مسئلہ کشمیر کے 10 حقائق

مسئلہ کشمیر کے 10 حقائق

1947میں برصغیر کی تقسیم کے وقت 565کے قریب خودمختار ریاستیں تھیں۔ ان ریاستوں کو برطانوی حکومت نے حق دیا کہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ مذہب کی بنیاد پر کر سکتی ہیں۔

ریاست جموں و کشمیرکی آبادی کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی مگر حکمران مہاراجہ ہری سنگھ ہندو تھا۔ اس کی کوشش تھی کہ کشمیر کی آزاد حیثیت بحال رہے۔ اس نے پاکستان اور بھارت سے سٹینڈ سٹل ایگریمنٹس کیے۔

اکتوبر1947میں ہری سنگھ نے برطانوی فوج کے مسلم سپاہیوں سے اسلحہ ضبط کر کے کشمیر کی ہندوآبادی میں بانٹنا شروع کیا تو مسلم آبادی مشتعل ہو گئی اور انھوں نے بغاوت کردی۔

کشمیری مجاہدین کو پاکستان کے پشتون قبائلیوں کی مدد بھی حاصل ہو گئی ۔ صورتحال سے گھبرا کر ہری سنگھ نے بھارت سے فوجی مدد مانگی۔ ہندوستان نے اس شرط پر ہری سنگھ کی مدد کرنے کا وعدہ کیا کہ وہ کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ کر دے۔

مہاراجہ ہری سنگھ نے اکتوبر1947میں کشمیر کا الحاق ہندوستان سے کردیا اور خود دہلی میں پناہ لے کر چھپ گیا۔

پاکستان نے اس الحاق کو ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ ابھی سٹینڈ سٹل معاہدہ قائم تھا اورہری سنگھ الحاق کی کسی دستاویز پر دستخط کرنے کا مجاز نہیں تھا۔

27اکتوبر کو بھارتی فوجیں کشمیر میں داخل ہو گئیں جس پر پاکستان اور بھارت کے درمیان باقاعدہ جنگ چھڑ گئی۔

دوران جنگ بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے کشمیریوں سے ریفرنڈم کا وعدہ کیا اور اپنی وعدے پر قائم رہنے کی بڑی بڑی قسمیں کھائیں۔

اسی وعدے کے مطابق بھارت کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں لے گیا جہاں 13اگست1948کو ایک قرارداد پاس ہوئی۔ اس میں طے پایا کہ کشمیری ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کریں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ ۔

مگر جنگ ختم ہوتے ہی بھارت ریفرنڈم سے مکر گیا۔ اور آج تک انکاری ہے۔ وہ دن اور آج کا دن کشمیری بھارتی جبر کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حالانکہ ان کے دل آج بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top