برطانیہ کتنا طاقتور ہے

برطانیہ کتنا طاقتور ہے

کبھی تاج برطانیہ کا دعویٰ تھا کہ ان کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی اور پچاس سے زیادہ ممالک پر برطانیہ کا قبضہ تھا۔ اور آج برطانیہ کا رقبہ پاکستان کے صوبہ پنجاب سے کچھ ہی زیادہ ہے۔ تو کیا ان سب چیزوں نے برطانیہ کی طاقت کو کم کر دیا ہے۔

ہاں اس کی سپرپاور طاقت تو کم ہو گئی ہے لیکن اقوام متحدہ میں سیکیورٹی کونسل کے مستقل ممبر ہونے کی وجہ سے برطانیہ آج بھی اتنا طاقتور ہے کہ وہ کسی بھی اہم مسئلے کو ویٹو کر کے اثرانداز ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے کسی پرپابندیاں لگانی ہوں یا کہیں فوج تعینات کرنی ہو تو یہ کام برطانیہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

برطانیہ کتنی بڑی فوجی طاقت ہے اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ برطانیہ کا دفاعی بجٹ اکسٹھ ارب ڈالر سے زیادہ ہوتا ہے یعنی پاکستان کے فوجی بجٹ سے چھے گنا زیادہ۔ برطانوی ائرفورس کے پاس دو سو لڑاکا طیارے ہیں۔ ان میں سب سے جدید طیارے امریکی ساختہ ایف تھرٹی فائیو پندرہ کی تعداد میں ہیں۔ برطانوی بحریہ کے پاس تیرہ فریگیٹ اور چھے ایلیٹ تباہ کن بحری جنگی جہاز ہیں جو سمندر میں کسی بھی جہاز کو منٹوں میں تباہ کر سکتے ہیں۔ اس کا سب سے خطرناک ہتھیار ایٹمی آبدوزیں ہیں۔ یہ آبدوزیں ہر وقت برطانیہ کے گرد سمندر میں چکر لگاتی رہتی ہیں اور برطانیہ کی حفاظت کو یقینی بناتی ہیں۔ دوسری طرف اسلحے کی تیاری اور تجارت میں برطانیہ کا دنیا میں چھٹا نمبر ہے۔

برطانوی معیشت کو دیکھیں تو برطانیہ دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے، جی سیون کا اہم رکن ہے۔ کچھ سال پہلے برطانیہ نے یونان اور آئرلینڈ کو دیوالیہ ہونے سے بھی بچایا۔

برطانیہ کی جغرافیائی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ یہ امریکہ، ایشیا اور یورپ کے درمیان ایسی جگہ واقع ہے جہاں یہ ان سب کے لیے ایک چینل اور رابطے کا کام کرتا ہے۔ اکانومسٹ میگزین کے مطابق اگر امریکہ دنیا کی سپرپاور ہے تو برطانیہ سپر سافٹ پاور ہے کیونکہ برطانیہ اپنی تمام تر طاقت کے باوجود یہ امیج برقرار رکھنے میں کامیاب ہے کہ وہ امریکہ سے زیادہ مہذب ہے۔

اکانومسٹ میگزین کے مطابق اگر امریکہ دنیا کی سپرپاور ہے تو برطانیہ سپر سافٹ پاور ہے

لب لباب یہ کہ برطانیہ اتنی بڑی جنگی طاقت تو نہیں کہ وہ کسی ملک پر قبضہ کر سکے لیکن اتنی بڑی سیاسی قوت ضرور ہے کہ وہ دنیا کے تمام اہم فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور اتنی بڑی جنگی طاقت ہے کہ کوئی اس پر حملے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ دوسری طرف اسے یہ قوت اپنی تعلیمی درسگاہوں، یونیورسٹیوں، سائنسی مہارت، اسلحے کی فروخت، اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کی مستقل نشست اور دنیا کے تمام ممالک سے دوستانہ اور اچھے تعلقات کی وجہ سے ملتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top