہوں نے پہلی پیش قدمی کی۔ طالبان کی ساری کوششیں ، پاکستان کی سہولت کاری کی ساری کوششیں رمزفیلڈ کے انکار تلے دب گئیں۔ اوبامہ چاہتا تھا کہ افغانستان سے ایگزٹ پالیسی خوش اسلوبی سے طے ہوجائے مگر امریکہ میں موجود ریاست کے اندر ریاست نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ کابل اور طالبان کو قریب لانے کی حالیہ کوششیں جو مری مذاکرات میں ہوئیں وہ بھی ناکام رہیں۔ پہلے دور کے بعد افغان انٹیلی جینس کے چیف نے مشہور کر دیا کہ ملا عمر دوسال پہلے مرگیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top