مسلم لیگ (ن) میں عام انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر دوسرے روز بھی صلاح مشورے جاری ہیں

ایاز صادق، روحیل اصغر، طلال چوہدری کا معاملہ حل کرنے کی کوشش جاری ہے۔ این اے 121 سے روحیل اصغر نے پارٹی قیادت کو الیکشن لڑنے کا واضح عندیہ دے دیا، این اے 121 کی 12 یونین کونسل کے چیئرمینز نے ایاز صادق کی حمایت کی ہے۔ ایاز صادق نے این اے 119 اور 117 میں بھی کاغذات جمع کرارکھے ہیں اور ہفتے کے روز ہونے والے اجلاس میں ایاز صادق نے بھی اپنا مؤقف پیش کیا اور کہاکہ حلقے کے لوگ کہتے ہیں کہ وہ اپنے حق کیلئے نہیں لڑسکتے، میں ضد کرنا اور منوانا جانتا ہوں لیکن پارٹی ڈسپلن کا پابند ہوں۔ذرائع کے مطابق این اے 96 جڑانوالہ میں طلال چوہدری اور نواب شیر وسیر کا معاملہ بھی حل طلب ہے، ن لیگ میں طلال اور شیر وسیر کیلئے الگ الگ مضبوط گروپ کام کررہے ہیں، نواب شیر وسیر پی ٹی آئی کے منحرف ارکان میں سے ہیں اور شہباز شریف کی رائے ہے کہ نواب شیر وسیر کو ٹکٹ جاری کیا جائے کیونکہ ن لیگ کے بعض رہنماؤں نے نواب وسیر کو ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ذرائع نے بتایاکہ استحکام پاکستان پارٹی سے بھی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ بھی زیر غور ہے، ن لیگ اور آئی پی پی کی قیادت کے مشورے جاری ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی پی پی کو ن لیگ لاہور میں ایک قومی اسمبلی اور 2 صوبائی اسمبلی کی نشستیں دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ذرائع کے مطابق ن لیگ کے پارلیمانی بورڈ میں آئی پی پی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر سوال بھی اٹھا تھا۔اُدھر ذرائع نے بتایاکہ نارووال میں احسن اقبال اور دانیال عزیز کا جھگڑا بھی جاری ہے، احسن اقبال نے دانیال عزیز کے این اے 75 کے نیچے پی پی 54 میں کاغذ جمع کرادیے، پی پی 54 میں دانیال عزیز اپنے نمائندے کو ٹکٹ دلوانا چاہتے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button