پاکستان کتنا طاقتور ہے؟

پاکستان کتنا طاقتور ہے؟

پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جن کا عالمی سیاست میں بہت اہم کردار رہتا ہے۔ اسی وجہ سے مغربی ممالک اور امریکہ کبھی پاکستان کے بہت قریب آ جاتے ہیں اور کبھی اس پر پابندیاں لگا دیتے ہیں۔ پاکستان کی عالمی سیاست میں کیا اہمیت ہے اور اکیس کروڑ آبادی سے زائد آبادی کا یہ وطن کتنا طاقتورہے؟ ہم دیکھتےہیں 

سب سے بڑی طاقت پاکستان کا زبردست جغرافیہ ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ پاکستان ایشیا میں واقع ہے جو تیزی سے عالمی معیشت کا محور و مرکز بنتا جا رہا ہے۔

پاکستان کے مشرق اور شمال میں دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک بھارت اور چین ہیں۔ چین کو افریقہ اور عرب ریاستوں سے تجارتی کیلئے اور بھارت کو مغرب میں وسط ایشیا تک تجارت کیلئے پاکستان سے بہتر راستہ میسر نہیں ہے۔ جبکہ شمال مغرب میں واقع افغانستان کو سمندر تک رسائی کیلئے بھی پاکستان کا ساتھ چاہیے۔ مستقبل کے منظرنامے میں ایشیا کا یہ خطہ اتنا اہم ہے کہ امریکہ بھی نائن الیون کے بعد سےافغانستان میں ڈیرے ڈال چکا ہے۔

دفاعی اعتبار سے دیکھیں تو پاکستان کے پاس دنیا کی پانچویں سب سے بڑی فوج ہے جس کی تعداد چھ لاکھ بیس ہزار ہے۔ عالمی رینکنگ میں پاکستان کی فوج کو دنیا کی گیارہویں سب سے طاقتورفوج مانا جاتا ہے۔ حالانکہ دفاع پر خرچ کرنے کے اعتبار سے پاکستان دنیا میں 23ویں نمبر پر ہے۔ پاک فوج کی طاقت کا اندازہ اس بات سےلگائیں کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے دہشتگردی کے اندرونی نیٹ ورک کو دس سال سے بھی کم عرصے میں کچل کر رکھ دیا۔ یاد رکھیں کہ یہی چیلنج شام، لیبیا، یمن اور عراق کو بھی درپیش تھا لیکن یہ تمام ممالک ان خطرات کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے اور خانہ جنگی کا شکار ہو گئے۔ اسی طرح افغانستان میں امریکہ اور ستر ملکوں کا فوجی اتحاد سترہ سال میں بھی مسلح گروہوں کو شکست نہیں دے سکا۔ پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہے۔ پاکستان دنیا کے ان طاقتور ممالک میں شامل ہے جو تھرڈ اور فورتھ جنریشن کے لڑاکا طیارے، آبدوزیں، جنگی بحری جہاز اور سیٹیلائٹس بھی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا، نوجوان آبادی کے لحاظ سے پانچواں اور رقبے کے لحاظ سے پینتیسواں بڑا ملک ہے۔

معاشی میدان میں دیکھا جائے تو پاکستان پرچیزنگ پاور کے لحاظ سے دنیا کی چوبیسویں اور جی ڈی پی کے لحاظ سے اکتالیسویں بڑی اکانومی ہے۔ یعنی پاکستان کی مالی صورتحال دنیا کے ڈیڑھ سو ممالک سے بہتر ہے۔ پاکستان کے شہریوں کی سالانہ اوسط انکم سولہ سو انتیس ڈالر ہے جو کہ بھارت اور بنگلہ دیش سے زیادہ ہے۔ عالمی معاشی اداروں کے مطابق پاکستان دوہزار تیس تک دنیا کی بیسویں بڑی معاشی طاقت بننے کی طرف جا رہا ہے۔ جبکہ دوہزارپچاس تک اٹلی اور کینیڈا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پاکستان دنیا کی سولہویں بڑی معیشت بن سکتا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اور امن کا تسلسل برقرار رہے۔ پاکستانی معیشت کی کمزروی یہ ہے کہ اس کا زیادہ انحصار زراعت کے شعبے پر ہے۔ زیادہ پانی اور زرخیز زمین ہونے کے باوجود پاکستان کی زرعی پیداوار عالمی معیار سے انتہائی کم ہے۔ جس کی بڑی بنیادی وجہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہ کرنا ہے۔ پاکستان اپنی زراعت اور صنعت میں جدت لائے تو اسے آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

سیاسی لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان کو تین عالمی طاقتوں چین، روس اور ترکی کے قریب تر دیکھا جاتا ہے۔ جبکہ امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ سے پاکستان کے تعلقات اتارچڑھاؤ کا رہتے ہیں۔ سی پیک کے باعث پاکستان کی اہمیت مزید بڑھ رہی ہے اور زیادہ سے زیادہ ممالک تجارتی مقاصد کیلئے پاکستان کا رخ کرتے نظر آ رہے ہیں۔

پاکستان کی ایک اور بڑی کمزوری اس کے ہمسائیہ ممالک بھارت اور افغانستان سے مسلسل خراب تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ غیر مستحکم جمہوریت بھی پاکستان کی ترقی کے راستے میں پریشان کن رکاوٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار یہاں بڑی سرمایہ کاری کرتے ہوئے ذرا محتاط ہوتے ہیں۔

تو مختصر یہ کہ پاکستان بہت بڑے جغرافیے اور آبادی والے ممالک کے درمیان قائم ایک مضبوط اور طاقتور ملک ہے۔ جس کی قوت کا کثیر حصہ اس کی بڑی آبادی، اہم جغرافیے، طاقتور فوج اور چین کے ساتھ تعلقات سے جڑا ہوا ہے۔

 

کون کتنا طاقتور ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top