پاکستان کی کہانی ۔ قسط نمبر2

پاکستان کی کہانی ۔ قسط نمبر2

انیس سو اڑتالیس میں ایک طرف پاکستان بے سروسامانی کے عالم میں حالت جنگ میں تھا۔ دوسری طرف بانی پاکستان شدید بیمار ہو گئے۔ لیکن بیماری بھی انھیں گورنر جنرل کی حیثیت میں پاکستان کی خدمت کرنے سے نہیں روک سکی۔ قائداعظم کے دور حکومت میں پاکستان کی مشکلات بے پناہ تھیں مگر حوصلے جوان تھے۔ اس دور میں مالی مشکلات کے ساتھ ستر لاکھ مہاجرین کا اضافی بوجھ بھی پاکستان کے کندھوں پرآپڑا تھا۔

ان مشکلات کے علاوہ ایک اہم مسئلہ یہ تھا کہ آزادی کے وقت پاکستان کا کوئی آئین نہیں تھا اور پاکستان کوبرطانیہ کے تحت نوآبادی قراردیا گیا تھا۔ اس لئے ہندوستان کے لئے بنائے گئے انیس سوپینتیس کے برطانوی آئین کو ہی معمولی تبدیلی کے بعد پاکستان میں نافذ کردیا گیا۔

پاکستان تیس ستمبرانیس سو سینتالیس کو اقوام متحدہ کا رکن بنا۔ سب سے پہلے پاکستان کو ایران نے تسلیم کیا اور فرانس میں پاکستان کا قومی پرچم سب سے پہلے لہرایا گیا۔ لیکن ایک اور بات جسے شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں کہ جب پاکستان اقوام متحدہ کا رکن بنا تو دنیا میں صرف ایک ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ اور وہ ملک تھا برادر اسلامی ملک افغانستان۔

تو یہ وہ سب حالات تھے جن میں قائداعظم کو انتہائی بیماری کی حالت میں بلوچستان کے شہر زیارت سے کراچی لایا گیا۔ آپ ائرپورٹ پر اترے تو بیماری سے نڈھال تھے۔ لیکن انھیں اس حالت میں لے جانے کیلئے ایک کھٹارا سی ایمبولینس بغیر نرس کے بھیج دی گئی۔ اس پر ستم یہ کہ ایمبولینس قائداعظم کو ان کی رہائش گاہ تک پہنچانے سے پہلے ہی راستے میں خراب ہو گئی۔ جب دوسری ایمبولینس منگوائی گئی تو وہ ایک گھنٹے بعد پہنچی۔ اس سوال کا جواب کسی کے پاس بھی نہیں ہے کہ ایسا جان بوجھ کر کیا گیا یا ایسا ایک بے سروسامانی سے لڑتی ریاست میں کمیونیکشن کے گیپ کی وجہ سے ہوا۔ ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ قائداعظم کی آمد کے بارے میں لیاقت علی خان آگاہ ہی نہیں تھے۔ یہ عذر بھی پیش کیا جاتا ہے ک0ہ اس وقت پورے کراچی میں صرف دو ایمبولینسز تھیں۔ جن میں سے ایک کو قائداعظم کیلئے بھیج دیا گیا۔ شاید یہ ایک کمیونیکشن کی تاریخی غلطی ہو لیکن بہت سے لوگ آج بھی یہ مانتے ہیں کہ خراب ایمبولینس بھیجنا ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔

قائداعظم جب گھر پہنچے تو بیماری سے بری طرح نڈھال ہو چکے تھے۔ آخری وقت میں ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور ذاتی معالج کے سوا ان کے پاس کوئی دوسرا موجود نہیں تھا۔  وہاں موجود لوگوں کے مطابق ان کے آخری الفاظ تھے۔ اللہ ۔ پاکستان۔ انھوں نے یہ کہا اور جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔

قائداعظم کے جنازے میں چھے لاکھ لوگ شریک ہوئے۔ قائداعظم کی وصیت کے مطابق ہی ان کی نماز جنازہ علامہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی اور خواجہ ناظم الدین کو پاکستان کا دوسرا گورنر جنرل بنا دیا گیا۔

 

مکمل اقساط دیکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top