جنسی ہراسمنٹ کیا ہے اور کیا نہیں ؟

جنسی ہراسمنٹ کیا ہے اور کیا نہیں ؟

جنسی طور پر ہراساں کرنا کیا ہے اور کیا نہیں؟

دنیا بھر میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

میشا شفیع نے علی ظفر پر سیکسوئل ہراسمنٹ کا الزام لگا دیا جسے علی ظفر نے مسترد کرتے ہوئے عدالت جانے کا اعلان کیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق فوج میں جنگ کے دوران اتنی خواتین سپاہی جان سے نہیں جاتیں جتنی فوجی دفاتر میں جنسی ہراسمنٹ کا نشانہ بنتی ہیں

یعنی یہ دنیا بھر کا مشترکہ مسئلہ ہے۔

لیکن ہمیں سمجھنا چاہیے کہ جنسی ہراسمنٹ کیا ہے؟ پاکستان کے قانون اور عالمی اخلاقیات کے حساب سے دیکھیں تو

  • کسی بھی خاتون کو اس کی مرضی کے بغیر چھونا
  • اخلاق سے گری گفتگو کرنا
  • علیحدگی میں ملنے کیلئے مجبور کرنا
  • انٹرویو میں پاس کرنے یا امتحان میں نمبر دینے کیلئے جنسی تعلقات کی شرط رکھنا
  • کام کی جگہ پر اپنی پوزیشن کو استعمال کرتے ہوئے کسی کو جنسی تعلقات پر مجبور کرنا

جنسی طور پر ہراساں کرنا کہلائے گا

لیکن ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک پیچیدہ موضوع ہے۔ آج کی جدید اور تیزی سے بدلتی دنیا میں اس کی واضح حدود مقرر کرنا مشکل ہے۔ لیکن پھر بھی سماجی علوم کے ماہرین

  • کسی کی خوبصورتی کی تعریف کرنا
  • کسی کو دیکھ کر مسکرا دینا
  • یا شادی کی پیشکش کرنا

جیسے معاملات کو جنسی طور پر ہراساں کرنا نہیں سمجھتے۔

پاکستان میں جنسی ہراسمنٹ کے خلاف سخت قانون بن چکا ہے۔ ہر ادارہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ دفاتر میں جنسی ہراسمنٹ کی شکایات کیلئے ایک ڈیسک بنائے۔ جہاں خواتین خاموشی سے رپورٹ کر سکیں۔ جرم ثابت ہونے پر جنسی ہراساں کرنے والے کو تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

 

پاکستان کی تاریخ کے بارے میں جاننے کیلئے نیچے دی گئی ویڈیوز دیکھیں

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top