کیا مارشل لاء سے بچنے کے لیے نگران حکومت ضروری ہے؟

کیا مارشل لاء سے بچنے کے لیے نگران حکومت ضروری ہے؟

سیاستدانوں کی بداعتمادی

دنیا بھر میں یہ رواج ہے کہ منتخب جمہوری حکومت ہی اگلے الیکشن کے لیے نگران حکومت کا کام کرتی ہے۔ تو پھر پاکستان میں نگران حکومت بنانے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اس کی وجہ ہے سیاستدانوں کی ایک دوسرے پر حد سے زیادہ بداعتمادی۔ حکومت خواہ اپنی غیرجانبداری کی کتنی ہی قسمیں کیوں نہ کھائے اپوزیشن کبھی تسلیم نہیں کرے گی کہ اس حکومت کے تحت شفاف الیکشن ہو سکتے ہیں۔

نگران حکومت مارشل لاء کے خلاف ڈھال

تاریخی طور پر بھی ثابت ہے کہ پاکستان میں حکومتوں نے ہمیشہ الیکشن میں ڈنڈی مارنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کم ازکم دو ایسے الیکشن ہوئے ہیں جن میں اس وقت کی حکومت نے ہی نگران حکومت کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان میں ایک الیکشن انیس سو پینسٹھ کا صدارتی انتخاب تھا جس میں ایوب حکومت پر فاطمہ جناح کے خلاف دھاندلی کا الزام لگا۔ اس کے بعد انیس سو ستر میں ہونے والے الیکشن فوج کی نگرانی میں ہوئے جنہیں ملکی تاریخ کے شفاف ترین الیکشن کہا جاتا ہے۔ کیونکہ ان میں کسی پارٹی کو سرکاری سرپرستی حاصل نہیں تھی۔ انیس سو ستتر میں ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی حکومت نے خود ہی نگران حکومت کا کردار ادا کرتے ہوئے الیکشن کرا دیئے تو ایک بار پھردھاندلی کا شور مچ گیا۔ اپوزیشن نےا نتخابی نتائج کے خلاف تحریک چلائی اور آخر ملک کو ایک اور مارشل لاء کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعے کے بعد یہ تصور پروان چڑھا کہ اگر عوام کے ووٹ کے تقدس کو بچانا ہے اور منتخب حکومت کے دامن کو دھاندلی کے داغ سے محفوظ رکھنا ہے تو پھر نگران حکومت بنانا ہی ہو گی۔ تاکہ اپوزیشن اور حکومت میں محاذ آرائی نہ ہو اور ہر کوئی انتخابی نتائج کو تسلیم کرے۔ یعنی نگران حکومت ایک طرح سے پرتشدد تحریکوں اور مارشل لاء کے خلاف ڈھال کا کام بھی کرتی ہے۔

نگران حکومتوں کی شروعات

پاکستان میں پہلی نگران حکومت انیس سو نوے میں قائم ہوئی اور غلام مصطفیٰ جتوئی نگران وزیراعظم بنے۔ جبکہ گزشتہ الیکشن میں میرہزار خان کھوسو کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی اور اب ناصرالملک نگران وزیراعظم ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ نوے کے الیکشن سے لے کر آج تک کسی بھی الیکشن کو شفاف نہیں مانا گیا خواہ یہ انتخابات نگران حکومت کے تحت ہوں یا فوج کی نگرانی میں۔ ہارنے والے ہر الیکشن پر سوال اٹھا دیتے ہیں۔ جیسا کہ دوہزار تیرہ کے الیکشن نگران حکومت کے تحت ہونے کے باوجود اپوزیشن نے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور بات دھرنوں تک جا پہنچی تھی۔ جولائی دوہزار اٹھارہ کے الیکشن پر بھی شکوک و شبہات کے ایسے ہی بادل منڈلا رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top