الیکشن 2018 اور عمران خان کے بڑے دعوے

#Election2018

الیکشن 2018 اور عمران خان کے بڑے دعوے

بڑے نعرے بڑے دعوے

جولائی 2018 کے انتخابات ملک کے جمہوری سفر کا ایک اور سنگ میل ہیں۔ مختلف سیاسی طاقتیں بھرپور کوشش کر رہی ہیں کہ انتخابات میں زیادہ سے زیادہ نشستیں اپنے نام کر سکیں۔ اس بار کے انتخابات کی اہم بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی پہلی بار قومی اور بڑی سیاسی جماعت کے طور پر حصہ لے رہی ہے۔ مبصرین کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو انہیں مستقبل کا وزیراعظم پاکستان دیکھ رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف جن بڑے نعروں کو لے کر یہ الیکشن لڑ رہی ہے ، وہ کیا ہیں؟ آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

تعلیم سب کے لیے

پی ٹی آئی کا سب سے پہلا نعرہ ہے ، تعلیم سب کے لیے۔ عمران خان نے انتخابات کے لیے منشور پیش کرتے ہوئے ملک میں بیس نئی یونیورسٹیاں بنانے کا اعلان کیا تھا۔

ہیلتھ انشورنس سسٹم

صحت کے حوالے سے پی ٹی آئی یہ دعوی رکھتی ہے کہ اقتدار میں آ کر وہ صحت کی سہولیات تک سب کی رسائی کو ممکن بنائے گی بلکہ ملک میں ہیلتھ انشورنس کا نظام شروع کیا جائے گا۔

خود انحصاری پر مبنی معیشت

پارٹی منشور پیش کرتے ہوئے عمران خان نے ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانے اور ملکی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا دعوی بھی کیا تھا۔

کرپشن کلچر کا خاتمہ

ایک اور دعوی ہے جو پی ٹی آئی ہر فورم پر کرتی ہے کہ وہ ملک سے کرپشن کے کلچر کو ختم کر دے گی۔ اس کی مثال عمران خان نے لاہور جلسے میں دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی پارٹی ممبران کو پارٹی سے اس لیے نکال دیا تھا کیونکہ انہوں نے سینٹ الیکشن میں اپنے ووٹ بیچے تھے۔

ملک میں سرمایہ کاری لانے کے لیے ٹیکسوں میں کمی کا دعوی بھی تحریک انصاف کے منشور میں شامل ہے۔

بے گھر افراد کے لیے 50لاکھ گھر

ملک سے بے روزگاری کے خاتمے کے لیے نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا دعوی بھی عمران خان نے کر رکھا ہے ، اپنی منشور تقریر میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک میں سیاحت کی صنعت کو مضبوط کیا جائے گا اور بے گھر لوگوں کے لیے پچاس لاکھ گھر تعمیر کیے جائیں گے۔

زرعی ایمرجنسی

تحریک انصاف کا دعوی ہے کہ اگر انہیں اقتدار ملا تو وہ ملک میں زرعی ایمرجینسی نافذ کریں گے، کسانوں کے حالات بہتر کریں گے، انہیں شوگر مل مافیا سے نجات دلائیں گے اور انہیں کم سود پر قرضے دیے جائیں گے۔

الگ سرائیکی صوبہ

فیڈریشن کو مضبوط کرنے کے حوالے سے بھی تحریک انصاف کا ایک ایجنڈہ ہے۔ عمران خان نے اعلان کیا ہوا ہے کہ کہ وہ اقتدار میں آکر فاٹا کو وفاق میں ضم کریں گے، جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنائیں گے۔ اور خیبر پختونخوا جیسا لوکل باڈی سسٹم پورے ملک میں لائیں گے۔

پولیس کے نظام میں بہتری

پولیس اور عدالتی نظام کی بہتری تحریک انصاف کا روز اول سے نعرہ رہا ہے۔ اپنی انتخابی مہم میں وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر اقتدار ملا تو ان شعبوں کو بہتر کریں گے۔

خواتین کی خودمختاری

خواتین کی خود مختاری کے حوالےسے تحریک انصاف کا نعرہ ہے کہ وہ تعلیم کے ذریعے سے پاکستانی خواتین کو شعور دے کر ان کو خودمختار بنائیں گے۔

الیکشن میں بس تھوڑے ہی دن باقی ہیں اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اگر تحریک انصاف یہ الیکشن جیتتی ہے تو اتنے بڑے بڑے دعوئوں کو عملی جامہ پہنانے میں بھی کامیاب ہوتی ہے یا یہ دعوے صرف دعوے ہی رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top