پاکستان کی کہانی قسط نمبر 10

پاکستان کی کہانی قسط نمبر 10

 

یہ دور ہے 1977 کا۔ اور تحریک نظام مصطفیٰ کے نتیجے میں پاکستان پر ضیاالحق کی حکومت قائم ہو چکی ہے۔ بھٹو کی پھانسی کے ردعمل میں پیپلزپارٹی دو دھڑوں میں بٹ گئی۔ بھٹو کی بیٹی بے نظیر نے سیاسی جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ بھٹو کےدونوں بیٹے مرتضیٰ بھٹو اور شاہ نواز بھٹو افغانستان چلے گئے اور مسلح تنظیم الذولفقار قائم کر لی۔ انھوں نے جنرل ضیاکو قتل کرنے کی متعدد کوششیں بھی کیں۔ الذوالفقار نے 1981 میں پی آئی اے کا طیارہ اغوا کر کے کابل میں اتار لیا۔ الذوالفقار نے طیارے کے بدلے ضیا حکومت سے اپنے پچپن ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ یہ ہائی جیکنگ تیرہ دن تک جاری رہی۔ اس دوران شاہ نواز کے ساتھی ہائی جیکرز سلام اللہ ٹیپو نے میجر طارق کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ پھر طیارے سے ان کی لاش سڑک پر بچھے تارکول پر پھینک دی گئی۔ اس حادثے کے بعد ضیا کو ہائی جیکرز کے مطالبات ماننے پڑے۔ لیکن اس واقعے کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ الذوالفقار کے شریک بانی شاہنواز بھٹو فرانس میں اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ اور جس شخص نے میجر طارق کو گولی ماری تھی اسے کابل میں پھانسی دے دی گئی۔

ضیاالحق نے پہلی تقریر میں نوے دن کے اندر انتخابات کروانے اور اقتدار جمہوری حکومت کو منتقل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن پھر تاریخ نے دیکھا کہ ضیاالحق کے نوے دن میں دراصل گیارہ سال اور بیالیس دن چھپے ہوئے تھے۔

ضیاء الحق ایک ذہین اور سخت گیر ڈکٹیٹر تھے۔ ذہین اس طرح کہ انھوں نے جنرل ایوب کے انجام سے سبق سیکھتے ہوئے آرمی چیف کا عہدہ تادم مرگ اپنے پاس رکھا۔ کیونکہ جنرل ایوب کے عہدہ چھوڑنے پر نئے آرمی چیف جنرل یحییٰ نے ان کی چھٹی کروا دی تھی۔ سخت گیر اس طرح کہ بھٹو کی پھانسی کے بعد بھی ان کی پوری توجہ پیپلز پارٹی کو کچلنے پر لگی رہی۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو سر عام کوڑے مارے گئے۔ جب بے نظیر کی والدہ نصرت بھٹو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کارکنوں سے ملنے آئیں تو ان پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ اس لاٹھی چارج سے نصرت بھٹو کو سرپر شدید چوٹیں آئیں لیکن سر گنگا رام ہسپتال میں ڈاکٹروں کو ان کے فوری علاج سے روک دیا گیا۔ بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے نصرت بھٹو کے دماغ کو شدید نقصان پہنچا اور آخری عمر میں وہ اپنی یاداشت کھو بیٹھیں۔ بے نظیر بھٹو کو بھی 1984میں جیل سے نکال کر جلاوطن کر دیا گیا۔
پیپلزپارٹی ہی نہیں ضیاء الحق نے صحافت کو بھی زنجیروں میں قید رکھا۔ فوجی افسر اخبارات میں جاتے تھے اور چھپنے سے پہلے تمام خبروں کا جائزہ لیتے تھے۔ اگر کوئی خبر ضیا حکومت کے خلاف ہوتی تو اسے نکال دیا جاتا۔ روزنامہ مساوات جس کا جھکاؤ پیپلز پارٹی کی طرف تھا اس کی زیادہ تر خبریں نکال دی جاتی تھیں۔ اسی لیے اکثر مساوات خالی شائع ہوتا اور دیکھنے والے سمجھ جاتے تھے کہ خالی جگہ پر ایسی خبریں تھیں جنھیں ضیا حکومت نے سنسر کر دیا ہے۔روز روز کی سنسر شپ سے اکتا کر مارشل لا حکام نے 15اکتوبر1979کو روزنامہ مساوات اور روزنامہ صداقت بند ہی کر دیے۔ اردو کے معروف شاعر حبیب جالب کو بھی ضیا دور میں زدوکوب کیا گیا ۔ حبیب جالب نے ضیا آمریت کے خلاف کئی نظمیں لکھیں۔

جہاں جنرل ضیا پیپلزپارٹی کو کچلنے میں مصروف تھے وہیں ان کے نئے سیاسی اتحادی بھی پیدا ہو رہے تھے۔ پنجاب میں چوہدری ظہور الہی اور نوازشریف ان کے مضبوط اتحادی تھے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے سندھ میں لسانی عصبیت کو ہوا دی اور پیپلزپارٹی کو کمزور کرنے کیلئے مہاجر قومی موومنٹ کو کھڑا کیا۔

ضیاء الحق کے دور میں پہلی بار سرعام پھانسیاں دینے کا رواج بھی شروع ہوا۔ اس حوالے سے ایک اہم واقعہ لاہور میں پیش آیا۔ لاہور کے تاجر احمد داؤد کے اکلوتے بیٹے اعجاز عرف پپو کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔ جنرل ضیا کے حکم پر اعجاز کے6 قاتلوں کو کیمپ جیل لاہور کے باہر پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ اس منظر کو لاتعداد لوگوں نے دیکھا۔ ان سخت سزائوں کی وجہ سے جرائم میں کسی حد تک کمی بھی آئی۔ قوانین میں ترامیم کی وجہ سے کئی معصوموں کو نقصان بھی پہنچا۔ ساہیوال میں ایک تیرہ سال کی اندھی لڑکی صفیہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن جج نے چار گواہ پیش نہ کرنے پر اسے کوڑوں کی سزا سنا دی۔ تب عاصمہ جہانگیر نے اس لڑکی کا مقدمہ لڑا اور چھے ماہ بعد اسے بری کروا لیا۔

اس سنسنی خیز دور کی اگلی قسط ان سیاسی کرداروں کے گرد گھومتی ہے جنھیں ضیا الحق نے چنا، ساتھی بنایا اور اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے استعمال کیا۔ نوازشریف سمیت اس میں اور بھی بڑے بڑے نام ہیں۔ ہم آپ کو یہ بھی بتائیں گے کہ جنرل ضیاء نے بھارت کی سرزمین پر جا کر بھارتی حکومت کو کیا دھمکی دی تھی۔

دیکھو سنو جانو کی تمام ویڈیوز دیکھنے کیلئے یہاں (Dekho Suno Jano) کلک کریں

مکمل اقساط دیکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top