گیارہ مئی کی شام کون جیتے گا؟

گیارہ مئی کی شام کون جیتے گا؟

ایک میز کو کمرے میں لے جانا ہو تو ایک شخص ہی کافی ہے۔ دوہم خیال ہوں تو اور بھی اچھا ہے۔ لیکن اگر بہت سے لوگ مرکزی کمرے سے میز اٹھا لیں اور ان میں سے ہر کوئی اسے اپنے کمرے میں لے جانے کے لیے مختلف سمت میں زور لگانے لگے تو یہ حقیر سا کام بھی برسوں تک انجام نہیں پا سکے گا۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ایسا ہی میرے وطن پاکستان کے ساتھ ہونے جا رہا ہے۔ لیکن آگے چل کر میں آپ کو بتاو¿ں گا کہ اس سے مختلف اور خوبصورت ایک تصویر اور بھی ہے۔

سروے کو دیکھا جائے تو نواز شریف کی قیادت میں ایک چوں چوں کا مربہ بنے گا۔ یہ مربہ بن بھی سکے گا یا نہیں۔ ذرااعدادوشمار کے گورکھ دھندے میں کود کر دیکھتے ہیں۔ فرض کریں میاں نواز شریف سادہ اکثریت نہیں محض اکثریت حاصل کرتے ہیں۔ یعنی انھیں ایک سو بہتر سیٹس کے ساتھ حکومت بنانے کے لیے کسی سیاسی جماعت یا جماعتوں کا تعاون چاہیے۔ اب ان کے سامنے جو پارٹیاں ہوں گی ان میں سے پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف ایسی جماعتیں ہیں جو کسی صورت نواز شریف کی قیادت میں اتحاد بنانے کو تیار نہیں ہوں گے۔ پیپلز پارٹی تو شاید کوشش کرے لیکن نواز شریف کے بارے میں غالب امکان ہے کہ وہ سابقہ تجربات یا پھر جماعت اسلامی اورعمران خان کے خوف سے پی پی کو ساتھ نہیں ملائیں گے۔ اب ایم کیوایم ، جماعت اسلامی، اے این پی، ق لیگ اور فضل الرحمان میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنا پڑے گا۔ ان میں سے جس کے پاس زیادہ سیٹس ہوں گی وہ سب سے منظور نظر ہوگا۔لیکن ق لیگ ہرگز نہیں۔ یہاں یہ بھی یاد رکھیئے نواز شریف بلوچستان اور سندھ میں میں ایک بڑے سیٹ ایڈجسٹمنٹ اتحاد کا حصہ ہیں۔ ان میں سے جیتنے والے بھی اپنے مطالبات کی فہرست کے ساتھ نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ایم کیو ایم والے اور ان کے ٹیلی فون اسپیکر قائد انتخابی مہم میں نواز شریف کو طالبان اور دہشتگرد تنظیموں کا سرپرست کہہ چکے ہیں۔ جبکہ نواز شریف اپنی مہم کے دوران کئی بار کراچی میں عسکری گروپس کے خاتمے کا اعلان کھلے الفاظ میں کر چکے ہیں۔ اور ظاہر ہے انھیں خود کو بہتر ثابت کرنے کے لیے کراچی میں بہرطور امن قائم کرنا پڑے گا۔ امن قائم کرنے کا مطلب کراچی کے بھتہ خوروں کی دم پر پاو¿ں رکھنا ہے ۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ ایم کیوایم بھی اس فہرست میں شامل نہیں جو نواز شریف کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکیں۔ اب باقی بچتے ہیں اے این پی، جماعت اسلامی اور مولانا فضل الرحمان۔ایک بار پھر کہوں گا کہ ان میں سے جس کے پاس بھی زیادہ سیٹس ہوں گی وہی نواز شریف کا اتحادی بننے کا بہترین امیدوار ہو گا۔ اور ان تینوں کی زیادہ تر سیٹس کے پی کے سے آنے کا امکان ہے۔ جہاں کل ملا کے صرف پنتیس قومی حلقے ہیں۔ کے پی کے میں جماعت اسلامی ، تحریک انصاف، فضل الرحمان اور حتیٰ کہ اے این پی کی پوزیشن بھی تقریباً ایک جیسی ہی ہے۔ کچھ بھی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہے لیکن سروے اور ذاتی جائزے کی بنیاد پر میرا محتاط اندازہ ہے کہ یہاں کی پنتیس نیشنل اسمبلی کی سیٹس میں سے تمام جماعتوں کو تقریباً برابر کا حصہ ملے گا۔ یعنی تقریباً چھے سے دس کے درمیان سیٹس ہی سب کے حصے میں آئیں گی۔ اور ظاہر ہے ان میں سے ایک خود میاں صاحب بھی ہوں گے۔ سروے کے مطابق اگر نواز شریف ایک سو سیٹس لے جاتے ہیں تو انھیں کم از کم چونتیس سیٹس چاہئیں جن کے بعد دوسری مخصوص نشستیں وغیر ملا کر ایک دو بہتر سیٹس کے ساتھ وزیراعظم بنے گا۔ جو ظاہر ہے کسی صورت ممکن نظر نہیں آتا۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ مخلوط حکومت بھی اسی صورت میں ممکن ہے اگر نواز شریف ایک سو پچیس سیٹیس صرف شیر کے نشان سے جیت جائیں۔ اگر ایسا نہ ہو گیا تو ٹھیک ورنہ ایک ہی صورت ہے کہ کسی طرح قومی مفاد کے تحت یا کسی بیرونی دباو¿ کے تحت یا کسی ایک کم از کم سیاسی ایجنڈے کے تحت پر نواز شریف اورعمران خان (اگر وہ تیس سے پچاس سیٹس حاصل کر پائے تو) مل کر حکومت قائم کریں۔ کیا یہ ممکن ہے؟ میرا خیال ہے اس کا جواب ہم سب کو پہلے سے معلوم ہے۔
اب ایک اور صورت دیکھتے ہیں جو ہر پاکستانی کے لیے ایک ڈراؤنہ خواب ہو گا۔

