پاکستان کی کہانی قسط نمبر 8

پاکستان کی کہانی قسط نمبر 8

جنرل یحیٰ نے مارچ انیس سو انہتر میں صدر ایوب خان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن کر حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی۔

اب جنرل یحییٰ ایک ہی وقت میں پاکستان کے صدر، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے۔

وہ چونکہ ایوب کے زوال کے اسباب دیکھ چکے تھے اس لیے انھوں نے فوراً سیاستدانوں سے کوئی لڑائی مول لینے کے بجائے ایوب دور میں سیاسی جماعتوں پر لگی پابندیوں کو ختم کیا۔ جنرل یحیٰ خان نے ایوب دور میں بنایا گیا انیس سو باسٹھ کا متنازعہ آئین بھی منسوخ کردیا۔ انھوں نے دسمبر انیس سو ستر میں صدارتی انتخابات کروائے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات تھے جس میں ایک آدمی ایک ووٹ کا اصول استعمال ہوا۔ انھیں پاکستان کی تاریخ کے سب سے شفاف انتخابات کہا جاتا ہے۔ لیکن ان شفاف انتخابات کا نتیجہ بہت خوفناک برآمد ہوا۔

ان شفاف انتخابات میں میں بنگال کے شیخ مجیب الرحمان نے مشرقی پاکستان میں کلین سویپ کیا اور ایک سو ساٹھ نشستیں جیت لیں۔ لیکن ان کی جماعت مغربی پاکستان میں ایک بھی سیٹ حاصل نہ کر سکی۔ ادھر ذوالفقار علی بھٹو نے مغربی پاکستان میں اکیاسی نشتیں جیتیں۔ لیکن مشرقی پاکستان میں وہ ایک بھی سیٹ نہ جیت سکے۔ پاکستان واضح طور پر دو حصوں میں بٹ چکا تھا۔

پورا مشرقی پاکستان شیخ مجیب کے ساتھ کھڑا تھا اور شیخ مجیب آئینی لحاظ سے پاکستان کے نئے منتخب حکمران تھے۔ جنرل یحییٰ کی ذمہ داری تھی کہ انھیں اقتدار منتقل کرتے۔ اسی مقصد کیلئے جنرل یحییٰ نے ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا۔ یہ ایک تاریخی موقع تھا کہ پاکسان کو مشرقی پاکستان سے منتخب قیادت مل رہی تھی۔ لیکن بھٹو نے اس نہایت اہم تاریخی اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا۔ نہ صرف انکار کیا بلکہ  اپنے نمائندوں کو دھمکی دی کہ اگر کوئی ڈھاکہ والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں گیا تو اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا۔ بھٹو نے جنرل یحییٰ پر اجلاس ملتوی کرنے کیلئے دباؤ ڈالا۔ جنرل یحییٰ نے یہ اجلاس ملتوی کروا دیا۔ اجلاس کا ملتوی ہونا تھا کہ مشرقی پاکستان میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی بنگالی سمجھ گئے کہ مغربی پاکستان کی اشرافیہ ہمیں اقتدار منتقل نہیں کرنا چاہتی۔ بھارت جو پہلے سے موقعے کی تاڑ میں بیٹھا تھا اس نے باغیوں کا ایک مسلح گروہ مکتی باہنی کے نام سے تیار کیا اور مشرقی پاکستان میں مسلح بغاوت شروع کروا دی۔ مکتی باہنی کے مسلح گروہوں نے پاک فوج اور مغربی پاکستان کے حامیوں پر حملے شروع کر دئیے۔

یہ پاکستان بچانے کا آخری موقع تھا کہ اس وقت بھی ایک اجلاس بلا کر اقتدار انتخابات جیتنے والے کے سپرد کر دیا جاتا تو شاید پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی۔ گو کہ یہ اتنا سادہ اب نہیں رہا تھا لیکن جنرل یحییٰ نے یہ آخری موقع بھی گنوا دیا اور بغاوت کچلنے کیلئے فوجی ایکشن شروع کروا دیا۔ پاک فوج نے مکتی باہنی کی بغاوت کو نو ماہ میں کچل دیا۔ لیکن اس فوجی ایکشن کے نتیجے میں نفرت کی ندی کا پانی سروں سے بہت اونچا ہو چکا تھا۔ دوسری طرف موقع کی تاڑ میں بیٹھے بھارت نے اپنی سازش کو ناکام ہوتے دیکھا تو انٹرنیشنل بارڈر کراس کرتے ہوئے مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیا۔ پاک فوج چاروں طرف سے گھیرے میں آ گئی۔ جغرافیہ ہمارے خلاف تھا، پاک فوج اپنے مرکز سے ایک ہزار میل دور اور چاروں طرف سے دشمنوں  میں گھری ہوئی تھی۔ پاک فوج کی سپلائی لائن بھی کٹ چکی تھی اور مشرقی پاکستان کی سرزمین بیگانی ہو چکی تھی۔ شکست دیوار پر لکھی تھی۔

