نواز شریف جو کر رہے ہیں وہ کیوں کر رہے ہیں؟

نواز شریف جو کر رہے ہیں وہ کیوں کر رہے ہیں؟

نواز شریف کس سے مخاطب ہیں؟

نوازشریف بھلے انٹرویو پاکستان میں ایک پاکستانی اخبار کو دے رہے ہیں لیکن اصل میں وہ مخاطب عالمی اسٹیبلشمنٹ اور عالمی رائے عامہ سے ہیں۔ وہ کارگل کے واقعے سے لے کر آج تک زبانی تو یہی کہتے آئے ہیں کہ ملک میں حق حکمرانی اسی کو ہونی چاہیے جس کے پاس عوامی مینڈیٹ ہے۔  حالانکہ نوازشریف جب حکومت میں نہیں ہوتے تو غیر جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر جمہوری حکومت پر دباؤ ڈالنے میں خود بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ یوں وہ پیپلزپارٹی کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے حسین حقانی کے خلاف عدالت گئے تھے۔ وہ عالمی رائے عامہ اور خاص طور پر امریکہ، یورپ اور سعودی حکمرانوں سے کہنا چاہ رہے ہیں کہ اگر پاکستان میں جمہوریت چاہیے اور ایک پرامن برصغیر چاہیے تو انھیں سپورٹ کیا جائے اور غیر جمہوری قوتوں پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ جب وہ دھمکی دیتے ہیں تو دراصل بین الاقوامی رائے عامہ کو ایسے راز بتانے کی دھمکی دیتے ہیں جن سے عالمی رائے عامہ کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈالنے کا موقع مل سکے۔

نوازشریف کیا اپنے مقصد میں کامیاب ہو پائیں گے؟

خواہش تو نوازشریف کی بہت ہے کہ وہ پاکستان کے اندر اپنے خلاف غیر جمہوری قوتوں کو ڈرا دھمکا کر ساتھ ملا لیں یا جہاں ہیں وہیں انھیں روک دیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار نظر آتے ہیں۔ لیکن ایسا ہو سکتا ہے کہ کسی مرحلے پر ان کا سیاسی دباؤ اور غیر ملکی دباؤ ، طاقت کے توازن کو ان کے حق میں جھکا دے۔

 

کیا نوازشریف دوبارہ اہلیت کا سرٹیفیکٹ لے پائیں گے؟

ایسا تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔ کیونکہ اس کیلئے پورا کھیل بدلنا پڑے گا۔ سپریم کورٹ کے فل بنچ کو ایک نیا فیصلہ دینا پڑے گا جس سے ایک اور پنڈورا باکس کھلے گا۔ جو پانج ججوں کے فیصلے سے کھلنے والے پنڈورا باکس سے بھی بڑا ہو گا۔ عدلیہ پر ایک بار پھر تنقید ہو گی اور مخالفین عدلیہ کو آڑے ہاتھوں لیں گے۔ عدلیہ نے اب تک ایک متفقہ متنازعہ فیصلے یعنی بھٹو کی پھانسی کو بھی ریویو نہیں کیا۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس سے بھٹو زندہ نہیں ہو سکتے لیکن عدلیہ خود پر لگے ایک بدنما داغ کو کسی حد تک دھونے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

 

کیا شہباز شریف نوازشریف کے نعم البدل ہو سکتے ہیں؟

جس طرح بڑے برگد کے نیچے گھاس تک نہیں اگتی اسی طرح جب تک ایک بڑا لیڈر منظر عام پر رہتا ہے اس کے نیچے کسی لیڈر کی لیڈرشپ کھل کر سامنے نہیں آتی۔ شہبازشریف پنجاب کی حد تک تو کامیابی سے امور سرانجام دیتے رہے ہیں لیکن ان کا ملکی اور بین الاقوامی ویژن کھل کر سامنے نہیں آیا جس کی وجہ ظاہر ہے یہ ہے کہ وہ اس میدان میں آئے ہی نہیں۔ مسلم لیگ کی قیادت اب تک نوازشریف کے پاس ہے اور جب تک وہ زندہ ہیں رہے گی۔ اپنے خاندانی پس منظر کی وجہ سے شہباز شریف چاہیں بھی تو نوازشریف کو بائی پاس کر کے کچھ نہٰیں کر سکتے۔  ن لیگ کا جم غفیر نوازشریف کی طرف دیکھتا ہے نہ کہ شہباز شریف کی طرف۔ لیکن اگر الیکشن کے بعد شہباز شریف وزیراعظم بن جاتے ہیں یا پارٹی کو اگلے پانچ سال کامیابی سے مجتمع رکھتے ہیں تو شہباز شریف، نوازشریف کا نعم البدل قرار پا سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top