ایک واری فیر۔۔۔
صدرزرداری کی یہ بات تو اب بہت مشہور ہو چکی کہ اگر پیپلز پارٹی ساٹھ سیٹیں جیت گئی تو میں اگلی حکومت بھی بنا کر دکھا دوں گا۔ اور وہ اس طرح کہ ان کے خیال کے مطابق ایم کیوایم پچیس سیٹس تو کم از کم جیتے گی، مولانا دس سیٹس تو کے پی اور بلوچستان سے ملا کر جیت ہی جائیں گے، اے این پی بھی پندرہ سیٹس تک گرتے پڑتے پہنچ ہی جائے گی۔ اور ہاں ق لیگ بھی تو ہے۔ جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ جنوبی پنجاب سے دس سے بارہ سیٹس جیت جائے گی۔ یہ کل ملا کر ایک سو بیس بنتے ہیں۔ جبکہ آزاد اور فاٹا سے جیتنے والے ملا کر ایک سو چونتیس کا ہندسہ عبور کرنا مشکل نہیں۔ یوں بھی جب اصول ہی یہ ہو کہ ملک کو کچھ بھی ہو جائے اتحادی خوش رہنا چاہے ہو تو جوڑ توڑ کی حکومت بنانا اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔ صدر زرداری کی یاروں کو نوازنے کی پالیسی اور اس کے خوفناک ثمرات ہم د یکھ چکے ہیں۔ اس لیے ایسا ہونے کی صورت میں ایک خوفناک پانچ سالہ دور کا پھر سے آغاز ہوگا۔ جس کے اختتام پر نجانے پاکستان میں بھٹو کے نام کے سوا کچھ بچے گا بھی کہ نہیں۔

