پاکستان کی کہانی ۔ قسط نمبر3

پاکستان کی کہانی ۔ قسط نمبر3

ادھر قائداعظم جہان فانی سے رخصت ہوئے ادھر حکومتی ایوانوں اور غلام گردشوں میں روایتی محلاتی سازشیں ہونے لگیں۔

اس سارے گرداب کو اگر کوئی شخص قائداعظم کے بعد سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا تھا وہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان تھے۔ بانی پاکستان کے بعد لیاقت علی خان مختار کُل ہو گئے اور پاکستان کی قسمت کے اہم ترین فیصلے کرنے لگے۔ اس وقت ایک طرف پاکستان کا آئین تشکیل پا رہا تھا اور دوسری طرف  پاکستان کو اپنی تاریخ کا ایک اور اہم ترین فیصلہ کرنا تھا۔ یہ فیصلہ تھا روس اور امریکہ کی سرد جنگ میں کسی ایک کا اتحادی بننا یا غیر جانب دار رہنا۔ پاکستان نے یہ تاریخی فیصلہ امریکہ کے حق میں کیا۔ حالانکہ پاکستان بھارت کی طرح غیرجانبدار بھی رہ سکتا تھا۔ لیاقت علی خان کو سوویت یونین کے رہنما جوزف اسٹالین  اور امریکی صدر ہیری ٹرومین دونوں کی طرف سے دورے کی دعوت تھی لیکن انھوں نے ماسکو کے بجائے واشنگٹن جانے کو ترجیح دی۔ واشنگٹن میں حسب توقع ان کا پرتپاک استقبال ہوا۔ اس دورے سے سوویت یونین یعنی اس دور کے روس اورپاکستان کے تعلقات بگڑ گئے۔ امریکا سے دوستی کی وجہ سے پاکستان عالمی سیاست اور سرد جنگ کی بھول بھلیوں میں الجھ کررہ گیا۔ جس کے نتیجے میں اس کی سالمیت اور خودمختاری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ سب سے بڑا نقصان تو یہ تھا کہ پاکستان آزادنہ خارجہ پالیسی کے راستے سے ہٹ گیا اور عالمی طاقتوں کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہونے لگا۔  

لیاقت علی خان کے دور اقتدار کا آخری سال کافی ہنگامہ خیز رہا۔ انیس سو اکاون میں میجر جنرل اکبرخان نے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی۔ تاہم یہ کوشش ناکام رہی اور انہیں گرفتارکرلیا گیا۔ پاکستانی تاریخ میں حکومت کا تختہ الٹنے کی یہ پہلی غیر سیاسی کوشش تھی۔

سولہ اکتوبر انیس سو اکاون کے دن لیاقت علی خان کمپنی باغ راولپنڈی میں مسلم لیگ کے جلسے سے خطاب کرنے سٹیج پر آئے۔ ابھی انہوں نے ’’اے میرے عزیز ہم وطنو‘‘ ہی کہا تھا کہ جلسے کے شرکاء میں کھڑے سید اکبر نے وزیراعظم پر گولی چلا دی۔ گولی سینے میں لگی اور پاکستان کا پہلا وزیراعظم ہزاروں لوگوں کے درمیان دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ لیاقت علی خان کے آخری الفاظ تھے ۔۔۔ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے۔۔۔

اس پر ظلم یہ ہوا کہ اس قتل کی تفتیش کیلئے جو پہلا ثبوت میدان میں موجود تھا یعنی گولی چلانے والا سید اکبر اسے موقعے پر ہی پولیس نے ہلاک کر دیا۔ اس قتل کی تفتیش انتہائی غیرسنجیدگی سے کی گئی جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ جب لاہور ہائیکورٹ نے قتل کیس کی فائل پیش کرنے کا حکم دیا تو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے حیرت انگیز دیا۔ اس نے کہا ’’مائی لارڈ لیاقت علی خان قتل کیس کی فائل گُم ہو گئی ہے۔‘‘ اس قتل کی پوری تفتیش تو کبھی نہ ہو سکی لیکن اخباروں میں ایسی خبریں چھپتی رہیں کہ لیاقت علی خان کے قتل کے پیچھے امریکہ اور افغانستان کا ہاتھ ہے۔

سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر پاکستان کے پہلے سیاسی قتل کی تفتیش درست انداز میں کر لی جاتی اور قانون کے مطابق سزائیں دی جاتیں تو پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی۔ لیاقت علی خان کا دنیا سے اٹھنا تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم کی کرسی ایک مذاق بن کر رہ گئی۔ جس پر کٹھ پتلیاں لائی جاتیں اور گرائی جاتیں۔ اس پر ستم ظریفی یہ کہ یہ کٹھ پتلیاں چلانے والا ایک معذور اور مفلوج شخص تھا جو بدقسمتی سے پاکستان کا مختار کل بنا دیا گیا تھا۔

ایک معذور شخص پاکستان کے سیاہ و سفید کا مالک کیسے بن گیا؟ پاکستان کی کہانی جاری ہے اگلی اقساط سے اپڈیٹ رہنے کیلئے دیکھو سنو جانو سبسکرائب کیجئے اور اس سلسلے کی تمام اقساط دیکھنے کیلئے یہاں(Link) کلک کیجئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top