کیا حکومت ٹی وی چینلز اور اخبارات کو بند کرنا چاہتی ہے؟ نور اللہ

TV and News Paper Bans

کیا حکومت ٹی وی چینلز اور اخبارات کو بند کرنا چاہتی ہے؟ نور اللہ

میڈیا کو ریاست کے ایک اہم ستون کا درجہ حاصل ہے اور اسے قائم رکھنے کےلئے حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہوتی ہے-

ترقی یافتہ ممالک میں عموماً کسی بھی انڈسٹری کے مالی بحران سے دوچار ہونے پر حکومت امدادی پیکج (بیل آؤٹ پیکج) کا اعلان کرتی ہے تاکہ لوگ بیروزگاری سے بچیں اور وہ انڈسٹری اپنا وجود قائم رکھ سکے

وطن عزیز میں پی ٹی آئ حکومت کے قیام کے فوری بعد ہی سرکاری اشتہارات کی بندش کے حوالے سے باتیں زوروشور سے گردش کرنے لگیں اور پھر مختلف میڈیا ہاؤسز کی جانب سے ملازمین کی برطرفی کی خبروں نے میڈیا کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیا اور کچھ حلقے ان شکوک کا اظہار بھی کررہے ہیں کہ حکومت تنقید سے بچنے کے لئے چینلز اور اخبارات کو بند کرنا چاہتی ہے-

میڈیا کے لئے اشتہارات کا بحران الیکشن 2018 سے قبل اشتہارات کے حوالےسے عدالتی کاروائ کی وجہ سے شروع ہو چکا تھا اور نئ حکومت کے قیام کے بعد پی ٹی آئی نے اپنی سابقہ دور میں کے پی کے والی پالیسی جاری رکھتے ہوئے کم سے کم اشتہارات جاری کئے-

سرکاری اشتہارات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چند بڑے چینلز اور اخبارات کے سوا میڈیا کا بڑا حصہ سرکاری اشتہارات پر انحصار کر رہا تھا اور اشتہارات کی بندش اور کمی کی صورت میں بحران کا شکار ہو گیا اور دوسری طرف بڑے اخبارات اور چینلز بھی اشتہارات کی آمدن میں کمی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومتی پالیسیوں یا واضح پالیسیوں کی عدم موجودگی کے باعث نجی شعبہ نہ صرف شکوک وشبہات میں مبتلا ہے بلکہ کاروباری تنزلی کا بھی شکار ہے جس کی وجہ سے پرائیوٹ اشتہارات بھی کم ہوگئے ہیں-

ان وجوہات کی بنا پر مختلف اداروں سے ملازمین کی برطرفیوں کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے آئندہ چند ماہ میں اس میں مزید اضافے کا خطرہ ہے اور کچھ چینل اور اخبارات بند بھی ہوسکتے ہیں

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر ایسی پالیسیاں اپنائے جو کاروباری طبقے کو اعتماد اور احساس تحفظ فراہم کریں تاکہ کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آے- تمام کاروبار آگے بڑھیں گے تو خوشحالی آئے گی اور ادارے ترقی کریں گے یاد رہے کہ اس حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میں ایک کروڑ نئ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام کاروبار دن دگنی رات چوگنی ترقی کریں وگرنہ آنے والے دنوں میں دیگر شعبوں کو بھی ان مشکل حالات سے دوچار ہونا پڑسکتا ہے جن کا سامنا آج بند ہوتے ہوئے صحافتی اداروں کو ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top