لیکن ایسا سو فیصد ناممکن ہے
لیکن میرا سوفیصد یقین ہے کہ یہ نہیں ہونے لگا۔ کیوں؟ اس کی بڑی مضبوط وجہ ہے۔ اور وہ ہے اپوزیشن اور میڈیا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ سو سیٹس کے ساتھ نواز شریف پارلیمنٹ کے اندر موجود ہوں، جماعت اسلامی اور عمران خان بھی مناسب سیٹس کے ساتھ پارلیمنٹ کے اندر ہوں، چیف جسٹس افتخار چوہدری جیسا بااصول جج بھی دسمبر تک کے لیے سپریم کورٹ میں موجود ہو اور ایک بے لگام میڈیا ہر وقت شام کو عدالت لگا کر بیٹھا ہو اور زرداری صاحب اپنے کرپٹ ٹولے کے ساتھ ایک بار پھر حکومت بنا کر بیٹھ جائیں۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ نظام حکومت چلے گا ہی نہیں۔ یہ مشین دوسرے دن ہی کل پرزے ڈھیلے کر کے بیچ راستے میں بیٹھ جائے گی۔ جس کے بعد لوگ فوج کو آوازیں دینا شروع کر دیں گے یا پھر دوبارہ انتخابات کروانے پڑیںگے۔ دوبارہ انتخابات کے لیے متفقہ الیکشن کمیشن اور متفقہ نگران سیٹ اپ تشکیل دینا ہو گا جو ظاہر ہے نئی اسمبلی میں تقریباً ناممکن اور اعصاب کو شل کر دینے والا کام ہے۔ اوراتنا بجٹ بھی نجانے سرکار کے پاس ہو بھی کہ ناں ہو۔ ایسے میں پھر ایک ہی صورت ہے کہ نواز شریف صاحب اور عمران خان کسی ایک ایجنڈے پر اتفاق کریں اور کچھ دیر کے لیے ایک اس ایجنڈے کے تحت مخلوط حکومت قائم کریں۔ اور دیکھیں کہ اس قلیل مدت کے دوران اگر ایجنڈے کے مطابق کام ہو رہا تو اتحادی رہیں ورنہ ایک دوسرے کا گریبان پھاڑتے ہوئے الگ ہو جائیں۔ یہ ایک بہت حد تک ممکن صورت ہے۔ گو کہ آج ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن وہ دن بھی یاد کریں جب عمران خان شیخ رشید کو چپڑاسی رکھنے کے لیے تیار نہیں تھے اور آج ایک سیٹ جیتنے کے لیے انھیں نے اپنے زیادہ تر کارکنوں کو راولپنڈی اور اسلام آبد میں ناراض کر دیا ہے۔ سب سے آخرمیں آپ کو ذاتی خیال بتاتاہوں جس کے لیے میں نے سندھ اور بلوچستان کے بہت سے حلقوں کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔

پنجاب نہیں سندھ اور بلوچستان فیصلہ کریں گے
سندھ اور بلوچستان میں نواز شریف نے جو سیاسی رنگ جمایاہے وہ سر چڑھ کر بولے گا۔ سندھ میں دس جماعتی اتحاد اور بلوچستان میں قوم پرستوں کا اتحاد اندازوں سے کہیں زیادہ کامیاب ہو گا۔ سندھ میں صورتحال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی پھپھی اور ٹپی کی سیاست کی بھینٹ چڑھ چکی ہے۔ ٹھٹھہ کی دو سیٹس اور لاڑکانہ کی چار میں سے تین سیٹس پر بھی پہلی بار جیالوں کو حقیقی مقابلے کا سامنا ہے۔ سکھر میں ایم کیوایم نے پی پی کا بہت سا ووٹ بنک ہتھیا لیا ہے جبکہ دس جماعتی اتحاد نے لاڑکانہ ون جیسی پکی سیٹ پر بھی پی پی کے ایاز سومرو کو پریشان کر رکھا ہے۔ پی پی کے اس گڑھ کے رہنے والے پہلی بار گلیوں بازاروں میں کھل کر پی پی مخالف نعرے لگا رہے ہیں۔ فنکشنل لیگ کے محمد اکبر راشدی جنھیں نو دوسری جماعتوں بشمول جماعت اسلامی اور نواز لیگ کی سپورٹ حاصل ہے پورے جوبن سے مہم چلا رہے ہیں۔ لاڑکانہ این اے دوسوسات پیپلز پارٹی کی لاڑکانہ میں واحد یقینی سیٹ تصور کی جا رہی ہے اور یہاں محترمہ فریال تالپور امیدوار ہیں اور یہیں سے وہ دوہزار آٹھ میں جیتیں بھی تھیں۔ دوہزار آٹھ کے انتخابات میں پیپلزپارٹی نے سندھ بھر سے قومی اسمبلی کی تیتیس سیٹیں حاصل کیں تھیں اور ریزرو ملا کے اکتالیس کا نمبر حاصل کیا تھا۔ لیکن یاد رکھیں یہ وہ وقت تھا جب محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا افسوس ناک سانحہ پیش آئے چند روز ہوئے تھے۔ باخبر حلقوں سے تفصیلی بحث مباحثے کے بعد میرا یقین ہے کہ سندھ میں اس بار کی صورتحال سب کو حیران کر دے گی۔ اب ایک لائن میں میں آپ کو بتاو¿ں کہ میرے تجزئیے کے مطابق اگلی حکومت مسلم لیگ نواز اپنے انھی اتحادیوں کی مدد سے بنانے میں کامیاب ہو جائے گی جن سے انتخابات کے دوران اس نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ہوئی ہے۔ جبکہ رہی سہی کسر آزاد امیدوار اور فاٹا سے جیتنے والے پوری کر دیں گے۔ یہ میرا ایک بہت محتاط اور معلومات پر مبنی اندازہ ہے۔ باقی مستقبل کے بارے میں حقیقی بات تو خدا ہی جانتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top