کینیڈا کتنی بڑی عالمی طاقت ہے؟

کینیڈا کتنی بڑی عالمی طاقت ہے؟

کینیڈا کتنی بڑی عالمی طاقت ہے؟

کینیڈا کی سب سے بڑی طاقت اس کا محل وقوع یعنی جیوگرافی ہے۔ کینیڈا ان خوش نصیب ملکوں میں سے ہے جن کے پاس دنیا کا بہترین جغرافیہ ہے۔ وہ روس کے بعد رقبے کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ جس پر شمال سے حملہ اس لیے ناممکن ہے کہ وہاں برف ہی برف ہے اور جنوب سے اس لیے ناممکن ہے کہ اس طرف سپرپاور امریکہ ہے اور امریکہ سے اس کے تعلقات بہترین ہیں۔

امریکہ اور کینیڈا میں ایک اہم دفاعی معاہدہ بھی ہے جس کے مطابق ان میں سے کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دونوں بیرونی خطرے کا مشترکہ دفاع کریں گے۔ مشرق میں ہزاروں میل پر پھیلا سمندر اور مغرب میں ایک بار پھر امریکی ریاست الاسکا کی سٹریٹیجک ڈیپتھ بھی کینیڈا کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اتنے بڑے جغرافیے میں کینیڈا کی آبادی صرف تین کروڑ ساٹھ لاکھ ہے جو ہمارے صوبے خیبرپختونخوا سے تھوڑی سی زیادہ ہے۔کینیڈا کی ایکٹیو فوج کی تعداد صرف سترہ ہزار ہے۔ لیکن اپنے اسلحے اور ٹکنالوجی کے اعتبار سے اسے عالمی طور پر بیسویں نمبر پر رینک کیا جاتا ہے۔ جبکہ عالمی انڈیکس میں پاکستان کا رینک گیارہ ہے۔

معاشی لحاظ سے دیکھیں تو اتنی کم آبادی کے باوجود کینیڈا کا جی ڈی پی دنیا میں چودہویں نمبر پر ہے۔ شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں ہوں کی کینیڈا دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ جبکہ تیل کے ذخائر کے حساب سے تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ تیل کے علاوہ کینیڈا کی معیشت کی بڑی طاقت ایروسپیس ٹکنالوجیز ہے۔ یعنی وہ مشینری جو خلائی تحقیق اور خلائی جہازوں میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کینیڈا میں گاڑیاں بنانے کی صنعت بھی بہت اہم ہے۔ جس میں ٹویوٹا، ہانڈا اور فورڈ جیسی بڑی کمپنوں کا نیٹ ورک شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کینیڈا اپنے دفاع کیلئے جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد خرچ کرتا ہے۔ جبکہ کینیڈا کا سب سے بڑا اتحادی اور ہمسایہ امریکہ چار فیصد خرچ کرتا ہے۔

تو جناب جو لب لباب یہ کہ کینیڈا دنیا کے مضبوط ترین اور سب سے پرامن ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ جنگی طاقت نہیں ہے لیکن دنیا میں کوئی ملک اس کے مفادات کو نقصان پہچائے تو کینیڈا اپنے اتحادیوں کی مدد سے اس کا ناطقہ بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جو چیزیں کینیڈا کو ایک مضبوط اور طاقور ملک بناتی ہیں وہ اس کا بہت بڑا اور محفوظ جغرافیہ، اس کی معشیت، ٹکنالوجی، ہمسایوں سے بہترین تعلقات اور عالمی سطح پر پرامن ساکھ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top