سی آئی اے کے حکومت گرانے کے 5 ہتھکنڈے

سی آئی اے کے حکومت گرانے کے 5 ہتھکنڈے

امریکی اور برطانوی اخبارات گواہ ہیں کہ امریکی خفیہ ایجنسی دوسرے ملکوں میں حکومتیں گرانے کیلئے اربوں ڈالر خرچ کرتی ہے۔ ایسا امریکی مفاد کے نام پر کیا جاتا ہے۔ اس کیلئے کئی طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ لیکن یہ پانچ زیادہ عام ہیں۔

اپوزیشن کی فنڈنگ کر کے

سب سے آسان اور سادہ طریقہ یہ ہے حکومت مخالف سیاسی طاقتوں کو خفیہ طریقوں سے فنڈز فراہم کر دئیے جائیں۔ یا فوج کے اندر ایک دھڑے کو قبضے کیلئے اکسایا اور فنڈز فراہم کئے جائیں۔ یہ وہ کام ہے جو امریکہ نے 1963 میں جنوبی ویتنام میں کیا۔ برازیل اور گوئٹے مالا میں بھی سی آئی اے یہی حربہ آزمایا۔ ڈی کلاسیفائیڈ خفیہ دستاویزات میں اس کے ثبوت موجود ہیں۔

لیڈروں کو قتل کرا کے

سی آئی اے کا حکومتیں تبدیل کرنے کا دوسرا معروف طریقہ ہے مقبول لیڈروں کو قتل کروانا۔ سی آئی اے نے کانگو کے جمہوری صدر پیٹریس لومامبا کو قتل کرانے کی کئی کوششیں کیں۔ 1961میں وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوئے مگر عوامی حمایت کی وجہ سے امریکی منظور نظر قیادت تو حکومت میں نہ سکی۔ لیکن کانگو 4 سال تک سیاسی ہنگامہ آرائی کا شکار رہا۔

معیشت تباہ کرا کے

معاشی قتل حکومتیں گرانے کا تیسرا طریقہ ہے جو سی آئی اے استعمال کرتی ہے۔ معاشی پابندیوں کے جائز ناجائز طریقے استعمال کر کے سی آئی اے سیاسی حکومت کی بنیاد ہلا دیتی ہے۔ 70 کی دہائی میں چلی کے صدر سیلوا ڈور ایلیندے نے امریکی دبائو کے باوجود بڑی صنعتوں کو قومی تحویل میں لینے کی پالیسی جاری رکھی۔ امریکی صدر رچرڈ نکسن کے حکم پر سی آئی اے نے چلی کی معیشت تباہ و برباد کر کے رکھ دی۔ جس کے نتیجے میں عوامی سطح پر بے چینی پھیل گئی اور 1973 میں جنرل آگسٹو پنوشے نے سیاسی حکومت برطرف کر کے فوجی آمریت قائم کر دی۔ جو ستائیس سال چلی پر مسلط رہی۔

صحافی یا صحافتی ادارے خرید کے

حکومتوں الٹانے کا چوتھا امریکی طریقہ ہے نامور صحافیوں یا صحافتی اداروں کو خریدنا۔ انہوں نے 1950کی دہائی میں اٹلی کی حکومت گرانے کے لیے یہی سب کچھ کیا۔ انھوں نے اخبارات کو خریدا اورمرضی کا پروپیگنڈا کیا۔ لیکن بعد میں ایک سابق سی آئی اے ایجنٹ نے راز فاش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ جو ہم نے کیا اس سے ہم نے سیکھا ہے کہ اخبار خریدنے سے رپورٹر خریدنا آسان ہے۔ ‘‘ آج سی آئی اے یہی کرتی ہے اور تھرڈ ورلڈ کے ممالک میں افراتفری پھیلانے کیلئے منتخب صحافیوں کو پے رول پر رکھا جاتا ہے۔

سیاسی ہنگامہ آرائی کے ذریعے

امریکی خفیہ ادارے کا حکومتیں الٹانے کا پانچواں معروف طریقہ ہے سیاسی انتشار اور بے یقینی پیدا کر دینا۔ احتجاجی تحریکوں کو کچھ اس طرح سے فروغ دیا جاتا ہے کہ مظاہرین کو یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ تو اصل میں کسی اور کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ ایرانی جمہوری وزیراعظم محمد مصدق نے جب برطانوی آئل کمپنیوں کو قومی تحویل میں لیا تو امریکی اور برطانوی خفیہ ایجنسیوں نے یہی طریقہ استعمال کیا۔ انھوں نے تہران میں ملینز آف ڈالرز خرچ کئے اور محمد مصدق کے خلاف احتجاجی تحریک چلائی۔ سی آئی اے نے ایرانی فوج میں بھی بغاوت کروائی جس نے 1953 میں محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ محمد مصدق جو جمہوری طریقے سے منتخب ہوئے تھے انھیں تادم مرگ گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ محمد مصدق کی جگہ امریکہ کے وفادار رضا شاہ پہلوی کو بیرون ملک سے بلا کر ایران کے تخت پر بٹھا دیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top