فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام، قبائلیوں کو کیا فائدہ ہو گا؟

فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام، قبائلیوں کو کیا فائدہ ہو گا؟

قبائلی عوام کو حقوق مل گئے

فاٹا ترمیمی بل کی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر مملکت نے بھی اس بل پر دستخط کر دیئے ہیں۔ اب فاٹا باقاعدہ طور پر خیبرپختونخوا کا حصہ بن چکا ہے اور 70 سالہ ملکی تاریخ میں پہلی بار فاٹا کے عوام کو وہ آئینی اور قانونی حقوق میسر آ چکے ہیں جو اس سے پہلے تک انہیں میسر نہیں تھے۔

فاٹا میں پہلے کون سا قانون نافذ تھا؟

قبائلی علاقوں میں پہلے انگریز دور کا فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز ایکٹ 1901 (ایف سی آر) نافذ تھا۔ ایف سی آر کی اہم خصوصیات یہ تھیں۔

1۔ قبائلی علاقے باقی ملک سے ہٹ کر ایک نیم خودمختار علاقہ تصور کئے جاتے تھے جہاں پاکستان کا کوئی بھی قانون نافذ نہیں کیا جا سکتا تھا۔

2۔ ایف سی آر کے تحت قبائلی علاقوں میں کوئی پولیس تھی نہ عدالتیں۔ سیکیورٹی کا انتظام نیم فوجی دستوں یعنی ایف سی وغیرہ کے ہاتھ میں تھا جبکہ آبادیوں کے اندر سیکیورٹی کی ذمہ داری خاصہ دار فورسز کے سپرد تھی جنہیں ان کے اپنے قبلیوں سے ہی بھرتی کیا جاتا تھا۔

3۔ پولیس اور عدالتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے ملک بھر سے مجرم فرار ہو کر یہاں قبائلیوں کے گھروں میں پناہ حاصل کر لیتے تھے اور کوئی انہیں گرفتار نہیں کرسکتا تھا۔ اس لئے فاٹا کو علاقہ غیر بھی کہا جاتا تھا۔

4۔ ایف سی آر کے تحت خواتین کو اپنے قبیلے کی جائیداد سمجھا جاتا تھا اس لئے غیرت کے نام پر قتل اور جھگڑے طے کرنے کے لیے خواتین کی زبردستی مخالفین میں شادیاں کرنے کا رواج بھی عام تھا۔

5۔ ایف سی آر کے تحت مقامی رواج کو عدالتی نظام پر فوقیت حاصل تھی اور تمام جھگڑوں کے فیصلے کرنے کا اختیار صرف قبائلی جرگے کے پاس تھا۔

6۔ وفاقی حکومت کی طرف سے قبائلی علاقوں میں اپنے نمائندے مقرر کئے جاتے تھے جو پولیٹیکل ایجنٹ کہلاتے تھے۔ یہ ایجنٹ ان علاقوں میں حکومتی مفادات کا خیال رکھتے تھے۔

7۔ ایف سی آر کے تحت کسی بھی قبیلے کا کوئی شخص جرم کرتا تھا تو اس کی سزا سارے قبیلے کو دی جاتی تھی۔ اس سزا میں قبیلے کا سماجی بائیکاٹ کرنا، قبیلے کے خاصہ داروں اور سرکاری ملازمین کو برطرف کرنا اورلوگوں کو گرفتار کرنا بھی شامل تھا۔

خیبرپختونخوا میں انضمام کا فائدہ

قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا کا حصہ بننے کے بعد اب ان علاقوں میں پولیس اور عدالتوں کا نظام رائج ہو سکے گا۔ اب جرگوں کی جگہ عدالتیں فیصلے کریں گی۔ اب یہ علاقے نو گو ایریا نہیں رہیں گے اور ملک بھر سے لوگ وہاں جا سکیں گے۔ خواتین کے حقوق کی صورتحال بہتر ہو گی جبکہ میڈیا کو بھی یہاں تک رسائی ملے گی۔ اب کسی ایک شخص کے جرم کی سزا سارے قبیلے کو نہیں مل سکے گی۔

فاٹا میں اصل اصلاحات کے لیے طویل وقت درکار ہو گا

تاہم فاٹا میں صورتحال بدلنے میں بہت وقت لگے گا۔ قبائلی عوام جس نظام کے عادی ہیں اس کی اصلاح کرنے کے لیے بہت محنت درکار ہو گی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان کو سبب سے پہلے اپنے عدالتی نظام کو بہتر کرنا ہو گا تاکہ قبائلی عوام مایوس ہو کرجرگہ سسٹم کو دوبارہ نہ اپنا لیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں میں تعلیم بھی عام کرنا ہو گی تاکہ لوگ اپنے آئینی اور قانونی حقوق سے آگاہ ہو سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top