ہزارہ شیعہ کون ہیں؟

ہزارہ شیعہ کون ہیں؟

پاکستان میں اقلیتی مسلک کے شیعہ ہزارہ کی نسل کشی کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے۔ پاکستان میں کل ہزارہ آبادی نو لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ پاکستان نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پچھلے پانچ سال میں سات سو سے زیادہ ہزارہ لوگ دہشت گردی کی آگ کا ایندھن بن چکے ہیں۔ منفرد اور نمایاں نین نقش والے یہ ہزارہ لوگ کون ہیں ان کی تاریخ کیا ہے؟ آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

تاریخ کے صفحات کو پھلوریں تو پتہ لگتا ہے کہ تیرہویں صدی میں چنگیز خان کے افغان حملے کے بعد اس کے لشکر کے کچھ لوگ وہیں رہ گئے۔ ہزارہ انہی منگول فوجیوں کی اولادوں میں سے ہیں۔ افغانستان کے پشتون امرا نے ہزارہ آبادی کو افغانی کبھی تسلیم نہ کیا اور ان سے امتیازی سلوک روا رکھا۔ اس عصبیت کے جواب میں 1888میں ہزارہ آبادی نے بغاوت کردی۔ 1891میں افغانستان کے پشتون حکمران امیر عبدالرحمن نے بغاوت کو کچلنے کے بعد فوجوں کو حکم دیا کہ مرکزی افغانستان کے تمام علاقوں میں موجود شیعہ ہزارہ کو قتل کر دیا جائے۔ تاریخی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ اس حملے میں آدھی ہزارہ آبادی قتل ہوئی یا جلاوطنی پر مجبور کر دی گئی۔ معروف ماہر بشریات (انتھراپولوجسٹ)تھامس برفیلڈ اپنی تحقیق میں بتاتے ہیں کہ انیسویں صدی تک ہزارہ آبادی کی حالت یہ تھی کہ انہیں غلاموں کی طرح خریدا اور بیچا جاتا تھا۔ اسی دور میں بہت سے ہزارہ خاندانوں نے بھاگ کر موجودہ پاکستان کےعلاقے بلوچستان اور ایرانی صوبے خراسان میں پناہ لے لی۔

افغانستان میں طالبان دور میں ہزارہ آبادی پر ظلم و ستم ہوئے تو اس وقت بھی بہت سے لوگ وہاں سے ہجرت کرکے بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ میں پناہ لی۔ 2004 میں افغانستان پر صدر حامد کرزائی کی حکومت قائم ہوئی تو امتیازی رویوں میں کچھ کمی آئی۔ اور سیاسی میدان میں بھی ہزارہ آبادی کو حصہ ملا۔ تاہم اب بھی ہزارہ آبادی کو افغانستان میں امتیازی رویوں کا سامنا ہے۔

ایران ہجرت کرنے والی ہزارہ آبادی کو اگرچہ شیعہ ہونے کی وجہ سے زیادہ مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا تاہم وہاں انہیں نسلی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا۔ عام ایرانی آبادی انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہزارہ آبادی کو گذشتہ دوصدیوں سے کہیں بھی سکھ کا سانس لینا نصیب نہیں ہوا ہے۔ 

دوسری جنگ عظیم کے دوران انگریزوں نے صوبہ بلوچستان کی ہزارہ آبادی کو فوج میں بھرتی کرنے کا آغاز کیا۔ اس سے ان کے معاشی حالات بہتر ہونا شروع ہوئے۔ اسی دور میں بھرتی کیے گئے کچھ فوجیوں نے بہت ترقی کی۔ انہی میں سے ایک نام ہے جنرل محمد موسی کا۔ یہ وہی جنرل موسی ہیں جنہوں نے پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ میں پاکستانی افواج کی قیادت کی تھی۔

کوئٹہ میں ہزارہ آبادی تقریبا پانچ سے چھ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ ضیا دور میں جب فرقہ واریت کا جن بوتل سے باہر نکلا تو ہزارہ آبادی پر الزام لگایا گیا کہ انہیں ایران سے مدد ملتی ہے۔ اسی دور میں مسلکی بنیادوں پر جیش اور لشکر بنے جنہوں نے ملک میں قتل و غارت کے کلچر کو پروان چڑھایا۔ شیعہ ہزارہ آبادی بھی اسی ستم کا شکار ہے۔ پاکستان میں شعیہ ہزارہ کی نسل کشی پر طویل خاموشی طاری رہی ہے۔ مگر اب میڈیا اور سوشل میڈیا میں ہی آوازیں نہیں اٹھ رہی ہیں بلکہ سپریم کورٹ نے بھی ہزارہ آبادی کے قتل پر ازخود نوٹس لیا ہے۔ اس کے علاوہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی ہزارہ برادری کے عمائدین سے ملاقات کی ہے اور انہیں یقین دلایا ہے کہ ہر قیمت پر ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top