امریکہ ایران مغرب ایٹمی ڈیل سے فرار ہو گیا

امریکہ ایران مغرب ایٹمی ڈیل سے فرار ہو گیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والی ایٹمی ڈیل سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ دسمبر2015میں آسٹریا کے دارالخلافہ ویانا میں امریکہ سمیت دنیا کی چھ عالمی طاقتوں اور یورپی یونین نے ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے ایران نیوکلیر ڈیل فریم ورک پر دستخط کیے تھے جس کے بعد ایران نے صنعتی پیمانے پر یورینیم کی افزودگی کے عمل کو روک دیا تھا۔ جواب میں عالمی طاقتوں نے ایران پر معاشی پابندیاں نرم کر دی تھیں۔

ٹرمپ کے خدشات کیا ہیں؟

 

ڈونلڈ ٹرمپ صدر اوبامہ دور میں ہونے والے اس معاہدے کے شروع سے نقاد تھے بلکہ وہ اس معاہدے کو ’’پاگل پن‘‘ تک قرار دے چکے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ایک کمزوریکطرفہ ڈیل ہے جو ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے نہیں روک سکتی۔ ٹرمپ نے مغرب ایران ایٹمی ڈیل کو انتہائی تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے ایران کو اربوں ڈالر کے معاشی فوائد ملے ہیں مگر اس کے باوجود ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کے پروگرام سے باز نہیں آیا ۔ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ امریکہ کسی بھی صورت ایران کو ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کرنے دے گا۔ امریکہ نے ایران پرمعاشی پابندیاں ہی لگانے کا فیصلہ نہیں کیا ہے بلکہ باقی دنیا کو بھی دھمکی دی ہے کہ وہ ایران سے تجارتی تعلقات توڑلیں ۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کمپنیوں کو امریکی منڈی تک رسائی نہیں ملے گی جو ایران کے ساتھ بزنس کر رہی ہیں۔  

ایٹمی معاہدہ ٹوٹنے پر ایران کا ردعمل

 

اس فیصلے پرایرانی صدر نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم امریکہ کے بغیر بھی اس ایٹمی ڈیل کوقائم رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ایٹمی ڈیل پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ڈیل میں شامل دیگر ملکوں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ایرانی صدر نے جوہری توانائی کے ایرانی ادارے کو بھی تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے۔ ایران نے ٹرمپ کے اس فیصلے کو اسرائیلی سازش قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل اسرائیل نے کچھ خفیہ دستاویز دکھاتے ہوئے دنیا کو بتایا تھا کہ ایران معاہدے کے باوجود ایٹمی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس الزام پرایران نے اسرائیلی وزیراعظم کو ’’بدنام جھوٹا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہوکے الزامات فرسودہ ، بے کاراور شرمناک ہیں۔ ایران نے امریکہ کے اس فیصلے اور معاشی پابندیوں کے اعلان کے فورا بعد 2000 کلومیٹر تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرکے اپنا ردعمل بھی دے دیا ہے اور سعودی عرب سے بھی کہا ہے کہ ایران سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں تو اسرائیل سے دوستی ختم کریں۔

ایران کے ساتھ کون سے ملک ہیں؟

 

جب سے امریکی صدر کا اس معاہدے سے نکلنے کا بیان آیا تھا اس وقت سے اقوام متحدہ اور معاہدے میں شریک دیگر ممالک امریکہ کو اس اقدام سے باز رہنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا تھا کہ معاہدہ ختم ہوا تو خطے میں جنگ کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ فرانس کے صدر بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کو اس معاہدے سے نہیں نکلنا چاہیے کیونکہ اس کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہے۔ عالمی امور کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ امریکہ کے اس بے وقوفانہ اقدام کی وجہ سے نہ صرف مشرق وسطی کے حالات خراب ہوں گے بلکہ امریکہ اور یورپی یونین کے باہمی تعلقات پر بھی برے اثرات پڑیں گے۔ فرانس نے کہا ہے کہ ’’امریکہ کے اس معاہدے سے نکل جانے کے بعد بھی یہ ڈیل مری نہیں ہے‘‘۔ روسی صدر نے پوٹین نے اس فیصلے کو ’’مایوس کن‘‘ کہا  ہے۔ دوسری طرف چین سمیت کئی ملکوں نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔ دنیا میں صرف دو ہی ملک ہیں جنہوں نے ٹرمپ کے اس اقدام کو سراہا ہے اور وہ دو ملک ہیں سعودی عرب اور اسرائیل۔

امریکی صدر کے اس اقدام کی اسرائیل کو چھوڑ کر باقی ساری دنیا میں مخالفت کی گئی ہے ۔ پیو ریسرچ گلوبل کے ایک سروے کے مطابق جرمنی کے 71فیصد کینیڈا کے 60 فیصد فرانس کے 62 فیصد اور برطانیہ کے 58 فیصد لوگوں نے ٹرمپ کے اس اقدام کی مخالفت کی ہے جبکہ اسرائیل کی 67 فیصد آبادی نے اس اقدام کو سراہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top