اس کے باوجود پاک فوج کے جوان بہادری سے لڑے، وطن کی خاطر ہزاروں جوان کٹ مرے لیکن یہ ایک ہاری ہوئی جنگ تھی۔ جسے لمبا تو کھینچا جا سکتا تھا جیتا نہیں جا سکتا تھا۔ اور ہوا بھی یہی۔ پاکستان کو اپنی تاریخ کی سب سے شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور نوے ہزار پاکستانی فوجی بھارت کے قیدی بن گئے۔ ملک ٹوٹ چکا تھا اور پاکستان مشرقی او مغربی کے بجائے صرف پاکستان رہ گیا تھا۔

گو کہ ملک توڑنے کا ذمہ دار کوئی ایک فرد نہیں ہو سکتااس کے پیچھے سیکڑوں عوامل ہوتے ہیں۔ لیکن اگر یہ دیکھنا ہو کہ آخری وقت میں وہ کون سا شخص تھا جو پاکستان کو بچا سکتا تھا لیکن اس نے نہیں بچایا تو اس کا نام ہے جنرل یحییٰ۔ جنرل یحییٰ اس لیے کہ ان کی بطور صدر اور کمانڈر ان چیف یہ ذمہ داری تھی کہ اقتدار سب سے زیادہ ووٹ لینے کو ایماندری سے منتقل کر دیتے۔ لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاکستان توڑنے کے تنہا ذمہ دار جنرل یحییٰ ہیں۔ کیونکہ

وقت کرتا ہے پرورش برسوں ۔۔۔ حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔

سانحہ مشرقی پاکستان کے ساتھ ہی جنرل یحییٰ کے اقتدار کا سورج بھی غروب ہو گیا۔ جنرل یحییٰ نے ذوالفقار علی بھٹو کو ایک کاغذ کی تحریر کے ذریعے اقتدار منتقل کر دیا۔ بھٹو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور دستور ساز اسمبلی کے سربراہ بن گئے۔ انھوں نے اقتدار سنبھالا اور جنرل یحیٰ کو نظر بند کر دیا۔ باقی زندگی میں جنرل یحیٰ زیادہ تر نظر بند ہی رہے۔ بھٹو کی پھانسی کے ایک سال بعد سقوط ڈھاکہ کا یہ اہم ترین کردار انتقال کر گیا۔  

ادھر پاکستان سے الگ ہونے والے بنگلہ دیش میں ایک کے بعد ایک فوجی بغاوت جنم لیتی رہی یہاں تک کہ علیحدگی کے صرف چار سال بعد ڈھاکہ میں شیخ مجیب کو نوجوان فوجی افسروں نے گھر میں گھس کر قتل کر دیا۔ یوں صرف دس سال کے اندر اندر سقوط ڈھاکہ کے تینوں اہم کردار بھٹو، شیخ مجیب اور جنرل یحییٰ موت کی وادی میں جا سوئے۔ پاکستان نے اس سانحہ کی وجوہات جاننے کیلئے بنگال سے تعلق رکھنے والے شخص حمودالرحمان کی سرپرستی میں ہی ایک کمیشن بنایا۔ اس کمیشن نے رپورٹ تیار کی لیکن اس کی رپورٹ نہ تو بھٹو نے شائع کی اور اس کے بعد آج تک کبھی سامنے آئی۔ اس کے کچھ حصے بھارت میں تو شائع ہوئے لیکن پاکستان میں اسے کبھی پبلک نہیں کیا گیا۔

پاکستان کی کہانی جاری ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت پر وہ کیا دباؤ ڈالا تھا کہ انڈیا نوے ہزار فوجی آزاد کرنے پر مجبور ہو گیا۔ جنرل ضیا الحق نے کس طرح ایک اور مارشل لا لگانے میں کامیاب ہوئے؟ یہ جاننے کیلئے اگلی قسط دیکھئے اور دیکھو سنو جانو کو سبسکرائب کیجئے۔ اگر آپ کو یہ وڈیو اچھی لگی تو لائیک، کمنٹس اور شیئر بھی ضرور کیجئے تا کہ ہم اس سلسلے کو جاری رکھ سکیں اور بہتر سے بہتر بنا سکیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top