پاکستان کی کہانی ۔ قسط نمبر5

پاکستان کی کہانی ۔ قسط نمبر5

1954 میں جب پاکستان میں جمہوریت کی گاڑی ابھی پٹڑی پر چڑھی بھی نہیں تھی کہ گورنر جنرل غلام محمد نے اس اسمبلی کو ہی فارغ کر کے گھر بھیج دیا جو ایک آزاد وطن کا آئین تشکیل دے رہی تھی۔ اور اس کے لیے گونر جنرل  نے ہندوستان کے دور غلامی کے ایکٹ 1935 میں دئیے گئے اختیارات کو استعمال کیا۔ لیکن اس وقت پاکستان کو جمہوریت کی پٹری پر ڈالنے کیلئے عملی کوشش اسی برطرف اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیزالدین نے کی۔ انھوں نے اسمبلی توڑنے کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور درخواست کی کہ گورنر جنرل کے فیصلے کو مسترد کیا جائے۔  کیونکہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے جسے دور غلامی کے ایکٹ کے تحت نہیں چلایا جا سکتا۔ سندھ ہائی کورٹ نے اسمبلی بحال کردی۔

عارضی طور پر جمہوریت کی جیت ہوئی اور امید پیدا ہوئی کہ پاکستان جمہوری پٹری پر آگے بڑھے گا لیکن یہ امید اس وقت دم توڑ گئی جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محمد منیر نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ ہی کالعدم قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ساتھی ججز نے فیصلے میں انیس سو پنتیس کے ایکٹ کے تحت گورنر جنرل کے اقدام کو درست قرار دیا۔

وہ فیصلہ جس نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو نظریہ ضرورت کی اندھیری اور گہری دلدل میں پھنک دیا چار، ایک سے دیا گیا۔ جن ججز نے گورنر جنرل کے اسمبلی توڑنے کے عمل کو درست قرار دیا وہ تھے جسٹس منیر، جسٹس محمد شریف، جسٹس محمد اکرم اور جسٹس ایس اے رحمان۔ اور وہ ایک جج جنھوں نے ان سب سے اختلاف کیا اور وہ تھے جج جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلئس۔ انھوں نے لکھا کہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اس کی اسمبلی کو 1935  کے برطانوی ایکٹ کے تحت برطرف نہیں کیا جا سکتا۔ اس فیصلے سے نظریہ ضرورت نے جنم لیا جس سے بعد میں آنے والے تمام آمروں نے فائدہ اٹھایا لیکن جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

یہ سب ہو رہا تھا لیکن اس دوران گورنر جنرل غلام محمد کی صحت بھی تیزی سے بگڑ رہی تھی۔ خراب صحت کے باوجود وہ اقتدار کی کرسی سے چپکے ہوئے تھے اور کسی طور اسے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ انیس سو پچپن میں اسکندر مرزا اور جنرل ایوب نے انھیں زبردستی علاج کیلئے بیرون ملک بھیجا اور استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ اسکندر مرزا پاکستان کے نئے گورنر جنرل بنے۔ سابق گورنر جنرل غلام محمد جنھیں علاج کے لیے بیرون ملک بھیجا گیا تھا صحت یاب تو نہ ہو سکے البتہ ایک سال بعد خالق حقیقی سے جا ملے۔

غلام محمد نے ملک کو تباہی کے جس راستے پرگامزن کیا نئے گورنر جنرل اسکندر مرزا نے اس میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔ انھوں نے آئین کی تیاری میں دلچسپی دکھائی اور نہ مشرقی پاکستان کے خراب ہوتے حالات کو سدھارنے کی کوشش کی حالانکہ اسکندر مرزا کا اپنا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔

پاکستان کی دلچسپ کہانی جاری ہے۔  سی پیک کا اہم حصہ گوادر پاکستان کا حصہ کیسے بنا اور وہ کون سا پاکستانی حکمران تھا جسے دفن ہونے کیلئے وطن کی مٹی بھی نصیب نہ ہوئی۔ یہ سب جاننے کیلئے پاکستان کہانی کی اگلی قسط دیکھئے۔ اور دیکھو سنو جانو 

کی شاندار وڈیوز سے باخبر رہنے کیلئے چینل ضرور سبسکرائیب کیجئے۔  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top