کیا عمران خان، ٹرمپ اور مودی کا مقابلہ کر پائیں گے؟

کیا عمران خان، ٹرمپ اور مودی کا مقابلہ کر پائیں گے؟

پی ٹی آئی کو خارجہ پالیسی پر درپیش چیلنجز

الیکشن نزدیک آتے ہی یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ اس بار تحریک انصاف کی حکومت بنے گی۔ اگر واقعی ایسا ہو جاتا ہے تو پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے پی ٹی آئی کی حکمت عملی کیا ہو گی۔ عمران خان نے لاہور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنے 100 روزہ روڈ میپ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اعلان کے مطابق پی ٹی آئی نے پاکستان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بہت سی پالیسیوں کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کو اندرونی کے ساتھ بیرونی مسائل کا بھی سامنا ہے۔ اس حوالے سے سب سے بڑا چیلنج امریکہ اور بھارت سے کشیدہ تعلقات ہیں۔ یہ دونوں ہی ممالک اپنے مفادات کے لیے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے پاکستان کی امداد روک لی ہے۔ جبکہ بھارت ایل او سی پر فائرنگ کرنے کے ساتھ ساری دنیا میں پاکستان کو بدنام کر رہا ہے۔

عمران خان بیرونی محاذ پرکیا حکمت عملی اپنائیں گے؟

پی ٹی آئی نے خارجہ پالیسی کے جو نکات جاری کئے ہیں ان میں دو باتیں اہم ہیں۔

1۔ مشرقی اور مغربی ہمسائیوں سے تعلقات میں بہتری

2۔ مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نکالنے کی منصوبہ بندی

امریکہ اور بھارت کو ان کی زبان میں جواب دینا ٹھیک رہے گا؟

پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری پارٹی کی خارجہ پالیسی پر اتھارٹی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جب ایک پروگرام میں میزبان نے ان سے سوال کیا کہ پی ٹی آئی نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے کیا منصوبہ بندی کی ہے تو وہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکیں۔ دوسری طرف امریکہ اور بھارت کے حوالے سے پی ٹی آئی کا رویہ بھی انتہائی جارحانہ نوعیت کا ہے۔ پی ٹی آئی کہتی ہے کہ وہ امریکہ اور بھارت کو انہی کی زبان میں جواب دے گی۔ بلکہ نریندر مودی کی ایل او سی پر جارحیت کو روکنے کے لیے تو وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ تو کیا پی ٹی آئی کی پالیسی سے پاکستان کو بیرونی محاذ پر لاحق چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی؟

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

تجزیہ کاروں کی رائے یہی ہے کہ پی ٹی آئی کا امریکہ اور بھارت سے متعلق جارحانہ رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ خاص طور پر ٹرمپ سے الجھنے کا نتیجہ پاکستان کے لیے ناخوشگوار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان بڑے تحمل سے کام لے اور تصادم سے دور رہے تاکہ وہ مزید نقصان سے بچ سکے۔ کیونکہ جارحانہ انداز سے زیادہ معاشی ترقی پر توجہ دینا پاکستان کے لیے بہتر رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top