فرانس کتنی بڑی طاقت ہے؟

فرانس کتنی بڑی طاقت ہے؟

فرانس کتنی بڑی طاقت ہے

اگر ہم سیاسی لحاظ سے دیکھیں تو ہاں فرانس ایک عالمی طاقت ہے۔ کیونکہ اقوام متحدہ کے سب سے طاقتور ادارے سیکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ممبران میں سے ایک فرانس ہے۔ یعنی اقوام متحدہ کبھی فرانس کے مفادات کے خلاف قانون نہیں بنا سکتا۔ کیونکہ فرانس ایسی کسی بھی تحریک کو ویٹو کرے گا۔ فرانس کی دوسری سیاسی طاقت اس کا یورپی یونین کا بانی ممبر ہونا ہے۔ اگرچہ فرانس کی آبادی اور رقبہ زیادہ نہیں لیکن اس کے باصلاحیت لوگ اس کی طاقت ہیں۔

فوجی لحاظ سے فرانس کاغذوں کی حد تک بڑی طاقت ہے لیکن تاریخی طور پر فرانس کی فوج کو ہتھیار ڈالنے میں جلدی کرنے والی فوج سمجھا جاتا ہے ۔ جس کا پس منظر یہ ہے کہ انیس و چالیس میں جب ہٹلر نے فرانس پر حملہ کیا تو فرانسیسی فوجی سربراہ نے فرانس کا زیادہ تر حصہ بغیر لڑے جرمنی کے حوالے کر دیا تھا۔ مزید یہ کہ دونوں عالمی جنگوں میں فرانس نے بری طرح شکست کھائی اور اس کے دفاع کیلئے برطانیہ سمیت دوسرے اتحادیوں کو میدان میں آنا پڑا۔ اگر اتحادی ساتھ نہ ہوتے تو جرمنی فرانس کا قبضہ شاید کبھی نہ چھوڑتا۔

کہنے کو تو فرانس کے پاس دو لاکھ تیس ہزار فوج ہے لیکن وال سٹریٹ جنرل کے مطابق عملی طور پر فرانس تین ماہ میں صرف تیس ہزار فوجیوں کو میدان میں اتارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن ملٹری کے میدان میں فرانس کی اصل طاقت اس کی میراج اور رافیل جنگی طیارے بنانے کی صلاحیت ہے۔ اس کے علاوہ ماڈرن ٹکنالوجیز میں فرانس ایٹمی آبدوزیں، لانگ اور شارٹ رینج میزائلز اور طیارہ بردار بحری بیڑہ بھی رکھتا ہے۔ نیشنل پاور انڈیکس میں فرنچ آرمی کو چوتھی طاقتور ترین فوج سمجھا جاتا ہے۔ فرانسیسی فوج رواں صدی میں مالی،لیبیا اور صومالیہ میں فوجی کارروائیاں کرچکی ہے۔

معاشی لحاظ سے البتہ فرانس بہت مضبوط ہے۔ ورلڈ بنک کے مطابق فرانس اپنے جی ڈی پی کے حساب سے دنیا کی چھٹی بڑی معیشت ہے۔ اسلحے کی فروخت فرانسیسی معیشت کا بڑا حصہ ہے کیونکہ فرانس دنیا میں اسلحے کا پانچواں سب سے بڑا بیوپاری ہے۔ فرانسیسی معاشی ماہرین کی دنیا بھر میں مانگ ہے یہی وجہ ہے کہ عالمی بنک کا سربراہ روایتی طور پر فرنچ ہوتا ہے۔ افریقہ کے چودہ ممالک فرانسیسی کرنسی استعمال کرتے ہیں۔ فرانس کی معیشت کی بنیاد سرمایہ کاری ہے جس میں دوا سازی، خوشبوؤں کی صنعت اور سیاحت بھی فرنچ اکانومی کی بہت بڑی طاقت ہیں۔

تو لب لباب یہ کہ فرانس سیاسی اور معاشی لحاظ سے ایک عالمی طاقت ہے لیکن ہم اسے ایک سپر پاور نہیں بلکہ ایک سافٹ پاور کہہ سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top