کیا چین سپر پاور بن چکا ہے؟

کیا چین سپر پاور بن چکا ہے؟

دنیا میں چین کو امریکی سپرپاور کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ 

پہلے معاشی لحاظ سے دیکھتے ہیں۔  ورلڈ بنک کے مطابق قوت خرید کے اعتبار سے چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ جبکہ نومینل جی ڈی پی کے اعتبار سے دیکھیں تو چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے۔ لیکن دوسری بڑی ہونے کے باوجود بھی چین اور امریکی معیشت میں سات ٹریلین ڈالر کا فرق ہے۔ حالانکہ امریکہ میں یہی جی ڈی پی صرف پنتیس کروڑ آبادی کے ساتھ حاصل کیا جاتا ہے جبکہ چین کی آبادی ڈیڑھ ارب کے قریب پہنچ چکی ہے۔ جس سے پتا چلتا ہے کہ امریکی دماغ چین سے بہت آگے ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ امریکہ کے قریب ترین اگر کسی ملک کی معیشت ہے تو وہ چین ہی ہے اور اگر کوئی ملک یہ فرق تیزی سے کم کرتا جا رہا ہے تو وہ بھی چین ہی ہے۔

ایک طرح سے دیکھیں تو چین امریکہ سے بہت بڑی معاشی طاقت ہے۔ وہ یوں کہ امریکہ دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے جو اپنے جی ڈی پی کا 97 فیصد قرضے کی شکل میں ادا کرتا ہے۔ جبکہ چین اپنے جی ڈی پی کا صرف تیرہ فیصد بیرونی قرض کی مد میں ادا کرتا ہے۔  چین کے پاس فارن ریزروز تین اعشاریہ تین ٹرلین ڈالر دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ فارن ریزروز میں دوسرا نمبر جاپان کا ہے لیکن اس کے فارن ریزروز چین کے آدھے سے بھی کم ہیں۔

دفاعی لحاظ سے دیکھیں تو چین کے پاس تئیس لاکھ کی تعداد میں دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے۔ لیکن نیشنل پاور انڈیکس میں چین کو دنیا کی نمبر ون فوجی طاقت نہیں بلکہ امریکہ اور روس کے بعد تیسرے نمبر پر عالمی فوجی طاقت مانا جاتا ہے۔ اس کی وجہ ہتھیاروں کی ٹکنالوجی میں چین کا امریکہ اور روس سے پیچھے ہونا ہے۔ چین کا دفاعی بجٹ دو سو پندرہ ارب ڈالر ہے جو امریکہ کے چھے سو گیارہ ارب ڈالر بجٹ کے مقابلے بہت کم ہے۔ لیکن اس کے باوجود چین امریکی ٹکنالوجی کے مقابلے میں اپنے ہتھیاروں کو اپنی صلاحیت سے تیار کرتا ہے۔ 

چین کے نئے منصوبے ون بیلٹ ون روڈ اور اس منصوبے سے جڑے سی پیک جیسے دوسرے پراجیکٹس نے امریکہ کے سپرپاور سٹیٹس کیلئے ایک چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔ گو کہ چین ایسا تاثر نہیں دیتا لیکن یہ حقیقت ہے کہ اگر ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو چین کی معاشی اور دفاعی ترقی کو روکنا ناممکن ہو گا۔  کیونکہ اس منصوبے کی حفاظت کیلئے چین کو عالمی طور فوجی اڈوں کا جال بچھانا پڑے گا جس کی ایک مثال افریقہ ملک جبوتی میں چین کا پہلا فوجی اڈا ہے۔ 

سیاسی لحاظ سے دیکھیں تو چین اقوام متحدہ کی سب سے طاقتور باڈی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور عالمی سطح بڑا فیصلہ چین کی مرضی کے بغیر پاس نہیں کیا جا سکتا۔  چین کے اپنے شمالی اور مغربی ہمسایوں سے اچھے تعلقات اس کی طاقت ہیں۔ جبکہ جنوب میں بھارت سے خراب تعلقات اور مشرقی سمندر میں جزائر کی ملکیت پر کئی ممالک سے تنازعات چین کی کمزوری ہیں۔  لیکن چین اپنی فوجی اور معاشی طاقت سے سمندر میں نئے جزائر اور فوجی اڈے بنا رہا ہے۔

تو کیا چین ایک عالمی طاقت ہے؟ مختصر یہ کہ ہاں ہے۔ لیکن فی الحال امریکہ کے مقابلے کی طاقت نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top